Tuesday - 2018 August 14
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194090
Published : 3/6/2018 12:48

آہ امام راحل

امام خمینی تمام مسلمانوں کے رہبر ، آزادی کے پرستاروں کے دل کی دھڑکن ،حریت پسندوں کو انداز زندگی سکھانے والے مجاہد ،عارف باللہ و سالک الی اللہ ،عالم کامل ، مجتہد مسلم ،صاحب تصنیف و تألیف،معروف شاعر اور انقلاب اسلامی ایران کے بانی ہیں۔آج بھی آپ کا نام سن کر استمار لرزہ براندام ہوجاتا ہے۔

ولایت پورٹل: ہزاروں  سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے ۔بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
آج دنیا بھر کے مسلمانوں کے رہبر ، آزادی کے پرستاروں کے دل کی دھڑکن ،حریت پسندوں  کو انداز زندگی سکھانے والے مجاہد ،عارف باللہ  و سالک الی اللہ ،عالم کامل ، مجتہد مسلم ،صاحب تصنیف و تألیف،شاعر اور انقلاب اسلامی ایران  کے بانی  امام راحل سید روح اللہ  خمینی علیہ الرحمۃ کی برسی کا دن ہے وہ ایسی شخصیت  ہیں جو بے نظیر ہے۔ جسکی زندگی مسلسل جد و جہد سے عبارت ہے ۔
امام خمینی کے مختصر حالات
سید روح اللہ الموسوي الخميني 20 جمادي الثاني 1320 ہجري مطابق 24 ستمبر 1902 عيسوي کو ايران کے مرکزی صوبے کے شہر خمين کے ایک علمی خاندان ميں پیدا ہوئے۔ امام خميني کے پدر بزرگوار آيت اللہ سيد مصطفي تھے جو  آيت اللہ العظمي ميرزاي شيرازي کے ہم عصر تھے۔امام خمینی وہ شخصیت ہیں جس نے  5 سال کی عمر میں یتیمی کا دکھ سہا اور 15 سال کی عمر میں مہربان ماں اور محبت کرنے والی پھوپی صاحبہ خانم کی مہر و محبت سے محروم ہوگیا یقیناً اسی دکھ درد اور مشکلات کے مقابلہ نے انہیں مضبوط ارادہ کا مالک بنادیا تھا جس کی وجہ سے وہ عظیم کارنامے انجام دے سکے  ۔ ماں باپ کے انتقال کے بعد بڑے بھائی سید مرتضی پسندیدہ  نے آپ کی  پرورش کی۔ آپ 19 سال تک اپنے وطن خمین ہی میں ابتدائی تعلیم حاصل کرتے رہے۔ پھر اعلٰی دینی تعلیم کیلئے   اراک گئے وہاں شیخ عبدکریم حائری اور آیت اللہ شاہ آبادی سے کسب فیض کیا ،جب شیخ حائری نے قم کوچ کیا تو آپ بھی انہی کے پیچھے قم چلے گئے اور وہاں تحصیل و تدریس میں مشغول رہے آپ کے درس فلسفہ میں 500 شاگرد شریک ہوا کرتے تھے ۔درس و تدریس کے باوجود آپ نے عربی اور فارسی زبان میں مختلف موضوعات پر  24گراں قدر کتابیں تحریر کیں اور 27 سال کی عمر میں آپ درجہ اجتہاد پر فایز ہوگئے تھے۔ اسی عمر میں آپ نے ،مرزا محمد ثقفی کی صاحبزادی سے شادی کی۔
امام خمینی کے سیاسی مبارزات  اور انقلاب اسلامی ایران کی بنیاد
آپ کا دور پہلوی شہنشاہ ڈکٹیٹر محمد رضا شاہ پہلوی کی حکومت کا دور تھا  محمد رضا استعماری پٹھو تھا  وہ ایک بے دین اور اسلام دشمن شخص تھا جس کو حوزہ اور  دینی مدارس  سے خاص  خصومت تھی ۔وہ نوجوان طلاب کو جائز و ناجائز ستایا کرتا تھا۔ اس نے عزاداری پر پابندی لگادی کہ کہیں علماء لوگوں کو دین اور ان کے بنیادی حقوق کےبارے میں بیدار نہ کردیں۔اسی  کے زمانے میں  عورتوں کو کشف حجاب(بے پردگی) پر مجبور کیا گیا ۔