Saturday - 2018 Oct. 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193987
Published : 28/5/2018 9:59

امریکہ ایک بد عہد ملک ہے؛ایران و ہند کے وزرائے خارجہ

ایران اور ہندوستان کے تعلقات کو صرف تجارت اور سیاست تک محدود نہیں کیا جاسکتا بلکہ تاریخ میں ان دو ممالک کے تعلقات کی روشنی دکھائی دیتی ہے۔ نیز یہ مسئلہ بھی غور طلب ہے کہ ہند و ایران کی تیل کے علاوہ دیگر صنعتوں کی تجارت تقریباً ۷ ارب ڈالر سالانہ کے قریب ہے جبکہ ایران سے تیل خریدنے کے معاملہ میں بھی ہندوستان چین کے بعد دوسرے نمبر پر آتا ہے۔

ولایت پورٹل: رپورٹ کے مطابق کل شام اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر پہونچے جہاں ان کی ہندوستانی ہمنصب سشما سوراج نے ان کا استقبال کیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے ائیرپورٹ پر اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور ہندوستان اقتصادی اور سیاسی میدان میں ایک دوسرے کے بہترین شریک رہے ہیں اور آج محترمہ سشما سوراج سے ہم بہت سے مدعوں پر گفتگو کریں گے۔
جب ظریف سے پوچھا گیا کہ ایٹمی معاہدہ سے پہلے اور بعد میں کیا ہند اور ایران کے تعلقات میں کوئی فرق پڑا ہے؟
انہوں نے جواب دیا:ایران سے ہندوستان کے تعلقات پابندیوں سے پہلے بھی تھے البتہ ایٹمی معاہدہ کے دوران یہ تعلقات مزید وسیع ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ ایران اور ہندوستان کے تعلقات کو صرف تجارت اور سیاست تک محدود نہیں کیا جاسکتا بلکہ تاریخ میں ان دو ممالک کے تعلقات کی روشنی دکھائی دیتی ہے۔ نیز یہ مسئلہ بھی غور طلب ہے کہ ہند و ایران کی تیل کے علاوہ دیگر صنعتوں کی تجارت تقریباً ۷ ارب ڈالر سالانہ کے قریب ہے جبکہ ایران سے تیل خریدنے کے معاملہ میں بھی ہندوستان چین کے بعد دوسرے نمبر پر آتا ہے۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Oct. 20