Friday - 2018 August 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193734
Published : 14/5/2018 16:6

شریک حیات کیسے بنائیں؟ جوانوں کے لئے رہنمائی

آج کا اہم مسئلہ جو ہمارے سماج میں بہت رائج ہے اور جسے خاصی اہمیت دی جارہی ہے یہ ہے کہ لڑکی اور لڑکا ایک دوسرے کے مانند ہوں تو شادی ہوگی۔اب ظاہر ہے کچھ چیزیں تو ایک جیسی اور مشابہ مل سکتی ہیں لیکن سوفیصدی شباہت کہاں تلاش کی جائے اور بسا اوقات یہی (تلاش) سبب بنتی ہے کہ بہت سے لوگ اس درنایاب کی تلاش میں بیٹھے اپنی عمر کا اہم حصہ کنوارے ہی گذار دیتے ہیں۔ تو کیوں نہ ہم یہ سوچیں اور غور کریں کہ شادی میں کس معیار کو اپنائیں؟کیا میاں بیوی کا ایک دوسرے کی مثل و شبیہ ہونا زیادہ بہتر ہے یا ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والا ہونا زیادہ مناسب آپشن؟

ولایت پورٹل: قارئین کرام! شادی انسان اور خاص طور پر ایک جوان کی زندگی کا ایک اہم موڑ شمار ہوتا ہے اور ساتھ ہی اس میں اتنی ظرافت پائی جاتی ہے کہ اگر یہ مسئلہ درست حل نہ ہو تو دو لوگوں کی اتنی طویل زندگی ایک ساتھ نہیں گذر سکتی اور بہت سی مشکلات وجودمیں آسکتی ہیں۔
لیکن ہمارے معاشرہ میں شادی کو لیکر اور خاص طور پر بیاہ سے پہلے کی رسم و رواج پر تو بہت توجہ دی جاتی ہے لیکن خود شادی کی معنویت اس کے اغراض و مقاصد اور افادیت پر لوگوں کی زیادہ توجہ نہیں ہوتی ۔اس جدید رشتے سے وابستہ ہر انسان شادی کے تئیں الگ خیال رکھتا ہے۔
آج کا اہم مسئلہ جو ہمارے سماج میں بہت رائج ہے اور جسے خاصی اہمیت دی جارہی ہے یہ ہے کہ لڑکی اور لڑکا ایک دوسرے کے مانند ہوں تو شادی  ہوگی۔اب ظاہر ہے کچھ چیزیں تو ایک جیسی اور مشابہ مل سکتی ہیں لیکن سوفیصدی شباہت کہاں تلاش کی جائے اور بسا اوقات یہی (تلاش) سبب  بنتی ہے کہ بہت سے لوگ اس درنایاب کی تلاش میں بیٹھے اپنی عمر کا اہم حصہ کنوارے ہی گذار دیتے ہیں۔ تو کیوں نہ ہم یہ سوچیں اور غور کریں کہ شادی میں کس معیار کو اپنائیں؟کیا میاں بیوی کا ایک دوسرے کی مثل و شبیہ ہونا زیادہ بہتر ہے یا ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والا ہونا زیادہ مناسب آپشن؟
جبکہ ہمارے یہاں زیادہ تر لوگوں کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ لڑکی یا لڑکا ایک دوسرے کے جیسے ہوں جبکہ یہ فکر غلط ہے چونکہ آپ تصور کیجئے کہ اگر لڑکا خود خواہی کا شکار ہو اور اسے بیوی بھی اسی کے مانند خود خواہ مل جائے تو کیا ہوگا؟ اگر مرد لالچی ہے اور اسے بیوی بھی لالچی مل جائے تو کیا ہوگا؟ اگر میاں زیادہ غصہ والا ہے اور اگر اسے بیوی بھی غصیلہ مزاج رکھنے مل جائے تو کیا ہوگا؟
شاید آپ بخوبی ان سوالات کے جوابات جانتے ہیں کہ پھر اس کی زندگی جہنم کا منظر پیش کرنے لگے گی اور دونوں کو ایک چھت کے نیچے سکون مل ہی نہیں سکے گا ۔لہذا جو لوگ شادی کرنا چاہتے ہیں انہیں یہ فکر کرنی چاہیئے کہ ان کی زوجہ یا ان کا شوہر(شریک زندگی) ایسا ملے جو اس کی کمیوں کو دور کرنے والا ہو ۔مشابہ نہیں۔آئیے آج کا جدید علم کس فرضیہ کو شادی کے معاملہ میں اہم مانتا ہے؟میاں بیوی ایک دوسرے کی شبیہ ہو زیادہ بہتر ہے یا ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والے ہوں تو زیادہ اچھا ہے؟
اس مسئلہ میں ماہرین کا ماننا یہ ہے کہ جب شادی کے انتخاب کا مسئلہ سامنے آئے تو ہمیں یہ دیکھنا چاہیئے کہ ہمارے مطالبات اور توقعات کیا ہیں ۔انسان اس فرد کو اپنے لئے چنے جو اس کی ضرورتوں کو پورا کرنے والا ہو مثال کے طور پر ایک بہت غصہ والا انسان ایسے شریک زندگی کی تلاش میں رہے جو صابر ہو اور جس میں تحمل کا جذبہ زیادہ پایا جاتا ہو۔
اور وہ لوگ جو اکثر گھر کی فضا سے دور رہتے ہیں ان میں ایک یہی چیز(ایک دوسرے کا شبیہ) ہونا اختلاف کی جڑ بن جاتا ہے۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 August 17