Friday - 2018 August 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193760
Published : 15/5/2018 15:13

ولایت فقیہ پر سلسلہ وار:

فقیہ کی ولایت کیوں(2)

امام معصوم اور عالم علم لدنی کی نیابت کسی غیر معصوم کے حوالہ کیسے کی جائے؟ اس مشکل کو حل کرنے کے لئے فقیہ کی خاطر’’اعدل‘‘ اور ’’اعلم‘‘ہونے کی شرط رکھی گئی ہے۔ نائب کو ’’اعدل‘‘ ہونا چاہیئے تاکہ عدالت کے اعلٰی مراتب پر پہونچ کر درجہ عصمت سے قریب ترین شخص کہلائے۔’’اعلم‘‘ ہونا چاہیئے تاکہ احکام الہی کے استنباط و استخراج میں سب سے زیادہ مہارت رکھتا ہو۔ خلاصہ یہ کہ علم و عدل دونوں میدان میں معصوم سے قریب ترین فرد ہو۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! اسی سلسلہ کے پہلے کالم میں ہم نے عرض کیا تھا کہ اللہ نے ابتدائے تخلیق سے آج تک انسان کو بغیر ہادی اور رہنما کے نہیں چھوڑا اور ہر جانے والا نبی یا امام اپنے بعد میں آنے والے اپنے جانشین کی جانشینی کی خبر دیتا رہا ہے اب جبکہ بظاہر امام معصوم(ع) تک ہماری دسترسی نہیں ہے تو کیا یہ معقول ہے کہ وہ اپنے بعد امت کی ہدایت کے لئے کسی کو منصوب و مقرر کرکے نہ جائے۔بلکہ شیعہ عقائد کی بنیاد ہی انتصاب و تقرر پر ہے اور جن کو امام نے معین کیا ہے وہ ہمارے علماء اور فقہاء ہیں۔ آئیے اس کالم میں فقہاء کے منصب کے متعلق کچھ بات کرتے ہیں تاکہ ہم کسی نتیجہ تک پہونچ سکیں۔
اسی سلسلہ کی پہلی کڑی کو پڑھنے کے لئے اس لنک پر کلک کیا جاسکتا ہے:
فقیہ کی ولایت کیوں(1)
گذشتہ سے پیوستہ:
فقہاء کی نیابت: اس مرحلہ پر بھی خداوند عالم نے انسانوں کے لئے عذر و بہانہ کا کوئی موقع فراہم نہ ہونے دیا بلکہ امام زمانہ(عج) کے ذریعہ فقہاء کو منصوب فرما کر ہر طرح سے حجت تمام کردی۔چنانچہ  سرکار ولی عصر امام زمانہ(عج) نے علماء کی پیروی کو واجب قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ:’’انھم حجتی علیکم و انا حجۃ اللہ علیھم‘‘ اور حضرت کے اس فرمان کی رو سے یہ بہانہ بھی ختم ہوگیا کہ: ہم کس سے احکام حاصل کریں؟ امام(عج) تو غیبت کے پردہ میں ہیں ان کی پیروی اور ان سے رابطہ کیسے ممکن ہے؟ چنانچہ فقہاء کو نائب بناکر اس عذر کا بھی خاتمہ کردیا گیا۔
امامت کی نیابت میں فقہاء کے بھی تین منصب ہوں گے ۔۱۔تبلیغ احکام۔ ۲۔قضاوت۔۳ حکومت و ولایت۔
فقہاء کے تین منصب
۱۔تبلیغ احکام: اس سلسلہ میں تمام فقہاء متفق ہیں کہ غیبت امام زمانہ(عج) میں احکام اسلامی کا استنباط ،فقہاء کی ذمہ داری ہے اور یقینی طور پر فقہاء کو یہ نیابت حاصل ہے۔ اسی نیابت کی بنیاد پر غیبت کبریٰ سے لیکر آج تک سلسلہ تقلید جاری ہے اور اس میں کسی کو کوئی اختلاف بھی نہیں ہے۔