ہر طرف دین اور قانون کی خلاف ورزی ہورہی تھی ۔اور ایک وہ وقت بھی آیا کہ حکومت کی طرف سے یہ قرار داد منظور کی گئی کہ انتخابات میں امیدوار اور رائے دہندگان کیلئے اسلام کی شرط کو ختم کردیا جائے اور قرآن کی قسم کھانے کو لغو قرار دیا یہ ایک سازش تھی کہ ملک پر غیر ملکیوں اور دشمنان اسلام کو مسلط کرنے کی راہ کھولی جائے ۔علماء قم نے امام خمینی کی رہبری میں اس  قرار داد کے  خلاف آواز اٹھائی اور اس حکم کو منسوخ کروایا ۔حکومت نے عوام  کا رشتہ علماء سے توڑنے کیلئے حقوق نسواں اور حقوق انساں کے مبہم نعرے لگائے تاکہ علماء اور عوام میں افتراق ہو مگر عوام نے امام خمینی کا ساتھ دیا اور رضا شاہ کی اسلام دشمنی کے خلاف آواز اٹھاتے رہے۔عوام اور علماء کی  اس متحدہ مزاحمت کی تاب نہ لاکر رضا شاہ نے 25 شوال شہادت امام صادق کے دن 22 مارچ 1963 میں فیضیہ میں حملہ کروادیا جس میں کئی طلاب شہید ہوگئے ۔امام خمینی نے  اس واقعہ کے بعد ڈٹ کر حکومت سے مقابلہ کیا درس و تدریس اور بیانات اور خطوط میں شاہ کے خلاف یہ کہتے رہے کہ  تمہارے سپاہیوں کی سختیاں بھی برداشت کرلوں گا مگر تمہاری زیادتیاں  قبول نہیں کروں گا۔  اے رضا شاہ! سن جب روس برطانیہ اور امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو لوگ  نقصان اٹھانے کے بعد بھی خوش تھے کہ پہلوی چلاگیا کہیں  تجھے بھی بھاگنا نہ پڑے تو پینتالیس برس کا ہوگیا ہے اب اپنی ان بیجا حرکتوں   کو بند کر ،ظلم ستم روک دے، یہ انقلاب سفید،یہ نمائشی اصلاحات ،زن  و مرد کی مساوات کے گمراہ کن نعرے، اسرائیل کی حمایت اور بہائیت کی ترویج چھوڑدے ۔
امام خمینی نے اس قسم کے بیانات سے تہلکہ مچادیا امام کے افکار عام ہوئے عوام مظاہروں کیلئے سڑکوں پر آگئے۔ جس کی تاب نہ لاکر رضا شاہ نے 5 جون 1963 کو مظاہرین پر حملہ کروادیا ۔جس میں پندرہ ہزار  افراد شہید ہوگئے۔پھر امام خمینی کو بھی نظر بند کردیا گیا پہلے نظر بند کیا اس کے بعد جلاوطن کردیا ۔آپ نے پہلے  ترکیہ  پھر عراق اور ایک مختصر عرصہ  فرانس میں کاٹا ۔لیکن اس عرصے میں آپ انقلابی علماء کی تربیت کرتے رہے ۔جنہوں نے اندرون اور بیرون ملک  انقلاب کی فضا تیار کی ۔امام خمینی نے اسلامی حکومت کا خاکہ پیش کیا اور حکومت اسلامی کے نام سے ایک کتاب بھی شایع کی اور15  سال کی جلاوطنی کے بعد امام خمینی 22 بہمن 1357  شمسی مطابق 1 فروری 1979 کو ایران کی سرزمین پر قدم رکھا اور اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی اور گیارہ سال تک اسکی رہبری کرتے رہے آخر کار 13 خرداد 1368 مطابق 3 جون 1989 ہفتہ کو رات دس بج کر بیس منٹ پر راہی عالم بقاء ہوئے۔انا للہ و انا الیہ راجعون
ہم اس غم انگیز موقعہ پر تمام امت مسلمہ ،شیعیان حیدر کرار ،بالخصوص ایرانی عوام اور رہبر عزیز ولی امر مسلمین آیت اللہ خامنہ ای کی خدمت میں تسلیت پیش کرتے ہیں۔

پیشکش :مجمع علماء و خطباء حیدرآباد
17 رمضان 1439 مطابق 2 جون 2018ء




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 August 14