Sunday - 2018 july 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194312
Published : 25/6/2018 19:20

امیرالمؤمنین(ع) کی نظر میں طولانی آرزؤوں کے نقصانات(2)

طویل آرزوئیں انسان سے بصیرت اور صحیح تشخیص کے جوہر کو چھین لتی ہیں اسے صرف اپنی آرزوؤں تک پہونچے کی فکر ہوتی ہے اس کی ساری کد و کاوش ان تک پہونچنے کے لئے ہوتی ہے لہذا وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اس عالم میں خدا کیوں ہے اور یہ کہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی پتہ بھی نہیں ہلتا۔
ولایت پورٹل: قارئین کرام ہم نے گذشتہ مضمون میں طولانی آزؤوں کے نقصانات کے متعلق امیر کائنات حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کے کلمات سے استفادہ کرتے ہوئے یہ گذارش کی تھی کہ طولانی آرزؤں کے سبب انسان بہت سے اخلاقی امراض میں مبتلاء ہوجاتا ہے اور ان کی وجہ سے  اس فرد کی زندگی میں مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں:
یہ بھی پڑھئے: امیرالمؤمنین(ع) کی نظر میں طولانی آرزؤوں کے نقصانات(1)
۱۔بدرفتاری، بدی کردار
نہج البلاغہ میں امیرالمؤمنین علی علیہ السلام  فرماتے ہیں کہ طویل آرزوؤں سے انسان میں بد کرداری کے جراثیم پنپنے لگتے ہیں چنانچہ حضرت فرماتے ہیں: جس کی آرزؤئیں طویل ہوتی ہیں اس کا کردار اچھا نہیں ہوتا۔(نہج البلاغہ،خطبہ ۲۸)
چونکہ طولانی اور کاذب آرزؤوں کے حصول کے لئے ممکن ہے وہ بہت سے ایسےکام کرنے کی  کوشش کرے جو انسان کی روح اور اس کے ضمیر کے ساتھ ہماہنگی نہ رکھتے ہو،یہی چیز سبب بنتی ہے کہ انسان اپنی آخرت کو بہت سستا شیطان کے ہاتھوں فروخت کردیتا ہے اور ساتھ میں بہت سے دنیاوی عواقب بھی اس کے دامن گیر ہوجاتے ہیں۔
لہذا انسان کو ہمیشہ توجہ کرنا چاہیئے کہ اپنی آرزؤوں کے حصول کے ساتھ ساتھ نیک اعمال کو ترک نہ کرے اور اسے یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ زندگی کی حقیقت کیا ہے اور اسے اس دنیا میں کیوں بھیجا گیا ہے؟ لہذا امام علی علیہ السلام ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں:آگاہ ہو جاؤ تم لوگ ابھی آرزؤوں کے حصار میں ہو اور اس کے بعد موت یقینی ہے پس جو شخص ان آرزؤوں کے دنوں میں، موت کے پہونچنے سے پہلے نیک عمل کرے گا اسے فائدہ پہونچے گا اور موت سے اسے کوئی نقصان نہیں ہوگا لیکن جو نیک عمل کرنے میں کوتاہی کرے گا اسے مرنے کے بعد گھاٹا اٹھانا ہوگا پس جس طرح ڈر کے وقت اللہ کو یاد کرتے ہو اور عمل کرتے ہو  خوشی کے مواقع پر بھی اسے یاد رکھو۔
۲۔ موت سے غفلت
وہ انسان کے جو اپنے تمام وقت کو اپنی بے جا آرزؤوں کے حصول میں صرف کردے تو زمانہ کے ساتھ ساتھ اس سے موت کی یاد ختم ہوجاتی ہے اور اسے اپنی موت کا وقت بہت دور نظر آنے لگتا ہے اور فرصت کے مواقع اسے زیادہ نظر آتے ہیں لیکن اچانک ہی وہ وقت آن پہونچتا ہے اور ابھی اس کی تمام آرزؤئیں پوری بھی نہیں ہوپاتیں کہ سامان سفر تیار ہوا چاہتا ہے۔
حضرت امیر علیہ السلام نے اس منظر کو بڑے خوبصورت پیرائے میں بیان فرمایا ہے:’’ اس دنیا کے عبرت انگیز ہونے کی ایک علامت یہ ہے کہ ابھی انسان اپنی آرزؤوں کے مکمل ہونے کا انتظار کر ہی رہا ہوتا ہے کہ اچانک موت کا نقارہ بج جاتا ہے کہ جس سے اس کی امید ٹوٹ جاتی ہے اور اب نہ تو وہ اپنی آرزؤوں کو حاصل کرپاتا ہے اور نہ اس کے پاس مزید وقت ہوتا ہے۔
سبحان اللہ! یہ دنیا کی چند روزہ خوشی کتنی فریب دینے والی ہے اور اس سے سیراب ہونا مزید تشنگی کا سبب بن جاتا ہے۔
یا ایک جگہ فرماتے ہیں :جو شخص اپنی آرزؤوں کے حصول کی طرف دوڑتا ہے موت اسے اُچک لیتی ہے۔
۳۔دل کا اندھا پن
حضرت علی علیہ السلام طولانی آرزؤوں کے ایک اور نقص کی طرف اشارہ فرماتے ہیں وہ ہے انسان کو حقیقت کا دکھائی نہ دینا چونکہ طویل آرزوئیں انسان سے بصیرت اور صحیح تشخیص کے جوہر کو چھین لتی ہیں اسے صرف اپنی آرزوؤں تک پہونچے کی فکر ہوتی ہے اس کی ساری کد و کاوش ان تک پہونچنے کے لئے ہوتی ہے لہذا وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اس عالم میں خدا کیوں ہے اور یہ کہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی پتہ بھی نہیں ہلتا۔ وہی سب کا روزی رساں ہے اگر اس کا ساتھ ہو تو ہر قدم منزل مقصود کی طرف بڑھتا چلا جائے گا ۔بے بصیرتی ایسی آفت ہے جو طولانی آرزو رکھنے والوں کے جلد دامن گیر ہوتی ہے چنانچہ حضرت فرماتے ہیں: طویل آرزؤوں سے انسان کا دل اندھا ہوجاتا ہے اور اس کے حصہ کی جو روزی اللہ کی طرف سے مقدر ہوچکی ہے وہ اسے مل کررہے گی۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 july 22