Monday - 2018 Oct. 15
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194213
Published : 25/6/2018 19:15

امیرالمؤمنین(ع) کی نظر میں طولانی آرزؤوں کے نقصانات(1)

زندگی میں کسی چیز کی آرزو کرنا کوئی ناپسند امر نہیں ہے بلکہ کبھی کبھی کسی چیز کی آرزو انسان کے لئے مفید اور تحرک و ترقی کا سبب بن سکتی ہے۔وہ انسان جس کا زندگی میں کوئی مقصد ہو اور وہ اس کے حصول کے لئے کوشش کرے تو اس کی سستی و کاہلی ختم ہوجاتی ہے اور اب اس کی نگاہ اس کے مقصد کے حصول کی طرف رہتی ہیں۔لیکن یہ توجہ رہے کہ ہمیں ان چیزوں کی آرزو کرنا چاہیئے کہ جو معقول ہوں اور جن کا حصول بھی ہمارے لئے ممکن ہو،البتہ زندگی میں جھوٹی اور خیالی آرزو کرنے سے انسان کی زندگی عذاب بن جاتی ہے اور اس کے نقصانات پوری زندگی انسان کو ستاتے ہیں۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! زندگی میں کسی چیز کی آرزو کرنا کوئی ناپسند امر نہیں ہے بلکہ کبھی کبھی کسی چیز کی آرزو انسان کے لئے مفید اور تحرک و ترقی کا سبب بن سکتی ہے۔وہ انسان جس کا زندگی میں کوئی مقصد ہو اور وہ اس کے حصول کے لئے کوشش کرے تو اس کی سستی و کاہلی ختم ہوجاتی ہے اور اب اس کی نگاہ اس کے مقصد کے حصول کی طرف رہتی ہیں۔لیکن یہ توجہ رہے کہ ہمیں ان چیزوں کی آرزو کرنا چاہیئے کہ جو معقول ہوں اور جن کا حصول بھی ہمارے لئے ممکن ہو،البتہ زندگی میں جھوٹی اور خیالی آرزو کرنے سے انسان کی زندگی عذاب بن جاتی ہے اور اس کے نقصانات پوری زندگی انسان کو ستاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ جب ہم معصومین علیہم السلام اور خاص طور پر امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے حسین و بلیغ کلام کی طرف رجوع کرتے ہیں تو ہمیں حضرت کا یہ قول نظر آتا ہے جس میں آپ نے فرمایا:’’‘أَلَا إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَیْکُمْ خَلَّتَانِ اتِّبَاعُ الْهَوَی وَ طُولُ الْأَمَلِ أَمَّا اتِّبَاعُ الْهَوَی فَیَصُدُّ عَنِ الْحَقِّ وَ أَمَّا طُولُ الْأَمَلِ فَیُنْسِی الْآخِرَةَ ۔۔۔۔۔‘‘۔ اے لوگوں! میں تمہارے لئے دو چیزوں کے سلسلہ میں ڈرتا ہوں،خواہشات نفس کی پیروی اور طولانی آروزئیں،چونکہ خواہشات نفس کی پیروی انسان کو حق سے روک دیتی ہے اور طولانی آرزوئیں انسان سے یاد موت کو چھین لیتی ہیں۔ آگاہ ہوجاؤ! دنیا نے بڑی تیزی کے ساتھ تم سے منھ موڑ لیا ہے اور اس میں تمہارے لئے پانی کے خالی برتن میں باقی رہ جانے والے چند قطروں کے مانند کچھ چیزیں باقی بچی ہیں ۔آگاہ ہوجاؤ! کہ قیامت ہم سے نزدیک ہوا چاہتی ہے ،دنیا اور آخرت دونوں کی اولاد ہوتی ہے لہذا تم یہ کوشش کرو کہ آخرت کی اولاد میں تمہارا شمار ہو چونکہ قیامت کے دن ہر بچہ اپنے والدین کی طرف پلٹا دیا جائے گا آج عمل کرنے کا وقت ہے اور کل(قیامت میں) صرف حساب لیا جائے گا وہاں عمل کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔(نہج البلاغہ،خطبہ ۲۸)


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Oct. 15