Tuesday - 2018 August 14
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194107
Published : 5/6/2018 17:4

شب قدر میں کچھ اپنے لئے بھی؟!

بی بی فاطمہ سلام اللہ علیھا کے دونوں شہزادے ( امام حسن و امام حسین(ع) )ابھی چھوٹے تھے ، رمضان کریم کا مہینہ تھا شب قدر تھی ۔آپ نے سر شام بچوں کو سلا دیا اور آدھی رات کے بعد جگا دیا تاکہ سحر تک بچے بیدار رہیں بیچ بیچ میں انھیں کھجوریں اور پانی دیتی رہیں۔ذرا سوچئیے تو صحیح ! شہزادی اپنے ننھے منے بچوں تک کو ان شبوں میں جگاتی ہیں آخر کوئی اہم شب ہوگی نہ ؟

ولایت پورٹل: بندوں سے پیار و محبت انکی ہر چھوٹی بڑی ضرورت کا خیال رکھنا صرف اللہ تعالی ہی کا کام ہے بندہ سمجھے یا نہ سمجھے، رات و دن اور پوری عمر وہی اسکی تمام ضرورتوں اور حاجتوں کو بے مانگے پورا کرتا رہتا ہے مگر یہ بندہ جاہل بھی ہے، اور اپنے نفس پر ستم کرنے والا بھی۔ چونکہ اللہ تعالی عالم  و قادر ہے اس لئے وہ اپنے علم و قدرت کی بنا پر ہر کام حساب و کتاب کے دائرہ میں انجام دیتا رہتا ہے جیسا کہ خداوند تعالی انسان کی جہاں جسمانی ضرورتوں کو کھانے پینے اور غلہ کی پیداوار سے پورا کرتا ہے  وہیں اسکی روحی و معنوی ضرورتیں بھی پوری کرتا ہے اس لئے اس نے نماز و روزہ کے احکام بھیج کر اس قسم کی ضرورت کو بھی خوب خوب پورا کیا ہے رمضان الکریم کا مہینہ بندوں کے لئے مخصوص کر دیا، اپنی رحمت و مغفرت کا سایہ کیا جہنم کے دروازے بند کر دیئے، شیطان کو جکڑ دیا تاکہ اس کا بندہ اس مہینہ سے فیضیاب ہوسکے، پورا مہینہ عظمت و بزرگی اور کمالات روحانی و جسمانی فوائد سے بھر دیا ۔
رمضان کب سے با برکت بنا :
 یہی نہیں کہ دین اسلام میں یہ مہینہ افضل قرار پایا بلکہ تاریخ انسانیت کے آغاز سے اور شریعتوں کے نزول سے لیکر شریعت محمدی کی آمد تک اس مہینہ کی برکتیں ہمیشہ یکساں اور جاری و ساری رہیں ساری آسمانی کتابیں اس میں نازل ہوئیں۔ حضرات موسی و عیسی علیھما السلام کو توریت و انجیل اسی مہینہ میں ملیں اور قرآن اسی مہینہ میں ہمارے نبی(ص) پر اترا اس قدر اس مہینہ کی راتیں افضل قرار پائیں کہ تین شبیں شب قدر بنیں۔
شب ھای قدر کیسے گذاریں؟
شب قدر کیا ہے؟ یہ کوئی عام رات نہیں جسے گنوا دیا جائے بلکہ اسی رات میں ملائکہ صف بہ صف نازل ہو کر وقت کے امام پر درود و سلام کا پیغام لاتے ہیں اور اسی شب میں بندوں کی تقدیر لکھی جاتی ہے موت و زندگی کی تاریخیں معین ہوتی ہیں سعادت و شقاوت کی سمت و سو تعیین ہوتی ہے۔ اس رات میں عبادت کرنا، اپنے مالک کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کرنا اور اس کی رحمت کی امید میں تسبیح کرنا ہمارا طریقہ و سلیقہ ہے۔ کوئی بات نہیں اگر روزہ بھی کوئی نہ رکھ سکا پھر بھی ان راتوں میں ضرور جاگنا اور شب بیداری کرنا چاہیئے ۔مسجد میں جانا قرآن کی تلاوت کرنا یا تلاوت کو سننا دعا کے لئے ہاتھ اٹھانا یہ سب بندگی ہے اللہ تعالی کو پسند نہیں بلکہ محبوب بھی ہے  حدیث شریف میں آیا ہے کہ ( اللہ اپنے گنہگار بندوں کا مشتاق رہتا ہے ) کیسے ایک عاشق اپنے معشوق سے ملنے اور اس سے بات کرنے کا دل سے مشتاق رہتا ہے اسی طرح دوستوں بندے اور اللہ کا معاملہ بہت محبت آمیز کریمانہ اور رحیمانہ ہے، یہ انسان ہے جو ناراض ہو کر جلدی راضی نہیں ہوتا مگر اللہ ناراض تک پہلے نہیں ہوتا اور اگر جرم بڑا بھی ہو تو توبہ کے آنسو سے ایسا دھلتا ہے کہ پھر دھبہ تک نہیں رہ جاتا لہذا ماہ رمضان میں شب ھای قدر کے اعمال جو کتابوں خصوصاً مرحوم شیخ عباس قمی کی کتاب ( مفاتیح الجنان میں موجود ہیں پڑھئے اور شب قدر یعنی شب 19/21/23) ماہ  رمضان کی شبوں میں تھوڑا اپنے لئے وقت نکالئے  اللہ کو یاد کیجئےدنیاداری اور روزمرہ کی باتوں سے دور رہ کے اپنی آخرت کے لئے سیرِیٙس ہوئیے ہو سکے تو ان شبوں میں حیثیت بھر محتاجوں غریبوں کو صدقہ دیجئے اعمال و نماز و تلاوت کی لذت حاصل کیجیئے۔
شب قدر اور بی بی  فاطمہ(س) کا عمل :
بی بی فاطمہ سلام اللہ علیھا کے دونوں شہزادے ( امام حسن و امام حسین(ع) )ابھی چھوٹے تھے ، رمضان کریم کا مہینہ تھا شب قدر تھی ۔آپ نے سر شام بچوں کو سلا دیا اور آدھی رات کے بعد جگا دیا تاکہ سحر تک بچے بیدار رہیں بیچ بیچ میں انھیں کھجوریں اور پانی دیتی رہیں۔
ذرا سوچئیے تو صحیح ! شہزادی اپنے ننھے منے بچوں تک کو ان شبوں میں جگاتی ہیں آخر کوئی اہم شب ہوگی نہ ؟
اپنے لئے اپنے پڑوسیوں کے لئے اور اپنے مرحومین کے لئے دعائیں بھی کیجئے گا کہ یہ شب دعا و مناجات اور اپنے مالک و مولا سے راز و نیاز کی شب ہے۔ آپ سے دعاؤں کی امید ہے۔

تحریر: سید مشاہد عالم رضوی ( تنزانیہ)



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 August 14