Monday - 2018 August 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194143
Published : 9/6/2018 13:14

رہبر انقلاب کی نظر میں ترک گناہ؛اور قرب خدا کے منازل

میں اپنی عملی زندگی کے ایک پہلو کو آپ کے گوش گزار کرنا چاہوں گا کہ شاید انشاء اللہ خود میرے اورآپ سبھی عزیز بھائیوں اور بہنوں کے لئے مزید اور بہتر و بیشتر تحرک کا ذریعہ قرار پائے۔ وہ پہلو یہ ہے کہ خدا سے اگر قربت حاصل کرنی ہے تو گناہوں کا ترک کرنا، اصل ہے۔

ولایت پورٹل: میں اپنی عملی زندگی کے ایک پہلو کو آپ کے گوش گزار کرنا چاہوں گا کہ شاید انشاء اللہ خود میرے اورآپ سبھی عزیز بھائیوں اور بہنوں کے لئے مزید اور بہتر و بیشتر تحرک کا ذریعہ قرار پائے۔ وہ پہلو یہ ہے کہ خدا سے اگر قربت حاصل کرنی ہے تو گناہوں کا ترک کرنا، اصل ہے۔ اس کے بعد مستحبات و نوافل اور توسل و دعا نیز دیگر امور یہ سب فروعات میں آتے ہیں، اصل یہ ہے کہ انسان ذاتی طور پر گناہ اور خلاف شرع عمل صادر ہونے سے خود کو روکے اور یہ چیز تقویٰ کے وجود میں آنے سے ممکن ہے۔ اس کے لئے سب سے ضروری یا پہلے مظہر اور جلوہ کے عنوان سے کہا جاسکتا ہے کہ یہ پہلی چیز ہے جو انسان کے اندر پائی جانی چاہیئے۔
یہی چیز انسان کو گناہ سے بچاتی ہے، یہ گناہ ہے جو انسان کو خدا کی عظیم مغفرت کے اتھاہ سمندر کے کنارے تک لیجانے سے روک دیتا ہے۔یہ گناہ ہے جو ہمیں دل سے اس پر غور کرتے ہوئے دعا کرنے اور ہمیں اپنی بازیابی اور تعمیر نفس سے روکتا ہے، ہمیں گناہ سے کنارہ کشی اختیار کرنی  چاہیئے اور یہی اس بابت پہلی شرط قرار پاتی ہے۔
البتہ گناہ مختلف ہوا کرتے ہیں۔ اس میں مختلف انفرادی و اجتماعی گناہ، ایسے گناہ جو آنکھ یا زبان اور گوناگوں طریقوں سے حاصل ہوتے ہیں شامل ہیں، مسلمانوں کے لئے گناہ شاید پوشیدہ نہ رہ سکے اور انہیں پتہ ہو کہ کیا چیز گناہ ہے، جو کوئی دعا پڑھتا ہے، مستحبات بھی انجام دیتا ہے، شرعی فرائض پر بھی عمل کرتا ہے، لیکن ان سب کے ساتھ ہی گناہوں کے ارتکاب سے بھی گریز نہیں کرتا ہے، اس کی مثال ایسے شخص کی ہے جو زکام اور بخار کی حالت میں زکام کی شفا بخش دوا بھی کھاتا ہے اور اس کے ساتھ ایسی خوراک اور غذا کا بھی استعمال کرتا ہے جو زکام کی حالت میں نقصان دہ ہیں، ظاہر سی بات ہے کہ ایسی حالت میں دوائیں اثر نہیں کریں گی۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ اگر کوئی بیمار آدمی جس کے لئے اگر کوئی کھانا نقصان دہ ہو یا کوئی ایسا عمل جس کی انجام دہی نقصان کا باعث ہو اور اس کا ارتکاب کرے تو اس پر دوائوں کا اثر نہیں ہوگا۔
رحمت و مغفرت اور الٰہی معنویت سے زیادہ فائدہ اٹھانے کے لئے آمادہ رہنے کے امکانات سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے اور یہ گناہ ترک کرنے کے ذریعہ ہی ممکن ہوسکتا ہے۔ بنابریں آپ دعائے کمیل میں دیکھتے ہیں کہ امیرالمومنین(ع) فرماتے ہیں:’’اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلِیَ الذُّنُوْبَ الَّتِی تَحْبِسُ الدُّعآء‘‘۔(۱)
یعنی خداوندا! ان گناہوں کو جو کہ میری دعاؤں کو باندھ دیتے ہیں، انہیں معاف کردے۔ گناہوں سے دعائیں قبول نہیں ہوا کرتیں، انہیں راتوں اور سحر کے موقع پر ابوحمزہ کی دعا میں پڑھتے ہیں:’’فَرِّقْ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ ذَنْبِی الْمَانِعِ لِی مِنْ لُزُوْمِ طَاعَتِکَ‘‘۔(۲)
خداوندا، مجھ میں اور میرے گناہوں میں فاصلہ ڈال دے، ان گناہوں سے جو کہ مجھے فرائض کی انجام دہی میں میرے لئے رکاوٹ بنتے ہیں اور اس بات کا باعث ہوتے ہیں کہ میں تجھ سے خود کو قریب نہ کرسکوں،(یاد رکھئے کہ) اصل مسئلہ گناہوں کے ترک کرنے کا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔الاقبال،ص:۷۰۶۔
۲۔اقبال الاعمال،ص:۷۳۔

 



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 August 20