Saturday - 2018 july 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193740
Published : 14/5/2018 19:2

ولایت فقیہ پر سلسلہ وار:

فقیہ کی ولایت کیوں(1)

ہدایت بشری کے لئے تعلیم و تربیت کا جو الہی اور معصوم سلسلہ حضرت آدم سے شروع ہوا تھا آج بھی جاری و ساری ہے اور پردہ غیبت کا مکین آج بھی کشتی ہدایت کا ناخدا بن کر اپنے فرائض منصبی کو پورا کررہا ہے۔اب جبکہ انسانیت ایک لمحہ بھی رہنما کے بغیر نہیں رہ سکتی تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پردہ غیبت میں جانے سے پہلے امام(عج) نے اپنی ذمہ داریوں کو کسی حوالہ کیا یا نہیں؟ قوانین الہی کو بیان کرنے والا کوئی ذمہ دار ہے یا نہیں؟ جس طرح نبوت کی جانشینی کے طور پر امامت ضروری تھی اسی طرح امامت کا بھی جانشین ضروری ہے یا نہیں؟
ولایت پورٹل: اس عالم ہست و بود میں جس چیز کو بھی خلعت وجود سے آراستہ کیا گیا ہے اس کا کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہے تو کیونکر ممکن ہے کہ اشرف المخلوقات انسان کی زندگی کا کوئی مقصد نہ ہو۔قرآن مجید نے اس مقصد کو بیان کیا ہے اور اسے ’’سعادت ابدی‘‘ کے حصول سے تعبیر کیا ہے۔
اس ابدی سعادت تک عبادت و بندگی کے بغیر پہنچنا ممکن نہیں ہے لہذا پروردگار نے اپنی حکمت کی بنیاد پر ’’وحی و الہام‘‘ کو واسطہ بنا کر اپنے مخصوص بندوں کے ذریعہ قوانین نازل کئے تاکہ بشر انفرادی اور اجتماعی زندگی میں کامیابی و کامرانی کے ساتھ منزل مقصود تک پہونچ سکے۔الہی قوانین کے علاوہ کسی اور کے بنائے ہوئے قوانین انسان کو اس سے سعادت سے ہمکنار نہیں کراسکتے۔
دین کی زبان میں’’ وحی و الہام‘‘ کے ذریعہ پیام رسانی کے اس سلسلہ کو ’’نبوت‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ نبوت کا یہ سلسلہ ابوالبشر حضرت آدم(ع) سے شروع ہوکر ختمی مرتبت حضرت محمد مصطفٰی(ص) کی ذات گرامی پر اختتام پذیر ہوا اور وقفہ وقفہ سے قوانین میں تبدیلی اور توسیع کی جاتی رہی جو کہ مختلف شریعتوں کے نام سے موسوم ہے اور آخر کار’’روز غدیر‘‘ قوانین و شریعت کی تکمیل کی سند بھی مل گئی اور اسلام کو جامع، ابدی اور آفاقی دین کی حیثیت سے پیش کرکے سلسلہ نبوت کے خاتمہ کا اعلان کردیا گیا یعنی اب خدا کی جانب سے کوئی بھی نیا قانون آنے والا نہیں ہے بلکہ قیامت تک کے ان قوانین کی توضیح و تشریح، ان کا تحفظ، ان کو تغیر و تحریف سے محفوظ رکھنا اور ان کا اجراء درکار ہے۔
اس کام کے لئے’’امامت‘‘ کا انتخاب ہوا اور یہ تمام ذمہ داریاں امامت کے سپرد کی گئیں چونکہ امامت، نبوت کے مشن کو آگے بڑھانے والی نبوت کے کاموں کو انجام دینے والی ہے لہذا ضروری ہے کہ اس میں بھی وہی صفات پائے جائیں کہ جو نبوت میں موجود تھے۔
