Thursday - 2018 June 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194120
Published : 7/6/2018 13:36

فلسطین سے عالمی خیانتیں

حیرت تو اس پر ہے کہ مسلم سربراہا ن مملکت خود اسرائیل کے درپردہ دوست اور مسلمانوں سے خیانت کے مجرم رہے ہیں عرب قومیت پرستی کا دعوی کرنے والے عرب حکمراں فلسطینی عوام کے لئے کبھی سنجیدہ نہیں رہے جو ایک المیہ ہے گویا:اس گهر کو آگ لگ گئی گهر کے چراغ سے
ولایت پورٹل: ترکی عثمانیہ امپائر کے زوال کے وقت سرزمین فلسطین پر   برطانوی(British)سازش کے تحت جو یہودی آباد کاری کا سلسلہ شروع ہوا تھا آج اسے  سات دہائیوں سے زائد کا عرصہ گذر رہا ہے جب صہیونی فکر رکھنے والے یہودیوں نے سوچی سمجھی پلانینگ کے تحت، ارض موعود، پاجانے کا پرو پیگنڈہ کرکے یورپ و امریکہ میں بکھرے ہوئے یہودیوں کو فلسطین کی طرف ہجرت کرنے کی زبردست تحریک چلائی اور اس بهانے سے طاقت، پیسے اور پروپیگنڈے کے بل پر فلسطینیوں کی زمینوں کو یہودیوں نے غصب کرنا شروع کیا اس طرح(izrail)نے فلسطین پر قبضہ کرکے اپنی حکومت بنالی اور وہاں کے باشندوں کو جلا وطنی پر مجبور کردیا چنانچہ قیام اسرائیل سے اب تک فلسطینیوں نے اسرائیلی دہشتگردی و بد امنی کے علاوہ امن وسکون  کا منہ بهی نہیں دکھا اسرائیلیوں نے مسلمانوں کا قتل عام کیا اور اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والے قائدین، دانشوروں اور جوانوں کو لوہے کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جبکہ حقوق بشر کا نعرہ لگانے والا اقوام متحدہ (UNO )امریکہ یورپی ممالک اور دیگر بین الاقوامی تنظیمیں فلسطین کے ان نہتے مظلوم مسلمانوں پر ہوتے ہوئے یہ سارے مظالم دیکھتے رہے بلکہ اسرائیل کی پوری حمایت و استحکام کےلئے وفادار رہے ہیں۔
یوم القدس کا احیاء:
آخرکار اس فقیہ مجاہد نے مسئلہ فلسطین کو زندہ کرنے اور اس کے حل کے لئے جمعہ الوداع کو یوم القدس کا نام قرار دے دیا جس کے بعد وہ مسلمان جو فلسطین کے نام تک سے واقف نہیں تھے آگاہ ہو گئے اور غاصب اسرائیل کے چنگل سے مظلوم فلسطینیوں کی نجات کے لئے دعا کرنے لگے بلکہ دنیا بهر کے آزاد ضمیر انسان مسلمانوں کے شانہ بہ شانہ فلسطین کی آزادی میں دلچسپی لینے لگے۔
حیرت تو اس پر ہے کہ مسلم سربراہا ن مملکت خود اسرائیل کے درپردہ دوست اور مسلمانوں سے خیانت کے مجرم رہے ہیں عرب قومیت پرستی کا دعوی کرنے والے عرب حکمراں فلسطینی عوام کے لئے کبھی سنجیدہ نہیں رہے جو ایک المیہ ہے گویا:
اس گهر کو آگ لگ گئی گهر کے چراغ سے
جمال عبد الناصر نے مصر (Egypt ) سے عربی نیشنالیزم کی دہائی دے کر مسئلہ فلسطین کو آگے بڑھانا چاہا تو ناکام ہوگئے شہید سید نواب صفوی (ایران کے ایک عالم ) نے اپنی ایک تقریر میں قومیت پرستی کی اس فکر پر ٹوکا اور کہا فلسطین عالم اسلام کا مسئلہ ہے تو بعض عرب قائدین کو ہوش آیا۔
امام خمینی(رح) اور مسئلہ فلسطین
