Friday - 2018 August 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193963
Published : 26/5/2018 13:41

روزہ کی ایک حکمت؛قیامت کی بھوک و پیاس کا تصور

انسان کو خود اسی صورت میں بھوک پیاس محسوس ہوگی جب اس نے اپنا پیٹ نہ بھرا ہو ۔بہت سے افراد کی کوشش ہوتی ہے کہ سحری میں خوب کھائیں خوب پئیں یا ایسی چیزیں کھائیں پئیں جن کے بعد دن میں بھوک پیاس کا احساس نہ ہو جبکہ یہ روزے کے فلسفہ کے بالکل برعکس ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! رسول اکرم(ص) نے ماہ شعبان کے آخر میں جو معروف خطبہ ارشاد فرمایا اس کا ایک مشہور فراز یہ بھی ہے:’’وَاذکُروا بِجوعِکُم وعَطَشِکُم فیهِ جوعَ یَومِ القِیامَةِ وعَطَشَهُ‘‘ تم اپنے روزہ میں اپنی بھوک اور پیاس کے ذریعہ قیامت کی بھوک اور پیاس کو یاد کرو۔
روزے میں انسان کے ظاہری روزے کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ وہ کھانے پینے سے پرہیز کرتا ہے ،اسی طرح باقی چیزوں سے جنہیں حرام قرار دیا گیا ہے اور جو روزے کو باطل کردیتی ہیں۔ظاہری روزہ بھوک پیاس کا روزہ  ہوتا ہے اس کا فلسفہ یہ ہے  کہ انسان دوسروں کی بھوک پیاس کو یاد کرے اور اس کے  ذریعہ قیامت کی بھوک پیاس کا تصور کرے۔بہت سے افراد کے بارے میں حدیثوں میں ہے وہ قیامت میں پیاسے محشور ہوں گے یا قیامت میں ان پر شدید بھوک اور پیاس طاری کی جائے گی اور یہ خدا کی طرف سے ایک طرح کا عذاب ہوگا۔ جیسے قرآن  میں ہے کہ اہل دوزخ پربھوک  اور پیاس مسلط کی جائے گی  تو وہ  ’’زقوّم‘‘  کھائیں گے اور اس سے پیٹ بھریں گے  لیکن اس سے ان کی بھوک میں پہلے سے زیادہ اضافہ ہوجائے گا ۔(سورہ واقعہ،آیات ۵۲ و ۵۳) اسی طرح انہیں پینے کے لئے ’’حمیم‘‘دیا جائے گا لیکن اس سے ان کی پیاس بجھنے کے بجائے اور بڑھ جائے گی ۔(سورہ محمد ؍۱۵)۔
قیامت کی بھوک اور پیاس کو یاد کرنے کا ایک مصداق اور اسے سے بچنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ انسان دنیا میں ان انسانوں کی بھوک اور پیاس کو یاد کرے  جو خدا کی ظاہری نعمتوں سے بھی محروم ہیں ،جو دنیا میں بھوک اور پیاس کے درد میں مبتلا ہیں اور پھر ان کی بھوک اور پیاس کو دور کرنے کی کوشش کرے۔حدیث میں ہے کہ روزہ رکھو تاکہ تمہیں بھوک اور پیاس  محسوس ہو اور اس کے ذریعہ تم دوسروں کی بھوک اور پیاس کو محسوس کرو۔(من لا يحضرہ الفقیہ ، ج ۲، ص ۷۳)
نبی کریم فرماتے ہیں : ’’جو دنیا میں کسی بھوکے کو کھانا کھلائے گا پروردگار قیامت کے دن اسے  ایک ایسے دروازے سے جنت میں داخل کرے گاجہاں سے دوسرا  کوئی جنت میں نہیں جائے گا۔‘‘( تفسیر نمونہ ،ج۲۷،ص۳۰)ابن مسعود پیغمبر خدا ﷺ سے نقل کرتے ہیں:شب معراج میں نے جہنم کے تیسرے دروازے پر لکھا دیکھا:جو بھی چاہتا ہے کہ روز قیامت برہنہ نہ ہو وہ دنیا میں برہنہ لوگوں کو کپڑے عطا کرے اور جو بھی چاہتا ہے کہ اِس دن پیاسا نہ رہے وہ دنیا میں پیاسوں کو سیرا ب کرے،اور جو بھی چاہتا ہے کہ قیامت میں بھوکا نہ رہے وہ دنیا میں بھوکوں کی بھوک مٹائے‘‘(مستدرک وسائل الشیعہ،ج۳،ص۳۱۷)۔
اس لئے ماہ رمضان میں بطورخاص انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ  اپنی بھوک پیاس کے ذریعہ دوسروں کی بھوک پیاس کی جانب بھی توجہ کرے۔البتہ یہاں اس نکتے کی جانب اشارہ ضروری ہے کہ انسان کو خود اسی صورت میں بھوک پیاس محسوس ہوگی جب اس نے اپنا پیٹ نہ بھرا ہو ۔بہت سے افراد کی کوشش ہوتی ہے کہ سحری میں خوب کھائیں خوب پئیں یا ایسی چیزیں کھائیں پئیں جن کے بعد دن میں بھوک پیاس کا احساس نہ ہو جبکہ یہ روزے کے فلسفہ کے بالکل برعکس ہے۔
ایک شخص نے بھری محفل میں نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں ڈکار لی جس پر آپ نے اسے ٹوکا اور فرمایا: اتنا نہ کھایا کروکہ دوسروں کے سامنے ڈکارنے پر مجبور ہوجاؤ،جان لو کہ قیامت میں سب سے زیادہ بھوکے افراد وہ ہوں گے  جنہوں نے دنیا میں خود کو سب سے زیادہ سیر کیا ہوگا۔(اصول کافی،ج۸،ص۹۰)۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 August 17