نبوت کی چار اہم ذمہ داریاں تھیں:
۱۔حصول وحی: یعنی وحی کے ذریعہ احکام حاصل کرنا۔
۲۔ تبلیغ وحی: یعنی لوگوں تک احکام پہونچانا اور ان کی توضیح و تشریح کرنا۔
۳۔قضاوت: یعنی عوام کے درمیان اختلافات کو فیصلہ کے ذریعہ ختم کرنا۔
۴۔حکومت و ولایت: یعنی اسلامی معاشرہ کی سربراہی و سرپرستی۔
تکمیل دین کے بعد نبوت کا پہلا مرحلہ ختم ہوچکا ہے۔ یعنی اب قوانین کی کمی و زیادتی کے لئے کوئی وحی آنے والی نہیں ہے۔’’حلال محمد قیامت تک کے لئے حلال اور حرام محمد(ص) قیامت تک کے لئے حرام ہے‘‘۔ البتہ بقیہ تین مرحلے باقی ہیں اور امامت ان تینوں مرحلوں کی ذمہ دار ہے۔
اکثر انبیاء کرام اگرچہ حکومت قائم نہ کرسکے لیکن’’عدل و قسط پر مبنی حکومت کا قیام‘‘ ان کے فرائض میں شامل تھا جس کی صراحت قرآن مجید میں موجود ہے۔ البتہ قرآن میں جناب داؤد اور حضرت سلیمان(ع) کی حکومت کا تذکرہ موجود ہے اور رسول اکرم(ص) نے بھی اسلامی حکومت قائم کی۔
اسی طرح سرکار رسالتمآب(ص) کی جانشینی میں امامت کو اب حصول وحی کو چھوڑ کر مذکورہ تینوں فرائض ادا کرنا ہیں۔ یعنی:۱۔تبلیغ احکام۔ ۲۔قضاوت۔ ۳۔حکومت و ولایت۔
امامت کے لئے درکار شرائط کے پیش نظر یہ مقام آئمہ معصومین(ع) کو حاصل ہے جنہیں خود پیغمبر اکرم(ص) نے منصوب فرمایا ہے۔
ہدایت بشری کے لئے تعلیم و تربیت کا جو الہی اور معصوم سلسلہ حضرت آدم سے شروع ہوا تھا آج بھی جاری و ساری ہے اور پردہ غیبت کا مکین آج بھی کشتی ہدایت کا ناخدا بن کر اپنے فرائض منصبی کو پورا کررہا ہے۔(یہ وہ تمام باتیں ہیں جن پر ہر شیعہ کا عقیدہ ہے اور علماء نے اپنی اپنی کتابوں میں انہیں دلائل کے ذریعہ ثابت کیا ہے)۔
اب جبکہ انسانیت ایک لمحہ بھی رہنما کے بغیر نہیں رہ سکتی تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پردہ غیبت میں جانے سے پہلے امام(عج) نے اپنی ذمہ داریوں کو کسی حوالہ کیا یا نہیں؟ قوانین الہی کو بیان کرنے والا کوئی ذمہ دار ہے یا نہیں؟ جس طرح نبوت کی جانشینی کے طور پر امامت ضروری تھی اسی طرح امامت کا بھی جانشین ضروری ہے یا نہیں؟
اس موقع پر ہم ہر اس شخص سے سوال کرتے ہیں جسے پیروی اہل بیت(ع) پر ناز ہے؟ کیا امام زمانہ(عج) غیبت کبریٰ میں جانے سے پہلے کسی کو اپنا نائب بنا کر گئے ہیں یا نہیں؟ اگر جواب ہاں! ہے تو یہیں سے ولایت فقہاء کی اہمیت و ضرورت خود بخود واضح ہوجاتی ہے۔
انشاء اللہ ہم آنے والے کالمس میں اس مسئلہ کو کسی حد تک تفصیل کے ساتھ بیان کرنے کی کوشش کریں گے۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 july 21