Monday - 2018 June 25
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194061
Published : 31/5/2018 13:14

امام حسن علیہ السلام کی عبادت اور خشوع

جب امام حسن علیہ السلام اللہ کے حضور نماز کے لئے حاضر ہوتے تو پورے اہتمام سے حاضر ہوتے ، بہترین لباس زیب تن کرتے کسی نے سوال کیا آپ نماز کے لئے اچھا لباس کیوں پہنتے ہیں تو آپ فرماتے خدا صاحب جمال ہے اور جمال و خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے۔
ولایت پورٹل: امام حسن علیہ السلام کی عبادت و بندگی کا یہ عالم تھا کہ آپکو جب بھی کوئی دیکھتا تو ذکر الہی میں مشغول پاتا  تھا۔ کسی نے بھی آپکو بغیر ذکر کے نہ دیکھا جب بھی آپ پر نظر پڑتی تو آپ مشغول عبادت و ذکر الہی نظر آتے  تھے۔ آپکی عبادت و آپکے صدقات ہی آپ کی پہچان بن گئے اور جب آپکی شخصیت کا ذکر آتا ہے تو یہ بات ضرور بیان ہوتی ہے کہ آپ عبادت میں مشغول رہنے والے اور صدقہ دینے والے تھے۔ آپ کے دور میں آپ سے زیادہ عبادت کرنے والان کوئی نہ تھا  آپ اپنے دور میں سب  سے بڑے عابد، سب سے بڑے زاہد ، اور سب سے زیادہ فضیلت کے حامل تھے۔
خدا کی بارگاہ میں آپکے خضوع و خشوع کا عالم یہ تھا کہ جب وضو کا پانی آتا تو آپکے چہرے کا رنگ متغیر ہو جاتا تھا کسی نے سوال کیا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے تو آپ نے جواب دیا کیسے ممکن ہے کہ انسان خدا کے حضور جانے کے لئے آمادہ ہو اور اس کے چہرہ کا رنگ متغیر نہ ہو یہ تو ہر اس بندہ کے لئے سزاوار ہے جو اپنے رب کی بارگاہ میں جانا چاہتا ہے کہ جب مالک کے سامنے آئے  تو اسکی پنڈلیاں کانپ رہی ہوں اسکا رنگ تبدیل ہو جائے۔ اسی لئے آپ کے بارےمیں ملتا ہے جب آپ مصلائے عبادت پر کھڑے ہوتے تھے تو آپکے پیر خوف خدا سے کانپا کرتے تھے ۔
جب آپ اللہ کے حضور نماز کے لئے حاضر ہوتے تو پورے اہتمام سے حاضر ہوتے ، بہترین لباس زیب تن کرتے کسی نے سوال کیا آپ نماز کے لئے اچھا لباس کیوں پہنتے ہیں تو آپ فرماتے خدا صاحب جمال ہے اور جمال و خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے۔
امام حسن علیہ السلام  کے سلسلہ میں ملتا ہے کہ آپ نے زیادہ تر حج پاپیادہ حالت میں کئے جب کسی نے آپ سے سوال کیا تو آپ نے جواب دیا مجھے شرم آتی ہے خدا کے حضور اپنے پیروں سے چل کر نہ جاؤں ۔آپکے لئے ملتا ہے کہ آپ نے ۲۵ حج پا پیادہ کئے۔جب آپ مسجد کے نزدیک پہنچتے تو سر کو بلند کر کے خدا کے حضور فرماتے مالک ! تیرا مہمان تیرے حضور کھڑا ہے ، ائے احسان کرنے والے تیرا گناہگار تیرے در پر موجود ہے  پس ائے کریم! میری برائیوں کو ان اچھائیوں سے بدل دے جو تیرے پاس ہیں۔آپ نماز صبح کے بعد سے طلوع شمس تک کسی سے گفتگو نہ فرماتے صرف محو عبادت رہا کرتے تھے۔( ان الحسن علیه السلام کان اذا فرغ من الفجر لم یتکلم حتی تطلع الشمس،  مناقب ج 14 بحارالانوار ج 43 ص 339. )

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 June 25