بیسویں صدی میں رہبر کبیر انقلاب اسلامی ایران حضرت امام خمینی(رح) نے اعلان کردیا کہ فلسطین عالم اسلام کا مسئلہ ہے اور اسرائیل غاصب ہے وہ مشرق وسطی میں صہیونی شدت پسندانہ خیالات و نظریات کی بنا پر کینسر کا پھوڑا ہے جسے کهرچ کر پهیک دینا چاہیے اور اگر سارے مسلمان متحد ہو کر ایک ایک بالٹی پانی اسرائیل کی طرف پهیک دیں تو وہ اس کے سیلاب میں بہہ جائےگا اور ایسے نہ جانے کتنے ہدایات آپ نے امت مسلمہ کو دیں۔
فلسطین پر غاصبانہ قبضہ کے وجوہات :
1 - ترکی عثمانیہ سلطنت کا زوال۔
2-برطانوی سازش جسے یورپ امریکہ کی حمایت حاصل تهی۔
3-باشند گان فلسطین کی اپنے دور کے حالات سے بےخبری اور مسئلہ کی نزاکت سے بےتوجہی۔
4-قیام اسرائیل کے لئے صیہونی پلاننگ اور اس کی کامیاب سیاست۔
5- عرب مسلم ممالک بادشاہوں و حکمرانوں کی بے حسی و بے غیرتی۔
6-مسئلہ فلسطین کو عالم اسلام کے بجائےعرب قومی مسئلہ قرار دیا جانا۔
7-بعض عرب بادشاہوں جیسے (سعودیہ عریبیہ ، جارڈن وغیرہ )کی خفیہ طور پر اسرائیل کی حمایت و دوستی میں وفاداری۔
8-امریکہ، یورپ اور اقوام متحدہ کی جانب سے اسرائیل کو ہر طرح کی مراعات۔
۔یہ بعض وہ اہم اسباب و وجوہات ہیں جن کے باعث فلسطینیوں کو آج تک کامیابی نصیب نہ ہو سکی البتہ دنیا میں کچھ ایسے ممالک بهی تھے جو سیکولر غیر مسلم ہوتے ہوئے اسرائیل کو جارح سمجھتے رہے اور اپنے ملک میں اسکی سفارت قبول نہیں کی جس میں سے ایک بھارت بهی تها کیونکہ خود مہاتما گاندھی کا بهی یہی خیال تها۔
مہاتما گاندھی کی یہودیوں کو نصیحت :
وہ کہتے ہیں:"میں یہودیوں سے کہوں گا کہ امریکہ اور یورپ کی حمایت سے فلسطین کی طرف ہجرت نہ کریں یہ بہت بڑی حماقت ہے  فلسطینیوں کو ان کے گهروں سے نکال کر خود کو وہاں بسانہ بهی تو بہت بڑی دہشتگردی ہے؟  یہودیوں کو امریکہ اور یورپ پر بھروسہ کرنے کے بجائے خدا پر بھروسہ کرنا چاہیے " بحوالہ فلسطین خون بار۔
اور علامہ اقبال نے فرمایا تها :
ہے خاک فلسطیں پہ یہودی کا اگر حق
ہسپانیہ پہ حق نہیں کیوں اہل عرب کا
المختصر رمضان کریم کا آخری جمعہ بہترین موقع ہے جب ملت فلسطین اور اس کے آ بدیدہ و ماتم کناں عوام پر ایک بار پهر دنیا بهر کے مسلمان و آزاد ضمیر انسان نظر کرتے ہیں اور غاصب اسرائیل کے اعمال قبیحہ سے اعلان برائت کے ساتھ امام خمینی کی روح پرور آواز استغاثہ پر لبیک کہتے ہوئے بیت المقدس کی بازیابی اور مظلوم فلسطینیوں کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جب سارے مسلمان ایک جٹ ہو کر اسرائیل اور اس کے ظلم و ستم کو جڑ سے اکھاڑ پهیکیں گے اور حضرت محمد(ص) کی نسل با برکت کی ایک فرد حضرت " امام مہدی (عج) " کی ہمراہی میں ارض فلسطین پر اسلام کا پرچم لہرائیں گے اور قبلہ اول کو آزاد کر کے تمام مظلومین عالم خصوصا مظلوم فلسطینیوں کے آنسو پونچهے گے کہ:
وہ بادل اٹھنے والا ہے جو سب کی پیاس بجهائے گا

تحریر:سید مشاهد عالم رضوی (تنزانیہ)




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 June 21