Friday - 2018 مئی 25
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193712
Published : 13/5/2018 17:32

حدیث سد ابواب اور علی(ع) کی فضیلت

حدیث"سد ابواب" حضرت امیر علیہ السلام کی ایسی فضیلت ہے جس میں کوئی آپ کا شریک و سہیم نہیں ہے ۔ اور خود حضرت امیر علیہ السلام نے اپنی خلافت بلا فصل اور وصائت بلا نزاع کے اثبات میں کئی مقامات پر اس حدیث سے استناد کیا ہے۔
ولایت پورٹل: قارئین جیسا کہ آپ جانتے ہیں جب سرکار رسالتمآب(ص) مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے تو آپ نے یہاں سب سے پہلے ایک مسجد کا سنگ بنیاد رکھا کہ جسے’’ مسجد النبی‘‘ کہا جاتا ہے ۔ اور اسی مسجد سے متصل کچھ کمرے بھی بنائے گئے کہ جن میں رسول اکرم(ص) کی ازواج سکونت پذیر ہوئیں۔ کچھ زمانہ گذرنے کے بعد کچھ اصحاب نے بھی اپنے گھر مسجد کے کنارے پڑی خالی جگہ میں تعمیر کرلئے کہ جن کے دو دو دروازے رکھے گئے۔ جن کا ایک دروازہ اصلی گلی میں کھلتا تھا جبکہ دوسرے دروازے کا رُخ مسجد کی طرف بنایا گیا۔اور جب نماز کا وقت ہوتا تو یہ لوگ مسجد کی طرف کھلنے والے دروازے سے مسجد میں چلے آتے تھے اور نماز سے فارغ ہوکر پھر اسی دروازے سے واپس گھر میں چلے جاتے تھے۔چنانچہ ایک عرصہ تک ایسا ہی ہوتا رہا لیکن ایک دن اللہ کے رسول پر جبرئیل امین نازل ہوئے اور تحفہ درود و سلام کے بعد اللہ کے حبیب کی خدمت میں اس کے محبوب کا یہ پیغام پہونچا دیا:اے رسول! علی کے علاوہ  آپ ان لوگوں سے کہہ دیجئے کہ مسجد کی طرف کھلنے والے اپنے گھروں کے دروازوں کو بند کرلیں۔غرض اللہ کے رسول نے بارگاہ احدیت سے موصول پیغام کو ہر ایک تک پہونچا دیا۔
اس پیغام کے بعد کچھ لوگوں نے تو اطاعت کرتے ہوئے اپنے گھروں کے دروازوں کو بند کردیا جبکہ کچھ لوگ ناراض ہوگئے اور انہوں نے اللہ کے رسول(ص) پر ہی اعتراضات شروع کردیئے اور یہاں تک کہہ دیا چونکہ علی(ع) ان کے داماد اور چچازاد بھائی ہیں اس وجہ سے ان کے علاوہ رسول اللہ(ص) نے سب کے دروازوں کو بند کروادیا ہے ۔اور اگر بند ہی کروانا تھا تو علی کا دروازہ بھی بند کرواتے؟؟؟؟
بہر کیف جتنے منھ اتنی ہی باتیں۔ سرکار ختمی مرتبت(ص) کو بڑا صدمہ پہنچا آپ نے فرمایا: رب دو جہاں کی قسم مجھے جس طرح اللہ کا حکم ہوا میں نے آپ سب تک وہی پہونچایا ہے۔ نہ میں نے کسی کا دروازہ کھلوایا ہے اور نہ ہی بند کروایا بلکہ میں نے اپنے فریضہ رسالت پر عمل کیا ہے۔(۱)
تاریخ میں اس واقعہ اور ماجرے کو ’’ سد ابواب‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے اگرچہ یہ واقعہ کب پیش آیا اس میں اختلاف ہے۔ کچھ مؤرخین کے بقول یہ ہجرت کے ابتدائی برسوں میں واقع ہوا۔(۲) جبکہ کچھ علماء اسے فتح مکہ کے بعد کے اہم واقعات میں نقل کرتے ہیں۔(۳)
قارئین کرام! حدیث"سد ابواب" حضرت امیر علیہ السلام کی ایسی فضیلت ہے جس میں کوئی آپ کا شریک و سہیم نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ بہت سے اصحاب علی(ع) کی اس فضیلت میں شریک ہونے کی تمنا اور آرزو کرتے تھے۔(۴) اور خود حضرت امیر علیہ السلام نے اپنی خلافت بلا فصل اور وصائت بلا نزاع کے اثبات میں کئی مقامات پر اس حدیث سے استناد کیا ہے چنانچہ جب تیسرے خلیفہ کی تعیین کے وقت خلیفہ دوم کی طرف سے ایک ۶ افراد پر مشتمل شوری کو تشکیل دیا گیا تو آپ نے مجمع میں موجود تمام حاضرین سے اپنی اس فضیلت کے متعلق سوال کیا: کیا میرے علاوہ یہاں کوئی ایسا ہے جسے اللہ کی کتاب نے پاک و طاہر جانا ہو اس طرح کہ خود اللہ کے رسول(ص) نے مسجد کی طرف کھلنے والے تمام مہاجرین کے گھروں کے دروازوں کو بند کروا دیا ہو اور صرف اس کے گھر کا دروازہ کھلا رکھا ہو۔(۵)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱. ابن کثیر، اسماعیل، البدایة و النهایة، دارالفکر، ۱۴۰۷ق، بیروت، ج۷ ص ۳۴۲
۲ . سیوطی، جلال الدین، الدر المنثور فی تفسیر المأثور، کتابخانه آیه الله مرعشی نجفی، ۱۴۰۴ق ، قم ج ۶ ص ۱۲۲
۳ .عاملی، سید جعفرمرتضی، الصحیح من سیرة النبی الأعظم، دارالحدیث، ۱۴۲۶ق، قم، ج ۵ ص ۳۴۳
۴ . حاکم نیشابوری، مستدرک علی الصحیحین، دارالحرمین، ۱۴۱۷ق، ریاض، ج ۳ ص ۱۲۵
۵ . امینی، عبدالحسین، الغدیر، دارالکتاب العربی، ۱۳۹۷ق، بیروت، ج ۳ ص



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 مئی 25