Thursday - 2018 Dec 13
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194209
Published : 17/6/2018 16:18

شام کے معاملہ میں ایران کو لیکر نتنیاہو کا درد تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے

اس اجلاس میں بنیامین نتنیاہو نے کہا کہ ہماری تمام یورپی رہنماؤں سے ملاقات کا مقصد شام میں ایران کی موجودگی تھی اور ہمیں شام کی سرحدوں پر ایرانی فوج کا ہونا بہت ستا رہا ہے۔اور میرے اس دورے کا مقصد ایران کو سیاسی میدان میں تنہا کردینا تھا۔

ولایت پورٹل: رپورٹ کے مطابق آج قدس کی مجرم کابینہ کا اہم اجلاس تل ابیب میں منعقد ہوا جس میں غاصب وزیر اعظم بن یامین نتنیاہو نے شام میں ایران کی موجودگی پر تنقید کرتے ہوئے عالمی اداروں سے درخواست کی ہے کہ وہ کسی صورت ایران کو شام سے نکلنے پر مجبور کریں۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق غاصب ریاست کے وزیر اعظم نے اپنی کابینہ کو خبردار کیا ہے کہ اس کے یورپین دورے کا مقصد بھی یہی تھا کہ وہ اپنے حلیف ممالک کی طرف سے ایران پر دباؤ ڈالوا سکے۔
اس اجلاس میں بنیامین نتنیاہو نے کہا کہ ہماری تمام یورپی رہنماؤں سے ملاقات کا مقصد شام میں ایران کی موجودگی تھی اور ہمیں شام کی سرحدوں پر ایرانی فوج کا ہونا بہت ستا رہا ہے۔اور میرے اس دورے کا مقصد ایران کو سیاسی میدان میں تنہا کردینا تھا۔
یاد رہے کہ شام میں ایران اپنی مرضی سے نہیں بلکہ شامی حکومت کی دعوت پر دہشتگردوں سے مقابلہ کرنے کے لئے گیا ہے اور تکفیری ٹولوں کے مکمل صفائے تک اسی سرزمین میں موجود رہے گا اور یہی وہ فکر ہے جو غاصب اسرائیل کو کھائے جارہی ہے۔چونکہ شام کی تخریب میں اسرائیل نے کسی فرصت کو ضائع کئے بغیر داعشیوں کی مدد کی تھی اور اب وہ سلسلہ منقطع ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔





آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Dec 13