Tuesday - 2018 June 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194171
Published : 12/6/2018 11:18

ماہ رمضان کو وداع کرنے کے آداب

خدایا! تونے خود اپنی مقدس کتاب میں فرمایا ہے کہ جس مہینہ میں یہ قرآن نازل ہوا وہ ہدایت و کامیابی کا ذریعہ،اور حق و باطل کے درمیان حد فاصل ہے اب جبکہ تیرا یہ عظیم مہینہ ختم ہورہا پس میں تجھ سے دعا کرتا ہوں اگر اب بھی مجھ پر کوئی گناہ رہ گیا ہو جسے تونے معاف نہ کیا ہو یامجھے اس پر عذاب دینا چاہتا ہو تو اس رات کی فجر ہونے تک میرے اس گناہ کو معاف کردے اور میری تقصیر سے درگذر فرما اے سب سے مہربان رب۔
ولایت پورٹل: قارئین کرام! اللہ تعالٰی نے ہم سب کو یہ توفیق دی کہ اس رمضان المبارک میں روزہ رکھیں اور اس کے خوان نعمت سے استفادہ کریں۔ افطار و سحر کی معنوی اور روحانی گھڑیوں کو درک کریں لیکن اب ہم آہستہ آہستہ اس مبارک مہینہ کے اختتام کی طرف بڑھ رہے ہیں اور اب یہ برکتوں ،مغفرتوں اور نعمتوں والا  مہینہ ہم سے چھوٹ رہا ہے لہذا ہم نے جس شان سے اس مہینہ کا استقبال کیا تھا اسی طرح ضروری ہے کہ اس مہینہ کو رخصت کریں بہر حال استقبال اور رخصت کے لمحات یکساں تو نہیں ہوتے۔چنانچہ اپنے زمانہ کے عظیم عارف اور واثق شخصیت آیت اللہ ملکی تبریزی بیان کرتے ہیں: اگرچہ زمان و مکان ظاہری طور پر بے جان ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں ان کے پاس بھی ایک طرح کا شعور ہوتا ہے بلکہ یہ محبت کرنے والوں کی محبت اور نفرت کرنے والوں کی نفرتوں کو بھی سمجھتے ہیں اور اسی وجہ سے ماہ مبارک رمضان کو خدا حافظ اور وداع کرنے کے آداب روایات میں بیان ہوئے ہیں: جیسا کہ وداع کرنے والا شخص جو کچھ رمضان المبارک سے خطاب کرکے کہہ رہا ہے اس میں سچا ہو،صادق ہو تاکہ اس کے ماہ رمضان کا اختتام نفاق کے ساتھ نہ ہو چونکہ اہل بیت اطہار علیہم السلام کی جانب سے جو جملات وارد ہوئے ہیں ہم ان میں ملتا ہے:’’ہمارا سلام ہو اس ہم نشین پر کہ جس کی دوری اور جدائی ہمارے لئے ناگوار ہے‘‘۔
اور پھر خدا وند عالم سے کہتے ہیں :’’ ہم اس مبارک مہینہ کو الوداع کر رہے اس حال میں کہ اسے الوداع کہنا ہمارے لئے شاق ہے اس مہینہ کی جدائی نے ہمیں غمگین کردیا ہے اور اس کے جانے سے ہمیں وحشت ہورہی ہے کہ ہم اب کیسے رہیں گے‘‘۔
ابو بصیر امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ جب حضرت ماہ رمضان کو وداع کرتے تو فرماتے تھے: خدایا! تونے خود اپنی مقدس کتاب میں فرمایا ہے کہ جس مہینہ میں یہ قرآن نازل ہوا وہ ہدایت و کامیابی کا ذریعہ،اور حق و باطل کے درمیان حد فاصل ہے اب جبکہ تیرا یہ عظیم مہینہ ختم ہورہا پس میں تجھ سے دعا کرتا ہوں اگر اب بھی مجھ پر کوئی گناہ رہ گیا ہو جسے تونے معاف نہ کیا ہو یامجھے اس پر عذاب دینا چاہتا ہو تو اس رات کی فجر ہونے تک میرے اس گناہ کو معاف کردے اور میری تقصیر سے درگذر فرما اے سب سے مہربان رب۔( من لا یحضره الفقیه، ج 2، ص 164)
جناب جابر بن عبد اللہ انصاری نقل کرتے ہیں کہ ماہ رمضان المبارک کا آخری جمعہ تھا اور میں رسول اللہ (ص) کے حضور شرفیاب ہوا آپ نے فرمایا: جابر کیا تم جانتے ہو کہ یہ ماہ رمضان کا آخری جمعہ ہے لہذا اب تم اس مہینہ کو اس طرح الوداع کہو:’’خدایا! اس رمضان کو میرا آخری رمضان قرار نہ دے اور اگر میری تقدیر میں یہ لکھ دیا کہ یہ میرا آخری رمضان ہو تو مجھ پر اپنی خاص رحمت نازل فرما اور مجھے محروم نہ رکھ‘‘ حضرت نے فرمایا : جابر! جو شخص بھی اس طرح رمضان المبارک کو رخصت کرے گا تو اسے ان دو چیزوں میں سے کوئی ایک نصیب ہوگی۔(۱) اسے طول عمر نصیب ہوگی اور آئندہ سال کے رمضان کو درک کرنے کی توفیق ملے گی۔(۲) خدا کی خاص رحمت کے حصار میں ہوگا اور اس کے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔( بحار الانوار، جلد 98، ص 172)۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 June 19