Thursday - 2018 Dec 13
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194207
Published : 17/6/2018 17:37

امریکی سفیر کی دعوت اور وائٹ کالر والوں کی شعبدہ بازی

تقریباَ ہر سال ماہ رمضان المبارک میں امریکی سفیر لکھنؤ تشریف لاتے ہیں۔انکی لکھنؤ آمدپر کبھی کسی نے مخالفت نہیں کی ،نہ کبھی انکے خلاف کہیں نعرے بازی ہوئی اور نہ کبھی انہیں سیاہ پرچم دکھائے گئے ۔کیونکہ وہ ایک مسلمان کی دعوت پر لکھنؤ میں آتے ہیں اور انکی رہائش گاہ پر چند افراد کی موجودگی میں ملاقات کرکے چلے جاتے ہیں۔

علی اشتر، علی گڑھ
ولایت پورٹل: تقریباَ ہر سال ماہ رمضان المبارک میں امریکی سفیر لکھنؤ تشریف لاتے ہیں۔انکی لکھنؤ آمدپر کبھی کسی نے مخالفت نہیں کی ،نہ کبھی انکے خلاف کہیں نعرے بازی ہوئی اور نہ کبھی انہیں سیاہ پرچم دکھائے گئے ۔کیونکہ وہ ایک مسلمان کی دعوت پر لکھنؤ میں آتے ہیں اور انکی رہائش گاہ پر چند افراد کی موجودگی میں ملاقات کرکے چلے جاتے ہیں۔امریکی سفیر ہر سال ماہ رمضان المبارک ہی میں کیوں آتے ہیں یہ بھی ایک سوال ہے؟ہر سال عالمی یوم القدس سے ٹھیک پہلے شہر میں انکا داخلہ کیوں ہوتا ہے یہ دوسرا سوال ہے؟۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ آپ کو امریکہ و اسرائیل سے اللہ للہ کا بیر ہے ۔ایسے لوگ سیکولر ہونے کے چکر میں یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ امریکہ و اسرائیل کی مخالفت کی وجہ کیاہے۔اول تو سارے مسلمان انکے خلاف سراپا احتجاج نہیں ہیں ۔اگر ایسا ہوتا تو اب تک یہ دونوں طاقتیں مسلمانوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیتیں۔دوسرے ملکوں میں انکے زرخرید موجود ہیں جو ماہ مبارک کی مقدس ساعتوں میں انکی مہمان نوازی کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔امریکہ و اسرائیل کے خلاف مسلمانوں کا ایک طبقہ احتجاج کرتا ہوا نظر آتاہے ،یہ طبقہ جس پر ایران حامی ہونے کا الزام عائد کیا جاتا ہے در اصل بیت المقدس پر انکے ناجائز قبضے ،مسلم ممالک کی تباہی و بربادی اور انکے معاملات میں بیجا مداخلت ،فلسطینیوں پر جاری ظلم و دہشت گردی اور اسلام کے خلاف انکی منظم سازشوں کے نتیجہ میں احتجاج کرتاہے ۔مگر وہ لوگ جو خود سیکولر کہتے ہیں،سیکولر ہونے کا یہ مطلب تو قطعی نہیں ہے کہ کسی جنایت کار ،خائن اور دہشت گرد کے گلے میں بانہیں ڈال دی جائیں۔اگر ایسا ہے تو پھر اسامہ بن لادن ،ملا عمر ،اور ابوبکر بغدادی جیسے دہشت گردوں کی مخالفت کیوں کی جاتی ہے ۔انہیں گلے کیوں نہیں لگایا جاتا جبکہ وہ بنام اسلام مسلمانوں کے چولے میں جنگ لڑرہے تھے ۔داعش اور طالبان جیسی ظالم اور دہشت گرد تنظیموں سے دشمنی کیوں ہے ؟اگر امریکہ و اسرائیل سے دوستی کی جاسکتی ہے تو پھر ان سے دشمنی کی وجہ کیاہے ؟جبکہ اس تمام دہشت گردی کے پیچھے انہی ملکوں کا منظم ہاتھ ہے۔
