Monday - 2018 June 25
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194152
Published : 10/6/2018 6:10

برطانوی رپورٹر کو شامی صدر کا کرارا جواب

تم پریس اور میڈیا والوں پر مغربی افکار غالب ہے اور جو کچھ تم کہہ رہے ہو ان میں سے کوئی بات بھی ٹھیک نہیں ہے چونکہ بہت سے مشہور اور طاقتور ملکوں نے چاہا کہ مجھے میرے منصب سے ہٹا دیں لیکن یہاں کی عوام مجھے پسند کرتے ہیں۔ بلکہ ہم ۷ برس سے مسلسل دہشتگردوں سے مقابلہ کررہے ہیں لیکن فرانس،امریکہ اور برطانیہ ان کی مدد کررہے ہیں اب تم بتاؤ کہ: ہم ڈکٹیٹر ہیں یا ان ممالک کے سربراہ۔
ولایت پورٹل: رپورٹ کے مطابق ایک برطانوی پریس رپورٹر نے شام کے صدر بشار الاسد سے ایک ایسا سوال کرلیا کہ بمشکل ہی کوئی رپورٹر اتنی ہمت جُٹا پاتا ہے اور سونے پر سوہاگہ یہ کہ شامی صدر نے بھی اسے اتنا کرارا جواب دیا کہ اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔
اخبار رپورٹر نے سوال کیا:دنیا کے بہت سے ممالک آپ کو ایک بین الاقوامی ڈکٹیٹر کے طور پر دیکھتے ہیں کہ جس کے ہاتھ اپنے ہی عوام کے خون سے رنگین ہیں تو کیا آپ کوئی دلیل پیش کرسکتے ہیں کہ آپ ڈکٹیٹر نہیں بلکہ اپنی عوام کے سب سے بڑے حامی ہیں؟
شامی صدر نے جواب دیا: تم پریس اور میڈیا والوں پر مغربی افکار غالب ہے اور جو کچھ تم کہہ رہے ہو ان میں سے کوئی بات بھی ٹھیک نہیں ہے چونکہ بہت سے مشہور اور طاقتور ملکوں نے چاہا کہ مجھے میرے منصب سے ہٹا دیں لیکن یہاں کی عوام مجھے پسند کرتے ہیں۔ بلکہ ہم ۷ برس سے مسلسل دہشتگردوں سے مقابلہ کررہے ہیں لیکن فرانس،امریکہ اور برطانیہ ان کی مدد کررہے ہیں اب تم بتاؤ کہ: ہم ڈکٹیٹر ہیں یا ان ممالک کے سربراہ۔
یاد رہے کہ ۷ برس ہوچکے کہ شام و عراق میں داعش نامی منحوس ٹولہ وجود میں آیا جس نے ہزاروں لوگوں کو تہہ تیغ کیا،لاکھوں لوگ بے گھر ہوگئے اور امریکہ سمیت کچھ دیگر ممالک اسد کا تختہ پلٹنے کے لئے مسلسل کوششیں کررہے ہیں لیکن شامی عوام اسد کے ساتھ ہیں۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 June 25