Wed - 2018 july 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194335
Published : 27/6/2018 16:15

بحرین کی جیلوں میں شرمسار ہوتی انسانیت

بحرین کی جیلوں میں سیاسی مخالفین کو کرنٹ لگایا جاتا ہے،سینہ کے بل لٹا کر پٹائی کی جاتی ہے پیروں میں رسیاں باندھ کر الٹا لٹکایا جاتاہے،نیند سے محروم کردیا جاتا ہے اور سب سے بڑا ظلم یہ کہ بہت سی خواتین اور مردوں کو آل خلفہ کے کارندوں کی طرف سے جنسی زیادتیوں کا شکار بنایا جانا ہے۔
ولایت پورٹل: فروری 2011 میں پہلی بار بحرین کے لوگوں نے ملک پر قابض آل خلیفہ کی ناجائز حکومت کے خلاف ایک انقلاب کی بنیاد ڈالی جو آج بھی جاری ہے۔
دنیا میں دو ملک ایسے ہیں جن میں سیاسی مخالفین سے قیدخانے بھرے پڑے ہیں ایک سعودی عرب اور ایک اس کا حلیف بحرین۔
لیکن بحرین میں حالات سعودی سے بہت مختلف ہیں یہاں کے لوگوں میں جذبہ،ہمت اور شجاعت بھری ہوئی ہے اگرچہ آل خلیفہ نے اپنے تمام سیاسی مخالفین کو دبانے کے لئے بہت کوششیں کیں لیکن اس کے باوجود اس دریا میں طلاطم ختم نہ ہوا۔
انسانی حقوق کی عالمی کونسل کے نگراں کی رپورٹ کے مطابق بحرین کی جیلوں کا اس وقت بُرا حال ہے چونکہ یہاں اس وقت 5 ہزار 98 سیاسی مخالفین موجود ہیں جن کو حکومت کی طرف سے طرح طرح کی اذیت و آزار پہونچایا جارہا ہے ۔
اقوام متحدہ کے اس عہدیدار کا کہنا ہے کہ ان جیلوں میں موجود سیاسی مخالفین میں مردوں کے ساتھ ساتھ عورتیں بھی ہیں اور وہ افراد جن کو علیحدہ سیل میں رکھا گیا ہے ان کے ساتھ بہت ناروا سلوک کیا جاتا ہے مثلاً انہیں کرنٹ لگایا جاتا ہے،سینہ کے بل لٹا کر پٹائی کی جاتی ہے پیروں میں رسیاں باندھ کر الٹا لٹکایا جاتاہے،نیند سے محروم کردیا جاتا ہے اور سب سے بڑا ظلم یہ کہ  بہت سی خواتین اور مردوں کو آل خلفہ کے کارندوں کی طرف سے جنسی زیادتیوں کا شکار بنایا جانا ہے۔ یہ وہ انسانی المیہ ہے جس پر نسل آدم کو قیامت تک شرمسار رہنا ہوگا
انسانی حقوق کی عالمی کونسل کے نگراں کے مطابق انہیں آزار و اذیت کے سبب بہت سے قیدی شہید ہوچکے ہیں لہذا انہوں نے بحرینی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سیاسی قیدیوں پر مزید سختی اور تندی کا مظاہرہ نہ کرے۔





آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 july 18