Thursday - 2018 June 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194060
Published : 31/5/2018 13:9

امام حسن(ع) اور دین کی بقا

ایسا لشکر جس کا مقصد ایک نہ وہ کبھی میدان جنگ کا فاتح نہیں بن سکتا۔ چنانچہ اسی کمزوری کا فائدہ امیر شام نےاٹھایا اور ضمیر فروش سرداروں کو خرید لیا اب علی کے بیٹے کے پاس صرف ایک راستہ تھا کہ وہ صلح کر دین کو بچا لیں اور اپنے حق سے صرف نظر کرلیں
ولایت پورٹل: تاریخ اسلام میں سب بڑی مشکل یہ پیش آتی رہی کہ دین کا دم بھرنے والے تو بہت ملے لیکن جب عمل کے بعد نتیجہ کی نوبت پہونچی تو معاملہ بلکل برعکس نظر آیا چونکہ ان کے یہاں کہیں نہ کہیں’’انانیت‘‘ یعنی میری بات،میری فکری،میری کامیابی وغیرہ جیسے جذبات کارفرما تھے اور ان میں سے کوئی بھی جذبہ یا لفظ اسلام کی بقاء کا عکاس نہیں ہے۔
لیکن امام حسن(ع) کی زندگی میں ابتداء سے انتہاء تک ہمیں جو جذبہ کارفرما نظر آتا ہے اس کا نام ہے’’دین کی بقا‘‘ اور بس۔ چنانچہ جب آپ مسجد کوفہ میں لوگوں کو معاویہ کے خلاف جنگ میں بلاتے ہیں تو فرمایا:
“ولولم یبق لبنی امیه الا عجوز درداء لبغت دین الله عوجا..‘‘ اگر بنی امیہ میں ایک اپاہج بڑھیا بھی باقی رہے گی تو وہ دین خدا کو منحرف کرنے میں ہی مشغول ہوگی۔
لہذا امام علیہ السلام نے کوفہ سے 4 ہزار سپاہیوں پر مشتمل ایک لشکر ترتیب دیا اور صفین کی طرف چلے پڑے۔لیکن معاوہہ نے آپ کے اکثر سرداروں کو خرید لیا اور تاریخ میں یہ تعبیر تک ملتی ہے: “فقلب علی الحسن” یعنی وہ خود امام حسن(ع) کی جان کے ہی دشمن ہوگئے۔یہی وہ مرحلہ ہے جہاں علی کے اس شجاع بیٹے نے فرمایا: “لو وجدت انصارا لقاتلته لیلی و نهاری ..” اگر میرے پاس انصار و یاور ہوتے تو میں معاویہ سے دن رات جنگ کرتا۔
چونکہ امام حسن(ع) کے لشکر والوں میں چار طرح کے لوگ تھے:
۱کچھ لوگ تو بہت مخلص تھے۔(یہ لوگ معدودے چند افراد ہی تھے)
۲۔کچھ لوگ خوارج تھے۔
۳۔کچھ مال و زر اور غنیمت کے چکر میں آئے تھے۔
۴۔کچھ لوگ اپنے قبیلوں اور سرداروں کی شان و شوکت کے لئے میدان میں آئے تھے۔
لہذا ایسا لشکر جس کا مقصد ایک نہ وہ کبھی میدان جنگ کا فاتح نہیں بن سکتا۔ چنانچہ اسی کمزوری کا فائدہ امیر شام نےاٹھایا اور ضمیر فروش سرداروں کو خرید لیا اب علی کے بیٹے کے پاس صرف ایک راستہ تھا کہ وہ صلح کر دین کو بچا لیں اور اپنے حق سے صرف نظر کرلیں چنانچہ آپ نے فرمایا ہے: ؛”ان معاویه نازعتی علی حق هو لی دونه فنظرت صلاح الامۃ”معاویہ نے مجھ سے  میرے مسلم حق کے معاملہ میں جھگڑا کیا  لیکن میں نے صرف اس چیز کی طرف دیکھا کہ جس میں دین و امت کی بھلائی تھی۔





آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 June 21