Monday - 2018 June 25
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194154
Published : 10/6/2018 10:57

عراق میں پانی کی قلت؛آیت اللہ سیستانی کی اردغان و اوغلو کو چند ہدایات

یاد رہے کہ ترکی نے دجلہ اور فرات پر کئی اہم ڈیم بنارکھے ہیں اور ابھی ماضی قریب میں ہی دجلہ پر بنا’’الیسو‘‘ نامی سب سے بڑا ڈیم تیار ہوچکا ہے اور اس وقت عراق پر پانی کی قلت کے خطرات منڈلانے لگے ہیں اور جیسا کہ ماہرین کا ماننا ہے کہ ترکی کے اس ڈیم کا آغاز ہوتے ہی عراق اپنے آدھے پانی سے محروم ہوجائے گا۔
ولایت پورٹل: رپورٹ کے مطابق 29 مارچ سن 2011 کی بات ہے جب عراق میں شیعہ مرجع تقلید آیت اللہ العظمیٰ سیستانی نے اس وقت کے ترک وزیر اعظم ’’رجب طیب اردغان‘‘ کو اپنے حضور شرفیاب ہونے کی اجازت دی اور اس ملاقات میں بہت سے اہم مسائل پر گفتگو ہوئی کہ جن میں سے ایک عراق میں پانی کی قلت تھی جس میں آپ نے اردغان سے فرمایا تھا کہ ترکی کو  دجلہ و فرات سے عراق کے حصہ کے پانی کے بہاؤ کو روکنا نہیں چاہیئے۔
اردغان نے عرض کیا:فرات کے پانی پر شام کا زیادہ کنٹرول ہے ہمارے یہاں سے تو فرات کا کافی پانی عراق آتا ہے ۔خلاصہ اردغان نے کچھ اعداد و شمار بیان کئے۔
آیت اللہ العظمٰی سیستانی نے فرمایا:مشکل صرف فرات کے پانی کی نہیں ہے بلکہ دجلہ بھی شامل ہے یہ دونوں نہریں شام و ترکی کی سرحد سے ہوتے ہوئے گذرتی ہیں اور ظاہراً شام و ترکی کے درمیان کچھ پروجیکٹس پر معاہدے ہوئے ہیں کہ جن کے سبب ان دونوں نہروں سے عراق کے حصہ پر منفی اثرات پڑیں گے۔
غرض اردغان نے سید کے حضور وعدہ کیا کہ وہ اس مسئلہ کی تحقیق کریں گے  اور وہاں سے روانہ ہوئے۔
نومبر 2013 میں اس وقت کے ترک وزیر خارجہ’’احمد داود اغلو‘‘ نے سید سے شرفیابی کی اجازت چاہی چنانچہ جن اہم مسائل پر گفتگو ہوئی ان میں سے پھر وہی عراق میں پانی کی قلت کا مسئلہ تھا آپ نے اوغلو سے کہا تھا:عراق اور ترکی کے مشترکہ تاریخی و ثقافتی تعلقات ہیں اور جب پہلی جنگ عظیم ہوئی تھی اس وقت نجف اشرف کے علماء نے فتویٰ دیا تھا کہ عراق کی فوجیں عثمانی حکومت کے شانہ بشانہ برطانیہ سے لڑیں جس میں ترکی کے ساتھ ساتھ عراق کے ہزاروں جوان بھی شہید ہوئے تھے۔
اسی وقت داؤد اغلو نے عرض کیا:’’ سرکار یہ بات بالکل صحیح ہے اور نجف اشرف تو ایک مقدس شہر ہے اور یہ ہمارے لئے افتخار کا سبب ہے‘‘۔
آیت اللہ سیستانی نے ان کی بات کاٹتے ہوئے فرمایا تھا:’’یہ مشترک تاریخ صرف نجف اشرف تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ اس کی جڑیں پورے عراق میں پھیلی ہوئی ہیں اور میں نے اس مسئلہ کو ایک دوسرے موضوع کے لئے پیش کیا اور وہ یہ کہ: عراق قدیم الایام سے پانی کی فراوانی اور دجلہ و فرات کے سبب بین النہرین’’ دو آبہ‘‘ کے نام سے مشہور ہے ،لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ عراقی خشکسالی اور قلت آب کا شکار ہیں اور مستقبل قریب میں ان کی زمینوں کے بنجر ہونے کے خدشات ہیں اس خوف سے کہ کہیں ان کی دونون نہریں’’ دجلہ و فرات‘‘ خشک نہ ہوجائیں۔اور یہ صرف  ان ڈیمس کے سبب ہے جو ترکی نے ان دونوں نہروں پر بنانے کا قصد کررکھا ہے لہذا یہ دونوں ملکوں کی مشترکہ مصلحتوں کے منافی عمل ہے اور ترکی کو ایک اچھا پڑوسی ہونے کا ثبوت دینا چاہیئے۔
یاد رہے کہ ترکی نے دجلہ اور فرات پر کئی اہم ڈیم بنارکھے ہیں اور ابھی ماضی قریب میں ہی دجلہ پر بنا’’الیسو‘‘ نامی سب سے بڑا ڈیم تیار ہوچکا ہے اور اس وقت عراق پر پانی کی قلت کے خطرات منڈلانے لگے ہیں اور جیسا کہ ماہرین کا ماننا ہے کہ ترکی کے اس ڈیم کا آغاز ہوتے ہی عراق اپنے آدھے پانی سے محروم ہوجائے گا۔
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 June 25