Sunday - 2018 Dec 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193743
Published : 14/5/2018 18:45

ندائے اتحاد:

کچھ رجعت پسند دولت کمانے کے چکر میں مسلمانوں کے درمیان پھوٹ ڈال رہے ہیں: رہبر انقلاب

انقلاب کی کامیابی کے بعد اور اس اسلامی اتحاد کے مرکز کے وجود میں آنے کے بعد سے مسلمانوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے پر مبنی امریکہ اور اس کے حواریوں کی سرگرمیاں تیز تر ہوگئیں اور انہوں نے مسلمانوں کے درمیان بھائیوں کو آپس میں لڑانا اور قتل و غارت گری شروع کردیا، آج پورے عالم اسلام میں زرخرید قلمکاروں کا یہ پیشہ اور وطیرہ بن گیا ہے کہ امریکہ کے حلیف رجعت پسندوں کی دولت کی تجوریاں اور تیل کے ذریعہ حاصل کردہ ڈالر خرچ کرکے مسلمانوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔

ولایت پورٹل: حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای(مدظلہ العالی) کی نگاہ میں اتحاد مسلمین کا مسئلہ ایسا ہے کہ جس پر اسلامی تعلیمات کی توجہ مرکوز رہی ہے اور اس کو ایک دینی فریضے کے عنوان سے دیکھا جانا چاہیئے۔
عالم اسلام کے مسلمانوں کے درمیان پائے جانے والے تفرقہ و اختلافات نیز کچھ ابتدائی دینی احکام و فرامین کے مقدمات سے سامراج اور امپیریلزم کے غلط فائدہ اٹھانے اور اس میں آئے دن ہونے والی توسیع کے پیش نظر، دوائے اتحاد وجود میں لانے کومعظم لہ ضروری امر قرار دیتے ہیں۔
بات یہ ہے کہ اگر ہم عالم اسلام کی مشکلوں کے حل کے لئے کوئی راہ حل ڈھونڈنا چاہتے ہیں یا اس سے بہتر لفظوں میں یہ کہیں کہ اگر ہم اسلام و قرآن کی عزت و سربلندی اور اس کی عظمت کی بحالی کے لئے مجاہدت کرتے ہیں تویہ امر مسلمانوں کے درمیان اختلاف سے سازگاری و مطابقت نہیں رکھتا، امام خمینی(رح) اسلامی انقلاب کی کامیابی کے پہلے سے ہی اس مقصد کو جاری رکھے ہوئے تھے اور اس بارے میں نصیحتیں کیا کرتے تھے اور انہوں نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد اسے سب کاموں کے سرفہرست قرار دیا۔
حالانکہ بہت پہلے سے سامراج نے جدائی ڈالنے کی پالیسی کو اپنے مقاصد میں سر فہر ست قرار دے رکھا تھا لیکن انقلاب کی کامیابی کے بعد اور اس اسلامی اتحاد کے مرکز کے وجود میں آنے کے بعد سے مسلمانوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے پر مبنی امریکہ اور اس کے حواریوں کی سرگرمیاں تیز تر ہوگئیں اور انہوں نے مسلمانوں کے درمیان بھائیوں کو آپس میں لڑانا اور قتل و غارت گری شروع کردیا، آج پورے عالم اسلام میں زرخرید قلمکاروں کا یہ پیشہ اور وطیرہ بن گیا ہے کہ امریکہ کے حلیف رجعت پسندوں کی دولت کی تجوریاں اور تیل کے ذریعہ حاصل کردہ ڈالر خرچ کرکے مسلمانوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔
انہیں یہ بات بخوبی معلوم ہے کہ اسلام کے اندر کشش ہے اور اس انقلاب کا مرکزدنیا کے سبھی مسلمانوں کی توجہ کو اپنی جانب مبذول کرلے گا لہٰذا امریکہ اور امپیریلزم کے لئے یہ خطرہ بڑھ گیا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی سرمایہ کاری کہیں ضائع نہ ہوجائے۔ اس لئے انہوں نے اپنی کوششوں کو تیز تر کردیا ہے۔
آج دنیا میں ضرار جیسی مسجدوں کی ساخت پر پیسے خرچ کئے جاتے ہیں، آج اتحاد اسلامی اور اسلامی فرقوں کے درمیان اختلاف وجود میں لانے اور پھوٹ ڈالنے کے لئے اداروں اور مراکز کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے۔ شیطان کی مانند ایسے لوگ موجود ہیں۔ جس نے خداوند عالم سے کہا تھا:’’لَاُغْوِیَنَّھُمْ اَجْمَعِیْنَ‘‘۔(سورہ حجر:۳۹)۔
اور(اس شیطان) اپنے وجود کو خدا کے بندوں کو بہکانے اور گمراہ کرنے کے لئے مخصوص کردیا، اسی طرح انہوں نے اپنے وجود کو تفرقہ اور پھوٹ ڈالنے کے لئے وقف کردیا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ تقریباً سبھی یا زیادہ تر اسلامی ملکوں میں کچھ لوگ امریکی پالیسیوں پر کاربند رہتے ہوئے یہی کام کررہے ہیں۔ہمارا یہ ماننا ہے کہ اسلام نے مسلمانوں اور مؤمنوں کے لئے جو وحدانیت پرست اور خدا کے ماننے والے ہیں، ان کے لئے اتحاد کو ایک فریضہ قرار دیا ہے۔ ہمارا یہ بھی ماننا ہے کہ خانہ خدا کے حج کا ایک اہم مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کو ایک دوسرے سے قریب لایا جائے۔ یہ جو خدا نے فرمایا ہے:’’وَاَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَأْتُوکَ رِجَالًا وَعَلیٰ ضَامِرٍ یَأْتِیْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ‘‘۔(؎   سورہ حج،:۲۷)۔
وہ دنیا کے سبھی مسلمانوں کو معینہ دن اور عرفات و منیٰ و مشعر اور مسجد الحرام جیسی جگہوں پر جمع کرنا ہے۔ لوگ مسلمانوں کے ایک دوسرے سے آشنا ہونے سے اس قدر کیوں ڈرتے ہیں؟ بات در اصل یہ ہے کہ اتحاد اسلامی اور مسلمانوں کے اتحادی افکار و خیالات عالمی امپیریلزم اور اس کی سربراہی میں غدار امریکہ اور پوری دنیا کو اس کے تسلط پسندانہ ذرائع کے لئے بہت خطرناک ہیں۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Dec 16