فرق صرف اتنا ہے کہ امام معصوم(ع) علم لدنی کا مالک ہوتا ہے، لوح محفوظ کا مشاہدہ کرتا ہے لہذا اس کے بیان کردہ احکام یقینی طور پر حکم الہی ہوتے ہیں لیکن فقیہ کا علم ظنی ہوتا ہے۔
امام معصوم اور عالم علم لدنی کی نیابت کسی غیر معصوم کے حوالہ کیسے کی جائے؟ اس مشکل کو حل کرنے کے لئے فقیہ کی خاطر’’اعدل‘‘ اور ’’اعلم‘‘ہونے کی شرط رکھی گئی ہے۔ نائب کو ’’اعدل‘‘ ہونا چاہیئے تاکہ عدالت کے اعلٰی مراتب پر پہونچ کر درجہ عصمت سے قریب ترین شخص کہلائے۔’’اعلم‘‘ ہونا چاہیئے تاکہ احکام الہی کے استنباط و استخراج میں سب سے زیادہ مہارت رکھتا ہو۔ خلاصہ یہ کہ علم و عدل دونوں میدان میں معصوم سے قریب ترین فرد ہو۔
۲۔قضاوت: امامت کی اہم ذمہ داریوں میں سے ایک اہم ذمہ داری قضاوت ہے۔ تمام فقہاء کا اس بات پر بھی اتفاق ہےکہ فقیہ جامع الشرائط کو قضاوت کا حق حاصل ہے۔ بلکہ زمانہ غیبت میں یہ حق صرف فقیہ جامع الشرائط یا اس کے ذریعہ معین کردہ افراد کو ہی حاصل ہے۔
۳۔حکومت و ولایت: امامت کی تیسری اہم ذمہ داری اسلامی معاشرہ کی سرپرستی اور سربراہی ہے جس کے لئے حکومت درکار ہے۔ کیا اس شعبہ میں بھی فقہاء کو آئمہ کی نیابت حاصل ہے؟ اس سلسلہ میں فقہاء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔
چونکہ حکومت کا لازمہ اموال و نفوس میں تصرف ہوتا ہے لہذا یہ شبہہ سامنے آتا ہے کہ کیا: غیر معصوم دوسروں کے اموال و نفوس میں تصرف کا حق رکھتا ہے ؟اسی شبہہ کی بنیاد پر بعض فقہاء نے ’’ ولایت فقیہ‘‘ کا انکار  کیا ہے اور جو فقہاء ولایت کے قائل ہیں ان کے درمیان بھی فقیہ کے اختیارات کے سلسلہ میں اختلاف پایا جاتا ہے۔
ولایت فقیہ پر دلائل:
امام خمینی(رح) فرماتے ہیں کہ:’’ ولایت فقیہ کوئی ایسا پیچیدہ موضوع نہیں ہے کہ جس کے لئے دلیل و برہان کی ضرورت ہو بلکہ اگر انسان صحیح طریقہ سے اس کا تصور کرلے تو اس کی ضرورت کی تصدیق کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔اگر کوئی شخص اجمالی طور پر بھی اسلامی احکام سے واقف ہے تو وہ یقیناً ولایت فقیہ کا معتقد ہوجائے گا۔ آج جو ولایت فقیہ کو دلیل کے ذریعہ ثابت کرنے کی ضرورت درپیش ہوتی ہے تو اس کی وجہ مسلمانوں اور خصوصاً حوزہ علمیہ کے داخلی حالات ہیں کہ جس کی تاریخ بہت طویل ہے‘‘۔

قارئین کرام! آنے والی کڑی میں ہم ولایت فقیہ کے سلسلہ میں مزید دلائل پیش کریں گے لہذا کل کا کالم پڑھنا مت بھولئے گا۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 August 17