Saturday - 2018 August 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194192
Published : 14/6/2018 11:56

عید الفطر؛روز عید یا اہل بیت(ع) کے سوگ کا دن؟

تاریخی حقائق اس بات کے گواہ ہیں کہ آئمہ معصومین(ع) عید فطر اور عید اضحٰی کو عید کے دن کے طور پر بسر کرتے تھے اور آئمہ معصومین(ع) کے بعد بھی عید فطر اور عید اضحٰی کو ہر دور میں عید کے دن کے طور پر مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جاتا رہا ہے جس میں شیعہ بزرگان بھی شریک ہوتے رہے ہیں ۔ٓ

تحریر: سید توقیر عباس کاظمی
سوال: کیا عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دن کو اہل بیت(ع) کے غم میں سوگ کے دن کے طور پر منانا صحیح ہے؟
مذکورہ سوال درحقیقت شیعوں کے درمیان عام سادہ لوح افراد کی دانستہ یا نادانستہ کج فہمی کی بنا پر ہے جو آئمہ معصومین(ع) کے ایام کو بھی اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہوئے عید کے ایام میں کالے کپڑے پہننے ، مجلس و ماتم برپا کرنے اور سوگ منانے کا پرچار کرتے ہیں۔
ہم اس مختصر تحریر میں چند نکات کے ضمن میں اہل بیت(ع) ہی کے فرامین کی روشنی میں اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کریں گے کہ کیا عید کے ایام شیعوں کے لئے بھی عید ہیں یا ان ایام کو غم اور سوگ منانا چاہیئے؟
اول: اسلام میں ماہ شوال کے پہلے دن(عید الفطر) اور دس ذی الحجہ (عید اضحیٰ) کو مسلمانوں کے لئے بطور خاص عید کے ایام قرر دئیے گئے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان ایام کو عید کے ایام کے طور پر منانے میں عام مسلمانوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔
دوم: تاریخی حقائق اس بات کے گواہ ہیں کہ آئمہ معصومین(ع) عید فطر اور عید اضحٰی کو عید کے دن کے طور پر بسر کرتے تھے اور آئمہ معصومین(ع) کے بعد بھی عید فطر اور عید اضحٰی کو ہر دور میں عید کے دن کے طور پر مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جاتا رہا ہے جس میں شیعہ بزرگان بھی شریک ہوتے رہے ہیں ۔ٓ
اب عید کے ایام کو غم اور سوگ کے ایام قرار دینے والوں کو چاہیئے کہ یا تو آج تک عید کے دنوں کو عید کے طور پر منانے والے شیعوں کو شیعوں کی فہرست سے خارج کریں اور یا اس بات کو تسلیم کریں کہ عید کا دن عید  اور خوشی ہی کا دن ہے نہ کہ غم اور سوگ کا دن۔
سوم: اگر کہا جائے کہ عید فطر کا دن حضرت علی(ع) کا دسواں ہے لہذا سوگ منانا چاہیئے ، تو اس کے جواب میں کہا جاسکتا ہے کہ ہمیں صرف حضرت امام حسین(ع) کے چہلم کے دن کو سوگ کے دن کے طور پر منانے کی تاکید کی گئی ہے، اس کے علاوہ کسی معصوم کے قل، دسویں یا حتی چہلم کے دن کو سوگ کا دن قرار دینے کی کوئی دلیل نہیں ہے،جہالت و ہٹ دھرمی کی بنا پر عید کے ایام کو سوگ کے ایام قرار دینے والوں کو چاہیئے کہ وہ اس بات کی طرف بھی توجہ رکھیں کہ:
۱): ۱۸ ذی الحجہ (عید غدیر) کو حضرت امام محمد باقر(ع) اور جناب مسلم بن عقیل کا دسواں ہے۔
۲):۹ ربیع الاول (عید زہرا) کو امام حسن عسکری(ع) کا قل ہے۔
۳):۱۷ ربیع الاول(ولادت رسول خدا(ص) اور امام صادق (ع) حضرت امام حسن عسکری (ع) کا دسواں ہے۔
۴):۱۳ رجب (ولادت حضرت علی(ع) کے دن) حضرت امام علی نقی(ع) کا دسواں اور حضرت فاطمہ زہرا(س) کا چہلم ہے۔
۵):۴ شعبان (ولادت حضرت عباس ع کے دن) امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کا دسواں ہے۔
۶):۲۷ رجب(عید بعثت) حضرت ابوطالب(ع) کا قل ہے۔
۷):۷ شعبان (روز ولادت حضرت قاسم بن حسن ع) حضرت ابوطالب علیہ السلام کا دسواں ہے۔
تو کیا عید فطر یا عید اضحیٰ کو سوگ کا دن قرار دینے والے افراد مذکورہ بالا خوشیوں کے ایام میں بھی سوگ منائیں گے؟؟؟
