Friday - 2018 Oct. 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193783
Published : 16/5/2018 17:1

سعودی ولیعہد اچانک منظر سے کہاں ہوگئے غائب؟

اکثر سوشل میڈیا کے چینلز اس حادثہ میں سعودی ولیعہد کے زخمی ہونے کی بات کررہے ہیں چونکہ اس کے بعد سے کسی پریس کانفرنس یا چینل پر نہ آنا اپنے آپ میں ایک بہت بڑا سوال ہے چونکہ وہ شہزادہ جو میڈیا کی سرخیوں میں بنے رہنے کے لئے جنون کی حد تک پہونچ چکا ہو اس کا اچانک ہی منظر سے غائب ہوجانا لوگوں کے ذہن میں کچھ سوالات کو جنم دیئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

ولایت پورٹل: رپورٹ کے مطابق 21 اپریل کی شام میں ریاض کے شاہی محل پر حملہ ہوا جس میں تقریباً آدھے گھنٹے تک فائرنگ ہوتی رہی اور اسی کے بعد سے  اب تک سعودی ولیعہد بن سلمان کہیں پتہ نہیں ہے وہ میڈیا اس طرح غائب ہوگئے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔
اگرچہ ریاض کے شاہی محل پر حملے کی متعدد وجوہات بتائی جاتی ہیں کوئی کہتا ہے کہ کچھ سعودی شہزادے بن سلمان کو ختم کرنا چاہتے تھے تو کچھ لوگوں اور چینلز کا کہنا ہے کہ یہ حملہ یمنی جانبازوں کی طرف سے کیا گیا تھا۔
مجتہد نامی ٹوئیٹر اکاؤنٹ کہ جو اکثر آل سعود کے داخلی راز فاش کرنے میں مشہور ہے اس کی  اطلاع کے مطابق تو یہ حملہ سعودی ولیعہد کو ختم کرنے کے لئے کیا گیا تھا جس میں 7 لوگ بن سلمان کے حامی بھی  ہلاک بھی ہوئے تھے۔اگرچہ یہ حملہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا بلکہ اس سے پہلے بھی جدہ شہر میں شاہی محل پر شہزادوں نے حملہ کر بن سلمان کو راستہ سے ہٹانے کی کوشش کی تھی۔
جکبہ اکثر سوشل میڈیا کے چینلز اس حادثہ میں سعودی ولیعہد کے زخمی ہونے کی بات کررہے ہیں چونکہ اس کے بعد سے کسی پریس کانفرنس یا چینل پر نہ آنا اپنے آپ میں ایک بہت بڑا سوال ہے چونکہ وہ شہزادہ جو میڈیا کی سرخیوں میں بنے رہنے کے لئے جنون کی حد تک پہونچ چکا ہو اس کا اچانک ہی منظر سے غائب ہوجانا لوگوں کے ذہن میں کچھ سوالات کو جنم دیئے بغیر نہیں رہ سکتا۔
اور ان چینلز کی دلیل بھی بہت مستحکم ہے وہ یہ کہتے ہیں  کہ اس حادثہ کے بعد امریکہ کے جدید وزیر خارجہ نے ریاض کا دورہ کیا اس میں بن سلمان کہیں بھی نظر نہیں آئے بلکہ ان کے ساتھ عادل جبیر نے گفتگو اور میٹنگ کی ۔
بہر حال بات کچھ بھی ہو چاہے سعودی ولیعہد زخمی ہوئے ہوں یا کوئی اور وجہ رہی ہو ان شکوک کا دروازہ تو اسی وقت بند ہوسکتا ہے جب خود سعودی ولیعہد میڈیا کی وساطت سے لوگوں کے سامنے آئیں۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Oct. 19