Monday - 2018 Nov 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193997
Published : 28/5/2018 12:13

رمضان المبارک میں فقراء و مساکین کے ساتھ مہربانی کرنے کی خصوصی تأکید

امام صادقؑ سے پوچھا گیا مولا!فقیر و مسکین کون ہیں تو آپ نے فرمایا ’’اَلفَقِیرُ اَلَّذِى لَایَسئَلُ النَّاسَ،وَ المِسکِینُ اَجهَدَ مِنهُ‘‘فقیر وہ ضرورتمند ہے جو لوگوں سے مانگتا نہیں ہے،ان کے سامنے دست سوال درا ز نہیں کرتا ہے اور مسکین وہ ہے جس کی حالت فقیر سے بھی بدتر ہو۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! رسول اکرم(ص) نے ماہ شعبان کے آخر میں جو معروف خطبہ ارشاد فرمایا اس کا ایک مشہور فراز یہ بھی ہے:’’ وَتَصَدَّقوا عَلى فُقَرائِکُم ومَساکینِکُم ‘‘تم اس مہینہ میں اپنے فقراء و مساکین کو صدقات دے کر اعانت کرو۔ رمضان المبارک صدقات ، خیرات اور انفاق کا مہینہ ہے۔اس میں انسان کا دل دوسرے مہینوں سے زیادہ خرچ کرنے اور بخشش کے لئے آمادہ ہوتا ہے ،اس لئے اس مہینے میں جہاں انسان خود خدا کی نعمتوں سے مستفید ہوتا ہے،اپنے گھر والوں کے لئے مختلف طرح کی نعمتیں فراہم کرتا ہےمؤمنین کو افطاری کھلاتا ہے ؛وہیں بطور خاص فقرا ءو مساکین کا خیال رکھنا ضروری ہے،کیونکہ یہ ان کا حق ہے۔قرآن سورہ بقرہ کے بالکل آغاز میں متقین کی کچھ علامتیں بیان کرتا ہے  جن میں ایک علامت انفاق ہے"وَمِمّا رَزَقناهُم يُنفِقونَ "خدا نے انہیں جو رزق دیا ہے اس میں سے اس کے راستے میں کرچ کرتے ہیں۔البتہ یہاں اپنے لئے خرچ کرنا مراد  نہیں ہے وہ تو سبھی کرتے ہیں ،وہ بھی کرتے ہیں جو خدا کو نہیں مانتے بلکہ کسی بھی چیز کو نہیں مانتے اس کا مطلب یہ ہے کہ مؤمنین  ان چیزوں میں خرچ کرتے ہیں جن کے لئے خدا نے کہا ہے۔اس راستے میں خرچ کرتے ہیں جس کے لئے خدا کا حکم ہے۔اور یہ سمجھتے ہوئے خرچ کرتے ہیں کہ جو بھی وہ خرچ کررہے ہیں ،خیرات اور انفاق کررہے ہیں وہ ان کا اپنا نہیں بلکہ خدا کا دیا ہوا ہے۔
یہاں یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ فقیر اور مسکین کون ہے؟ امام صادقؑ سے پوچھا گیا مولا!فقیر و مسکین کون ہیں تو آپ نے فرمایا ’’اَلفَقِیرُ اَلَّذِى لَایَسئَلُ النَّاسَ،وَ المِسکِینُ اَجهَدَ مِنهُ‘‘فقیر وہ ضرورتمند ہے جو لوگوں سے مانگتا نہیں ہے،ان کے سامنے دست سوال درا ز نہیں کرتا ہے اور مسکین وہ ہے جس کی حالت فقیر سے بھی بدتر ہو۔(اربعین شیخ بہائی،ص۱۷۳)
انفاق و خیرات کے وقت کچھ چیزوں کو دھیان میں رکھنا بہت ضروری ہے ورنہ یہ بھی ممکن ہے کہ انسان خیرات کرتا رہے لیکن خدا کی بارگاہ میں اسے قبول نہ کیا جائے،اگرچہ صدقات وخیرات فقیر  و مسکین تک پہنچنے سے پہلے خدا تک پہنچتے ہیں اور لینے والا درحقیقت خدا ہوتا ہے وہ فقیر و مسکین نہیں  جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے:’’ أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ ‘‘(سورہ توبہ:۴)کیا وہ نہیں جانتے کہ خدا توبہ کو قبول کرتا ہے اور صدقات لیتا ہے۔
۱۔انفاق کرتے وقت انسان کو یہ دھیان رکھنا چاہیے کہ وہ جو بھی انفاق کررہا ہے وہ اس کا اپنا نہیں بلکہ خدا کا دیا ہوا ہے۔
۲۔جب وہ کسی فقیر و مسکین کو دے تو یہ سوچ کر دے کہ یہ فقیر و مسکین کا حق تھا جو اس کے پاس امانت تھا اور اب وہ امانت لوٹا رہا ہے۔اس لئے کسی طرح کے احسان کا تصور نہیں آنا چاہیے بلکہ اس کے برعکس فقیر و مسکین کے تئیں تشکر کا جذبہ پیدا ہونا چاہیے کہ اس کے ذریعہ ایک بوجھ اس کے کاندھے سے اترگیا ۔
۳۔انفاق و خیرات مخفی طور پر کرے جیسا کہ شریعت کا حکم ہے  اس کا مطلب یہ ہے کہ نہ کسی کے سامنے اظہار کرے اور نہ علی الاعلان خیرات کرے کیونکہ اس میں ریاکاری کا شائبہ پایا جاتا ہے  جس کی وجہ سے عمل کے ضائع ہونے کا  امکان پایا جاتا ہے۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Nov 19