چہارم: کوئی شک نہیں ہے کہ سن چالیس ہجری میں جب حضرت علی علیہ السلام کی شہادت ہوئی تو اس سال کی عید کو اہل بیت علیہم السلام نے غم میں گزارا ہوگا لیکن اس کے بعد آئمہ معصومین علیہم السلام نے ہر عید کو عید کے دن ہی کے طور پر منایا، اور اپنے چاہنے والوں کو بھی  عید منانے کا حکم دیا اور کبھی بھی شیعوں کو عید کے دن جائز خوشی منانے کے ساتھ ساتھ نئے کپڑے پہننے ، خوشبو لگانے، عید کی مبارکباد دینے جیسے کاموں سے ہر گز منع نہیں کیا بلکہ عید کے دن ان امور کو انجام دینے کی تاکید کی۔
حضرت علی(ع) نے عید فطر کے دن کو عید کا دن قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:انما ھو عید لمن قبل اللہ صیامہ و شکر قیامہ‘‘ یقیناً یہ عید اس کے لئے ہے جس کے روزے قبول ہوئے اور جس کی عبادات مشکور قرار پائیں۔(۱)
نہج البلاغہ میں موجود حضرت علی(ع) کے اس واضح فرمان کے بعد کس کی جرأت ہے کہ وہ عید کے دن کو غم یا سوگ کا دن قرار دے سکے؟
عید کے دن کو غم کا دن قرار دینے والے جاہل و ہٹ دھرم افراد کو صحیفہ سجادیہ میں عید فطر اور عید الاضحٰی کے دن امام سجاد(ع) کی دعا کیوں یاد نہیں ہے جس میں امام نے فرمایا:’’ الھم ھذا یوم مبارک میمون‘‘۔ خدایا یہ دن مبارک اور بابرکت ہے۔(۲)
اسی طرح مام زین العابدین نے ماہ رمضان کو وداع کرتے ہوئے عید الفطر کے دن کے بارے میں فرمایا:’’اللھم انا نتوب الیک فی یوم فطرنا الذی جعلتہ للمسلمین عیداً و سُروراً‘‘۔ خدایا ہم تیری بارگاہ میں (عید) فطر کے دن توبہ کرتے ہیں جسے تونے مسلمانوں کے لئے عید اور سُرور کا دن قرار دیا ہے۔(۳)
امام زین العابدین علیہ السلام کی یہ دعا پڑھنے اور سننے کے بعد کون شیعہ ہوسکتا ہے جو عید فطر کے دن کو سوگ کا دن کہے؟
یہ عید منانے کا حکم اللہ نے دیا ہے اور معصومین(ع) کے اقوال میں اس کی تاکید ملتی ہے لیکن شیعہ دشمنوں کی یہ بھر پور کوشش ہے کہ وہ اس تہذیب کو ہمارے درمیان میں رائج کر عامۃ المسلمین کے نزدیک ہمارے  ایمان کو مشکوک بنانے کے فراق میں ہے ۔
اسی لئے عید فطر اور عید الاضحیٰ جو شعائر اللہ اور مسلمانوں کی خوشی کے خاص ایام ہیں اور جنہیں اسلامی عیدیں کہا جاتا ہے انہیں شیعوں کے درمیان سوگ کا دن قرار دینے کی سازش کی جارہی ہے اور سادہ لوح شیعہ مؤمنوں کے دلوں میں اہل بیت(ع) کی محبت سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے قل اور دسویں جیسی رسموں کا بنیاد بیا کر شیعوں کو اسلامی معاشرے سے دور کرنے کی نہایت گہری پلاننگ کی جارہی ہے تاکہ دنیا کی نظروں میں یہ ثابت کیا جائے کہ شیعہ اسلامی معاشرے سے ہٹ کر ایسی قوم ہے جو اسلامی عید کے دنوں کو سوگ سمجھتے ہیں۔
اس کے لئے شیعوں کے درمیان دانستہ اور نادانستہ طور پر اہل بیت(ع) سے منسوب کچھ ایسی روایتوں کو بھی پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے جن سے ظاہری طور پر عید کے دن کو سوگ کا دن قرار دینے کی تائید ہوتی ہے ، جبکہ ہم چوتھے پوائینٹ میں اہل بیت کے متعدد فرامین اور دعائیں عربی عبارات کے ساتھ پیش کرچکے ہین جن سے  عید کو سوگ کا دن قرار دینے کی نفی ہوئی ہے۔
مخفی نہ رہے کہ عید کے دن اہل بیت(ع) کی مصیبت کو یاد کرکے آنسو بہانے میں کوئی ممانعت نہیں ہے لیکن عید کے دن کو غم کا دن قرار دینا قطعی طور پر اہل بیت(ع) کی سیرت کے خلاف ہے بلکہ ہر مؤمن کی ذمہ داری ہے کہ وہ عید فطر اور عید قربان کے دنوں کو عید کے طور پر عین اسلامی طریقے سے منانے کی ہرممکن کوشش کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔نہج البلاغہ، ص۶۰۵، وسائل الشیعۃ،ج۱۵،ص۳۰۸۔
۲۔صحیفہ سجادیہ، عید الاضحٰی کے دن کی دعا۔
۳۔بحار الانوار،ج۹۵،ص ۱۷۶۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 August 18