Wed - 2018 Dec 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194224
Published : 18/6/2018 18:20

وہابیوں کے نزدیک خدا کی جھوٹی قسم کھانا بھی جائز ہے

ابن تیمیہ نے ایک جعلی روایت نقل کی ہے کہ : خدا کی جھوٹی قسم ، غیر خدا کی سچی قسم سے بہتر ہے ، چنانچہ ابن تیمیہ کہتا ہے کہ غیر خدا کی قسم کھانا شرک ہے۔
ولایت پورٹل: ابن تیمیہ کا کہنا یہ ہے کہ اس بات پر علماء کا اتفاق ہے کہ باعظمت مخلوق جیسے عرش وکرسی، کعبہ یا ملائکہ کی قسم کھانا جائز نہیں ہے ، تمام علماء مثلاً امام مالک ، ابوحنیفہ اور احمد ابن حنبل (اپنے دوقولوں میں سے ایک قول میں) اس بات پر اعتقاد رکھتے ہیں کہ پیغمبر اکرم(ص) کی قسم کھانا بھی جائز نہیں ہے اور مخلوقات میں سے کسی کی قسم کھانا چاہے وہ پیغمبر کی ہو یا کسی دوسرے کی جائز نہیں ہے اور منعقد بھی نہیں ہوگی ، (یعنی وہ قسم شرعی نہیں ہے اور اس کی مخالفت پر کفارہ بھی واجب نہیں ہے) کیونکہ صحیح روایات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ پیغمبراکرم (ص) نے فرمایا:’’خدا کے علاوہ کسی دوسرے کی قسم نہ کھاؤ ، ایک دوسری روایت کے مطابق اگر کسی کو قسم کھانا ہے تو اس کو چاہیۓ کہ یا تو وہ خدا کی قسم کھائے یا پھر خاموش رہے یعنی کسی غیر کی قسم نہ کھائے اور ایک روایت کے مطابق خدا کی جھوٹی قسم ، غیر خدا کی سچی قسم سے بہتر ہے ، چنانچہ ابن تیمیہ کہتا ہے کہ غیر خدا کی قسم کھانا شرک ہے‘‘۔(۱)
البتہ بعض علماء نے پیغمبر اسلام(ص) کی قسم کو استثناء کیا ہے اور آپ کی قسم کو جائز جانا ہے احمد ابن حنبل کے دو قولوں میں سے ایک قول یہی ہے ، اسی طرح احمد ابن حنبل کے بعض اصحاب نے بھی اسی قول کو اختیار کیا ہے۔
بعض دیگر علماء نے تمام انبیاء کرام کی قسم کو جائز جانا ہے، لیکن تمام علماء کا یہ قول کہ انھوں نے بلا استثنیٰ مخلوقات کی قسم کھانے سے منع کیا ہے صحیح ترین قول ہے۔(۲)
ابن تیمیہ کا خاص شاگرد اور معاون ابن قیّم جوزی کہتا ہے: غیر خدا کی قسم کھانا گناہان کبیرہ میں سے ہے ، پیغمبر اکرم(ص) نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص بھی غیر خدا کی قسم کھاتا ہے وہ خدا کے ساتھ شرک کرتا ہے، لہٰذا غیر خدا کی قسم کھانا گناہ کبیرہ میں سر فہرست ہے۔(۳)
غیر خدا کی قسم کے بارے میں وضاحت
مرحوم علامہ امین(رح) فرماتے ہیں کہ صاحب رسالہ (ابن تیمیہ) کا یہ قول کہ غیر خدا کی قسم کھانا ممنوع ہے ، یہ ایک بکواس کے سوا کچھ نہیں ہے کیونکہ اس نے اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے صرف ابوحنیفہ، ابو یوسف ، ابن عبد السلام اور قدوری کے اقوال نقل کئے ہیں ، گویا تمام ممالک اور ہر زمانہ کے تمام علماء صرف انھیں چار لوگوں میں منحصر ہیں ، اس نے شافعی، مالک اور احمد ابن حنبل کے اقوال کو کیوں بیان نہیں کیا اور اس نے عالم اسلام کے مشہور ومعروف بے شمار علماء جن کی تعداد خدا ہی جانتا ہے کے فتوے نقل کیوں نہیں کئے۔
 حق بات تو یہ ہے کہ غیر خدا کی قسم کھانا نہ مکروہ ہے اور نہ حرام ، بلکہ ایک مستحب کام ہے اور اس بارے میں بہت سی روایات بھی موجود ہیں ، اس کے بعد مرحوم علامہ امین نے صحاح ستہ سے چند روایات نقل کی ہیں۔(۴)
موصوف اس کے بعد فرماتے ہیں کہ غیر خدا کی قسم کھانا، رسول اکرم(ص) اور اصحاب وتابعین کے زمانہ سے آج تک تمام مسلمانوں میں رائج ہے ، خداوندعالم نے قرآن مجید میں اپنی مخلوقات میں سے بہت سی چیزوں کی قسم کھائی ہے ، خود پیغمبراکرم (ص) اور اصحاب رسول وتابعین کی زندگی  میں ایسے بہت سے مواقع موجود ہیں جن میں انھوں نے اپنی جان یا دوسری چیزوں کی قسم کھائی ہے اور اس کے بعد مرحوم علامہ امین(رح)نے ان بہت سے واقعات کو باقاعدہ سند کے ساتھ بیان کیا ہے جن میں مخلوق کی قسم کھائی گئی ہے۔(۵)
ایک دوسری جگہ پر کہتے ہیں کہ وہ احادیث جو غیر خدا کی قسم سے منع کرتی ہیں یاتو ان کو کراہت پر حمل کیا جائے یا وہ احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ غیر خدا کی قسم منعقد نہیں ہوتی اور اس میں نہی ، نہی ارشادی ہے، اور اس طرح کی قسمیں مکروہ ہیں حرام نہیں، جبکہ وہابیوں کے امام احمد ابن حنبل نے  پیغمبر اکرم(ص) کی قسم کے جواز پر فتویٰ دیا ہے۔
شعرانی احمد بن حنبل کے قول کو نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر کسی نے پیغمبر اکرم(ص) کی قسم کھائی تو اس کی وہ قسم منعقد ہے بلکہ پیغمبر کے علاوہ بھی دوسروں کی قسم کھانا اس قسم کے منعقد ہونے کا سبب بنتا ہے۔(۶)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔الجواب الباہر،ص۲۲۔
۲۔الرد علی الاخنائی،ص ۱۶۴، والفتاوٰی الکبریٰ جلد ۱،ص ۳۵۱۔
۳۔اعلام الموقعین،ج۴،ص۴۰۳۔
۴۔کشف الارتیاب،ص۳۳۰۔
۵۔حوالہ سابق،ص ۳۳۶۔
۶۔حوالہ سابق،ص ۳۴۲۔





آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Dec 19