Friday - 2018 August 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193811
Published : 17/5/2018 12:12

معاد کسے کہتے ہیں؟

معاد کا تعلق روح اور جسم دونوں سے ہے یعنی معاد روحانی بھی ہے اور جسمانی بھی، آخرت کی جزا و سزا بھی دو طرح کی ہیں بعض جزا و سزا عقلانی اور روحانی ہیں جن کے لئے بدن اور حسّی اعضاء کی ضرورت نہیں ہے۔

ولایت پورٹل: معاد کے معنی ’’ واپس پلٹنا ‘‘ ہیں اور شریعت کی اصطلاح میں قیامت کے دن جسم میں دوبارہ روح کی واپسی کو معاد کہا جاتا ہے۔
اس بناء پر معاد کا تعلق روح اور جسم دونوں سے ہے یعنی معاد روحانی بھی ہے اور جسمانی بھی، آخرت کی جزا و سزا بھی دو طرح کی ہیں بعض جزا و سزا عقلانی اور روحانی ہیں جن کے لئے بدن اور حسّی اعضاء کی ضرورت نہیں ہے جیسے ظالموں کے لئے دل ہلادینے والی حسرت جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:{کَذَلِکَ یُرِیہِمْ اﷲُ أَعْمَالَہُمْ حَسَرَاتٍ عَلَیْہِمْ}۔(۱)
اور پرہیزگاروں اور مقربین کے لئے رضوان الٰہی ہے چنانچہ ارشادہوتا ہے:{وَ رِضْوَانٌ مِنْ اﷲِ أَکْبَرُ}۔(۲)
دوسرے قسم کی جزا یا سزا جسمانی ہے جس کو محسوس کرنے کے لئے جسم اور جسمانی حواس کی ضرورت ہے اس قسم کے ثواب کا تفصیلی تذکرہ آیات اور روایات میں موجود ہے اور ان کی تکمیل جسم کے محشور ہوئے بغیر ممکن نہیں ہے۔
معاد جسمانی پر دلالت کرنے والی آیتوں کے علاوہ کچھ اور آیتیں بھی موجود ہیں جن میں قیامت کے منکرین کا جواب دیا گیا ہے ان آیتوں کے مطابق قیامت کے منکرین نے مرکر گَل جانے یا خاک میں مل جانے کے بعد جسم کے دوبارہ زندہ ہونے کا انکار کیا ہے یا اسے بعید قرار دیا ہے جب کہ قرآن کریم نے ان کے انکار و استعجاب کا جواب پروردگار عالم کے لامتناہی اور لا محدود علم کے ذریعہ دیا ہے۔ اگر جسمانی معاد ضروری نہ ہوتی تو ان کے جواب کا آسان ترین راستہ اس قسم کی معاد کا انکار ہی تھا نہ یہ کہ یہ کہا جاتا کہ خدا کا علم  لامحدود اور وسیع و عریض ہے یا دوسری بار خلق کرنا پہلی بارخلق کرنے سے زیادہ آسان ہے اور اس کی دلیل کے طور پر اس دنیا سے مختلف قسم کی مثالیں بیان کرنا وغیرہ ۔
کثرت سے موجود اس قسم کی آیات و روایات کی کسی طرح بھی تأویل ممکن نہیں ہے لہٰذا جن لوگوں نے معاد جسمانی کی تأویل کی ہے اور وہ صرف معاد روحانی کے قائل ہیں ان کی یہ تأویل قابل قبول نہیں ہے محقق طوسی(رح) نے یہ کہنے کے بعد کہ معاد جسمانی کو بیان کرنے والی آیتیں بہت زیادہ ہیں فرماتے ہیں کہ:’’ واکثرہ مما لا یقبل التأویل‘‘۔ان میں اکثر آیتیں ایسی ہیں جن کی تأویل  ممکن نہیں ہے‘‘ ۔ اس کے بعد انہوں نے اس قسم کی بعض آیتیں ذکر کی ہیں۔(۱)
موت کے ساتھ دنیاوی زندگی ختم ہو جاتی ہے اور انسان عالم برزخ کے مرحلہ میں داخل ہو جاتا ہے اور آخر کار اسے قیامت کے مرحلہ میں قدم رکھنا ہے جہاں وہ اپنے اعمال کی جزا یا سزا پائے گا اس طرح انسان کے لئے تین طرح کی زندگی مقدر کی گئی ہے:
۱۔دنیاوی زندگی
۲۔برزخی زندگی
۳۔اخروی زندگی
انسان کی دنیاوی زندگی کے بھی مختلف مرحلے ہیں۔دنیاوی زندگی کا اہم ترین مرحلہ تب شروع ہوتا ہے جب انسان شرعی طور پر بلوغ کی منزل میں قدم رکھتا ہے اور احکام الٰہیہ کا مکلف ہو جاتا ہے اسی مرحلہ سے اس کی اخروی زندگی وابستہ ہوتی ہے اور اس کی بنیاد پر یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ یہ انسان صالح ہو گایا فاسق وفاجر،جنتی ہوگا یا جہنمی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔بقرہ: ۱۶۷     
۲۔توبہ: ۷۲
۳۔تلخیص المحصل، ص ۳۹۳ ۔ ۳۹۴



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 August 17