Friday - 2018 Oct. 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194019
Published : 29/5/2018 12:54

ایران میں 17000 لوگوں کو موت کی نیند سُلانے والا دہشتگرد ٹولہ؟؟؟

اس منافق ٹولے نے اسلامی جمہوریہ ایران میں ہزاروں بے گناہ لوگوں کو قتل عام کرکےشہید کیا ہے جبکہ ایران عراق جنگ میں اپنے ملک کے ساتھ خیانت کرتے ہوئے''صدام حکومت'' سے جاملے تھے اور ملک کے اندر متعدد خونریز کارروائیاں کرکے 17000 سے زائد ایرانیوں کو خاک و خوں میں غلطاں کیا تھا۔

ولایت پورٹل: قارئین جیسا کہ آپ جانتے ہیں جب سے دنیا میں دہشتگردی جیسی لعنت نے جنم لیا اس وقت سے اب تک نہ جانے کتنے بے گناہ لوگ ان کا نشانہ بن چکے ہیں۔
ویسے تو دہشتگردی کی تاریخ بڑی پرانی ہے لیکن موجودہ دہشتگری کی جڑیں باقاعدہ طور پر ۱۹۷۹ء میں روس کے افغانستان میں قبضہ کے بعد سے شروع ہوئی جس میں سب سے پہلے مجاہدین افغانستان وجود میں آئے کہ جن کی سرپرستی امریکہ اور بعض دیگر ممالک انجام دے رہے تھے اور کہا جاتا ہے کہ روس کے افغانستان میں قبضہ کے دوران تقریباً  ۱۵ لاکھ لوگ ہلاک ہوئے اور پھر بعض اسلامی ممالک کی فنڈنگ سے ایک دوسرا خونخوار گروہ وجود میں آیا جس کا نام طالبان تھا،اس کے بعد تو کیا تھا ہر طرف اور ہر ملک میں کوئی نہ کوئی دہشتگردی کا نیٹورک بن کر تیار ہوچکا ہے ۔
اسی طرح جمہوری اسلامی ایران میں بھی انقلاب اسلامی کی کامیابی مغربی ممالک کے تعاون سے متعدد دہشتگرد ٹولے معرض وجود میں آئے جن میں سب سے خطرناک ٹولہ’’منافق‘‘ ہے۔
اس منافق ٹولے نے اسلامی جمہوریہ ایران میں ہزاروں بے گناہ لوگوں کو قتل عام کرکےشہید کیا ہے جبکہ ایران عراق جنگ میں اپنے ملک کے ساتھ خیانت کرتے ہوئے''صدام حکومت'' سے جاملے تھے اور ملک کے اندر متعدد خونریز کارروائیاں کرکے 17000 سے زائد ایرانیوں کو خاک و خوں میں غلطاں کیا تھا۔
اس انسان دشمن ٹولے کو انسانی حقوق کی تنظیم اور دیگر بین الاقوامی اداروں نے دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں شامل کر دیا تھا لیکن حالیہ یورپی ایران دشمن پالیسیوں کے نتیجے میں منافقین کو اس لسٹ سے خارج کردیا گیا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کی اپوزیشن پارٹیوں نے بھی اس گروہ کو ایرانی قوم کے خلاف صدام کی حمایت میں کارروائیوں کی وجہ سے دہشت گرد اور ملک دشمن تنظیم قرار دیا ہے۔
اس منافق ٹولے کے ہاتھوں اسلامی جمہوریہ ایران کے سابق وزیراعظم، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، پارلیمنٹ کے اراکین، آئمہ جمعہ و جماعت اور جید علماء سمیت 17 ہزار ایرانی شہادت کے درجے پر فائز ہوچکے ہیں۔
یاد رہے کہ یہ منافق ٹولہ پاکستان کی سرزمین پر بھی کچھ عرصہ غیر قانوںی طور پر سرگرم رہا ہے یہ گروہ پاکستان میں بیٹھ کر لوگوں کو اسلامی جمہویہ کے خلاف آمادہ کرکے اپنے ملک کے اندر کارروائیاں کرانے میں مصروف تھا تاہم پاکستان کے سکیورٹی اداروں نے اس گروہ کی تمام تر سرگرمیوں پر پابندی لگا دی۔
منافق ٹولے کی موجودہ رہنما مریم رجوی اس گروہ کے سابقہ سرکردہ "ابریشمچی" کی اہلیہ تھی لیکن اس گروہ کے فاسد اورکفریہ عقائد کی وجہ سے بغیر طلاق لئے "مسعود رجوی" کے ساتھ شادی رچالی۔
کہا جاتا ہے کہ اس منافقین ٹولے میں شادیاں اسلامی عقائد کی بجائے، اس گروہ کے اعلی حکام کے احکامات پر بغیر طلاق لئے رچائی جاتی ہیں۔
یہ گروہ غیراخلاقی کردار اور فاسد اعتقادات میں مشہور ہے، کچھ عرصہ پہلے "ترکی فیصل" نے مسعود رجوی کی موت کی خبر دی تھی، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ خبر ترکی فیصل اور مریم رجوی کے درمیان غیر اخلاقی سرگرمیوں پر پردہ ڈال کرشادی کا ڈھونگ رچانے کا ایک مقدمہ ہے۔
عراق پر امریکی قبضے اور اس ملک کا عراق سے خارج ہونے کے بعد عراقی قوم نے اس منافق ٹولے کو مختلف جرائم کا مرتکب ہوتے دیکھا ہے جس کی وجہ سے عراقیوں نے اس گروہ کے کیمپ پر حملہ کرکے بعض کو ہلاک کردیا تھا، اس گروہ کے بعض ارکان نے اس حملے کے بعد امریکی سرپرستی میں بغداد کے ایک دوسرے علاقے میں لیبرٹی کیمپ میں پناہ لی ہے، بہت سارے ممالک اس گروہ کو انسان دشمن کارروائیوں کی وجہ سے پناہ دینے سے گریزاں ہیں۔
حالیہ مہینوں میں سعودی عرب نے کچھ یورپی انسانی حقوق کے داعی ممالک سے مل کر اس دہشت گرد منافق ٹولے کو پھر سے منظم کرنے کے لئے خطیر رقم خرچ کی ہے تاکہ اس گروہ کے ذریعے  ایران میں واردات کروا کر اسلامی انقلاب کو نقصان پہنچایا جا سکے۔
یاد رہے کہ اس ٹولے نے اردن اور یورپ میں جا کر داعش کے راہنماؤں سے ملاقات کرکے اس گروہ کے سرکردہ افراد کے ساتھ باقاعدہ بیعت کی ہے۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Oct. 19