Wed - 2018 Nov 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194323
Published : 26/6/2018 17:59

یمنی گرداب میں پھنسا بن سلمان

یمن اس وقت آل سعود اور خاص طور پر سعودی کے بد مست جوان ولیعہد کے لئے ایک گرداب بن چکا ہے کہ جس سے نکلنے کی کوشش تو بہت کررہا ہے لیکن جتنے ہاتھ پاؤں مارتا جارہا اتنی ہی گہرائی میں اترتا جارہا ہے ایسے میں صرف محروم خواتین کو ان کا مسلم حق دیئے جانے سے اس کے دامن اور ماتھے پر لگے داغ صاف نہیں ہوسکتے۔

ولایت پورٹل: رپورٹ کے مطابق اتوار کے روز سعودی عرب میں خواتین سے ڈرائیونگ پابندی ہٹی اسی کے ساتھ مانو سعودی میڈیا میں بھونچال سا آگیا۔ ہر ایک چینل سعودی ولیعہد بن سلمان کی تعریف و ستائش میں رطب اللسان تھا۔اگرچہ یہ پسماندہ میڈیا یہ بھول گیا کہ خواتین کو یہ حق دینے والا سعودی عرب دنیا کا سب سے آخری ملک ہے جبکہ دنیا کے پسماندہ اور دور افتادہ ممالک میں برسوں پہلے خواتین کے اس حق کو تسلیم کیا جاچکا ہے ۔
ظاہر سی بات ہے کہ سعودی میڈیا تو کیا خود سلمان کے باپ داد بھی اس سوال کا جواب نہیں دے سکتے چونکہ سعودی عرب میں خواتین کو ان کے مسلم اسلامی حقوق سے ایک صدی سے محروم رکھا گیا ہے۔
ساتھ ہی آج بہت سے سعودی عرب کے لوگوں سمیت دنیا کے اکثر لوگوں کے اذہان میں یہ سوال کھٹک رہا ہے کہ یمن میں مداخلت سے پہلے سعودی حکومت نے 34 ممالک کا اتحاد صرف 3 ھفتہ کے لئے بنایا تھا جس میں اس کا مقصد یہ تھا کہ یمن کے فراری صدر کو یمن واپس بھیج دیا جائے گا اور اسی مدت معینہ میں  یمن سے حوثیوں کی بیخ کنی کردی جائےگی۔
لیکن حادثہ اتنا سخت ہوا کہ سعودی عرب اور اس کے نام نہاد اتحاد کو لینے کے دینے پڑگئے کہاں پورے یمن کو تسخیر کرنے کے لئے 25ہزار فوج پر مشتمل اتحاد اور وہ بھی صرف 3 ہفتوں میں ۔اور کہاں پانچ برس چلتی ہوئی جنگ،بھڑکتے ہوئے شعلے ،اٹھتے ہوئے دھوئیں،سینے چیرتی ہوئی گولیاں،فضاؤں کو مسموم کردینے والے میزائیل۔ اور اب حالت یہ ہوگئی کہ سعودی کے اس احمق شہزادے کو اپنے اصلی آقاؤں کو بھی جنگ میں اترنے پر مجبور کردیا ہے۔
مجھے ایسا لگتا ہے خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس دینا اور اس کے لئے سعودی ولیعہد کی قصیدہ گوئی در اصل داخلہ اور خارجہ میڈیا کو نیا مدعا فراہم کرنا ہے تاکہ یمن میں حاصل ہونے والی شکستوں سے عمومی افکار کو موڑ دیا جائے ۔
یہ تو مدہوش ولیعہد کی شکست کا ایک نمونہ ہے اگر ذرا کچھ دن پہلے کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو ایسا لگتا ہے کہ خطہ میں سر اٹھانے والے ہر فتنہ کے پیچھے اس حکومت کا ہاتھ ہے جیسا کہ شام میں داعش یا دیگر کالعدم تکفیری ٹولوں کی بقا کا سارا دارو مدار ان کے مالی و فکری سپورٹ پر تھا اگرچہ شام میں سعودی کو جس خفت کا سامنا کرنا پڑا اس کی مثال تو کہیں سعودی عرب کے ماضی میں بھی نظر نہیں آتی دوسری طرف عراق کی بربادی کے سپنے نے آل سعود نے اربوں ڈالرز خرچ کرکے دیکھے تھے لیکن اللہ نے ظالموں کی بساط ہی الٹ دی اور نہ جانے کتنے فسادات کے واقعات موجود ہیں جن میں اس خاندان کو شکست سے روبرو ہونا پڑا ہے۔
غرض یمن اس وقت آل سعود اور خاص طور پر سعودی کے بد مست جوان ولیعہد کے لئے ایک گرداب بن چکا ہے کہ جس سے نکلنے کی کوشش تو بہت کررہا ہے لیکن جتنے ہاتھ پاؤں مارتا جارہا اتنی ہی گہرائی میں اترتا جارہا ہے ایسے میں صرف محروم خواتین کو ان کا مسلم حق دیئے جانے سے اس کے دامن اور ماتھے پر لگے داغ صاف نہیں ہوسکتے۔





آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 21