Friday - 2018 August 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194038
Published : 30/5/2018 12:31

مولانا احسان جوادی کے انتقال پر ہندوستان میں رہبر انقلاب کے نمائندے کا تعزیت نامہ

مرحوم نے اپنے والد ماجد علامہ جوادی کی تاسی کرتے ہوئے بصیرت افروز مجالس اور تقاریر کے ساتھ ساتھ بہت سی کتابوں کو تالیف یا ترجمہ کر انہیں اپنی علمی یادگار کے طور پر چھوڑا۔مرحوم ہمیشہ اسلامی انقلاب ،ولایت فقیہ اور مرجعیت کے حقیقی مدافع تھے اور آپ نے نسل جوان کو بیدار کرنے کے لئے کسی کوشش سے دریغ نہیں کیا

انا لله وانا اليه راجعون
جلیل القدرعالم دین حجۃ الاسلام و المسلمین مولانا سید احسان حیدر جوادی کی  اچانک وفات  کی خبر سن کر دلی صدمہ اور نہایت افسوس ہوا۔
آپ ایک مقتدر الکلام خطیب،دین کے ہمدرد خدمت گذار،صاحب حسن خلق اور انقلابی عالم تھے جس نے اپنی بابرکت حیات میں خواہران سے متعلق دو حوزات، ایک شہر بمبئی میں اور دوسرا شہر الہ آباد میں قائم کئے،اور مرحوم نے اپنے والد ماجد علامہ جوادی کی تاسی کرتے ہوئے بصیرت افروز مجالس اور تقاریر کے ساتھ ساتھ بہت سی کتابوں کو تالیف یا  ترجمہ کر انہیں اپنی علمی یادگار کے طور پر چھوڑا۔مرحوم ہمیشہ اسلامی انقلاب ،ولایت فقیہ اور مرجعیت کے حقیقی مدافع تھے اور آپ نے نسل جوان کو بیدار کرنے کے لئے کسی کوشش سے دریغ نہیں کیا۔ لہذا اس عزیز اور باوفا دوست کے فقدان  کی حضرت ولی عصر(رج) مدارس دینیہ ،ہندوستان کے گرانقدر علماء،علامہ جوادی کے بیت شریف اور پورے گھر والوں کو اور خاص طور پر آپ کے بڑے بھائی عالی جناب مولانا سید جواد حیدر اور مرحوم کے بچوں اور داغدیدہ اہلیہ کو تعزیت و تسلیت پیش کرتا ہوں اور خداوند عالم سے تمام پسماندگان کے لئے صبر جمیل اور اجز جزیل کی دعا کرتا ہوں۔
غفرالله لنا وله وحشره مع اجداده الطاهره والائمه المعصومين(ع)وجعله في اعلي عليين
والسلام
مهدي مهدوي پور
نمائندہ ولی فقیہ در ھند
13 رمضان المبارک 1439 ہجری
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 August 17