امسال عالمی یوم القدس سےٹھیک پہلے لکھنؤ میں امریکی سفیر کی دعوت کرنا اور اس میں تمام ایسے افراد کا شریک ہونا جو خودکو بڑا ہمدرد قوم،بیباک صحافی ،اور سیکولر کہتے ہیں قابل مذمت ہے ،یہ اقدام فلسطینیوں کی حمایت میں عالمی پیمانے پر ہورہے مظاہروں کو کمزور کرنے کے لئے کیا گیا تھا ۔اس دعوت میں یوں تو وہ لوگ شریک تھے جو ہر بارات کے دولہا کہے جاتے ہیں،مگر انکی شرکت پر اس لئے سوالیہ نشان ہے کیونکہ کل یہی لوگ ہر جگہ کہتے گھومتے تھے کہ ہم فلاں ملک کی حمایت کیوں کریں؟اس ملک نے ہمیں دیاکیا ہے ؟اب سوال یہ ہے کہ امریکہ یا اسرائیل نے انہیں کیا دیاہے جو وہ انکی دعوت کررہے ہیں اور دعوتی جلسوں میں شریک ہورہے ہیں۔ہم نے وہ زمانہ دیکھا ہے جب حضرت گنج جانے والی ہر ٹیکسی میں یہ اشتہار چسپاں ہوتاتھا کہ’’ ہمیں ایران نے کبھی پیسے دیے نہیں اور امریکہ و اسرائیل سے لیے نہیں‘‘۔اگر وہ امریکہ و اسرائیل کی دہشت گردانہ پالیسی سے متفق نہیں ہیں تو ایسی دعوتوں میں جانے کا کیا مطلب ہے ۔کیا ایسی دعوتوں میں شریک ہونے سے انکی شبیہ داغدار نہیں ہوتی جو ہر وقت مولویوں کو کوستے رہتے ہیں۔
تعجب خیز یہ ہے کہ ایسی دعوتوں کی لکھنؤ میں کسی نے مذمت نہیں کی ۔ایک صاحب نے ٹیلفون کرکے ہم سے تقاضا کیاکہ ہم اس دعوت کے خلاف لکھیںمگر اس وقت ہم اپنی مصروفیات کی وجہ سے کچھ نہیں لکھ سکے ۔ وہ صاحب بھی صاحب قلم ہیں اور خوب چھپتے رہتے ہیں،مگر اپنے تعلقات کون خراب کرے لہذا مصلحت کی چادر اوڑھ کر سوگئے،ہم نے اب تک اس لئے خاموشی اختیار کی ہوئی تھی کہ شاید کوئی اہل قلم اس کے خلاف کچھ لکھے مگر یہ حادثہ نہیں ہوا۔ آج تھوڑی فرصت ملتے ہی یہ بیڑا ہمیں نے اٹھایا ۔ایسے افراد کے خلاف منظم کام کرنے کی ضرورت ہے جو مسلمانوں کے نام پر مسلمانوں کےمفادات کا سودا کرنے پر تُلے ہوئے ہیں ۔یہ نام نہاد ملّی رہنما جو در اصل پارٹیوں کے وفادار اوراپنی روزی روٹی کمانے کے لئے ہر حربہ استعمال کرتے ہیں ،کبھی قومی مفاد میں بولتے نظر نہیں آئیں گے ۔انہیں ایسی دعوتوں کے اہتمام کا شوق ہوتاہے جہاں تمام وہائٹ کالر لوگ آسکیں ،جبکہ انکے وہائٹ کالروں میں بدعنوانیوں کا میل صاف نظر آتاہے۔ہم نے کبھی نہیں دیکھا کہ ایسے لوگوں نے یمن،فلسطین ،بحرین ،شام اور دیگر ملکوں میں جاری دہشت گردی کےخلاف کبھی کچھ کہاہو۔وہ خاموش کیوں ہیں اس کی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے ۔ایسے سیاسی رہنمائوں کو حج خیر سگالی کمیٹی کا لیڈر منتخب کرنا حاجیوں کی توہین اور حج جیسے مقدس فریضہ کی اہانت ہے ۔حج کمیٹی کے ساتھ ساتھ تمام ذمہ دار افراد کو انکی مخالفت کرنی چاہئے۔
ہم ان تمام پروفیسروں،سیاسی رہنمائوں ،صحافیوں اور سماجی ورکرز کی مذمت کرتے ہیں جو اس سیاسی دعوت میں شریک تھے ۔انہیں قوم سے معافی مانگنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ قوم کے نام پر نہ سیاست کرتے ہیں اور نہ قوم انہیں اپنے ہمدرد اور مخلص کے طورپر پہچانتی ہے ۔مگر اب وہ یہ ڈھنڈورا نہ پیٹیں کہ تمام عیب مولویوں میں ہی ہوتے ہیں،کبھی اپنے گریبان میں بھی جھانک کر دیکھیں ممکن ہے کہیں میل نظر آجائے۔

(مضمون نگار کی رائے سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے ،یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)



theleadertimes.com


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Dec 13