Tuesday - 2018 Sep 25
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194189
Published : 14/6/2018 9:57

مصر کی الازہر یونیورسٹی میں شیعہ مذہب قبول کرنے کے جرم میں ایک استاد معطل

اپنے کو اتحاد بین المسلمین کے داعی کہنے والے مصری علماء سے ایک شیعہ شخص کا وجود برداشت نہ ہوا جبکہ ڈاکٹر عبد الغنی کسی شیعہ کمیونیٹی سے نہیں گئے تھے بلکہ اپنی تحقیق کے سبب انہوں نے شیعہ مذہب قبول کیا ہے بلکہ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ الازہر کا اسٹاف ان کے تحقیقاتی اسلوب کو سرہاتا اور ڈاکٹر عبد الغنی جیسے لوگ الازہر میں گھٹن کے ماحول سے ٹیچرس اور اساتید کے نکلنے کے لئے مشعل راہ قرار پاتے۔

ولایت پورٹل: رپورٹ کے مطابق عالم اسلام کی معروف درسگاہ جامعۃ الازہر مصر کی اصول دین فیکلٹی کے ایک استاد پروفیسر ’’جمال الدین محمد سعید عبد الغنی‘‘ کو شیعہ مذہب قبول کرنے کے جرم میں ۳ مہینہ کے لئے معطل کردیا گیا۔
مصری ذرائع ابلاغ کے مطابق جامعۃ الازہر کی شورائے نظارت کہ جس کے سربراہ ’’محمد المحرصاوی‘‘ ہیں ان کی رپورٹ میں آیا ہے کہ ڈاکٹر عبد الغنی کو ۳ مہینہ کے لئے معطل کردیا گیا اور ان کے سلسلہ میں تحقیقات جاری ہیں۔
یاد رہے کہ مصر کی الازہر یونیورسٹی کہ جو پوری دنیا میں اپنا علمی مقام رکھتی ہے اس کی بنیاد مصر کے فاطمی خلفاء نے ڈالی تھی اور یہ بتا دیں کہ یہ تمام خلفاء شیعہ ہی تھے۔اگر عالم اسلام میں اہل تشیع کی علمی خدمات کا شمار کیا جائے تو بہت سے انسائکلو پیڈیا تیار ہوسکتے ہیں لیکن اپنے کو اتحاد بین المسلمین کے داعی کہنے والے مصری علماء سے ایک شیعہ شخص کا وجود برداشت نہ ہوا جبکہ ڈاکٹر عبد الغنی کسی شیعہ کمیونیٹی سے نہیں گئے تھے بلکہ اپنی تحقیق کے سبب انہوں نے شیعہ مذہب قبول کیا ہے بلکہ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ الازہر کا اسٹاف ان کے تحقیقاتی اسلوب کو سرہاتا اور ڈاکٹر عبد الغنی جیسے لوگ الازہر میں گھٹن کے ماحول سے ٹیچرس اور اساتید کے نکلنے کے لئے مشعل راہ قرار پاتے۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Sep 25