Wed - 2018 Nov 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194341
Published : 27/6/2018 17:49

اسلام نے عورت کو نمونہ عمل کی حیثیت سے پیش کرکے اس زمانہ میں رائج غلط تفکر کا گلا گھونٹ دیا: رہبر انقلاب

اسلام نے عورت کو صرف عورتوں کے لئے ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لئے محور، عبرت اور آئینہ کے طور پر پیش کیا ہے۔ کسی مرد کی مثال بھی دی جاسکتی تھی لیکن نہیں ۔ کیوں؟اس لئے کہ ان مثالوں کے ذریعہ عورت کے سلسلہ میں موجود غلط طرز فکر کا مقابلہ کرنا تھا۔

ولایت پورٹل: دین اسلام نے ان طاغوتی نظاموں کے برخلاف عورت کی اصل حیثیت و شخصیت کا تحفظ کیا جو عورت کو دوسرے ہی رخ سے دیکھا کرتے تھے۔ اسلامی میں ایک مؤمن کے لئے ایک عورت کو مثال کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے:{وَضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاً لِلَّذِیْنَ آمَنُوْا امْرَأَۃَ فِرْعَوْنَ}۔
پھر دوسری خاتون کو مثال کے طور پر پیش کیا(وَمَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ) یعنی ’’لِلَّذِیْنَ آمَنُوْا‘‘(صاحبان ایمان) کے لئے دو عورتوں کو ایک مثال بنا کر متعارف کرایا۔ ’’لِلَّذِیْنَ کَفَرُوْا‘‘(کافروں) کے لئے بھی دو عورتوں کی مثال دی(اِمْرَأَتَ نُوْحٍ وَّامْرَأتَ لُوْطٍ کَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا۔۔۔فَخَانَتٰھُمَا)۔
یعنی اسلام نے عورت کو صرف عورتوں کے لئے ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لئے محور، عبرت اور آئینہ کے طور پر پیش کیا ہے۔ کسی مرد کی مثال بھی دی جاسکتی تھی لیکن نہیں ۔ کیوں؟اس لئے کہ ان مثالوں کے ذریعہ عورت کے سلسلہ میں موجود غلط طرز فکر کا مقابلہ کرنا تھا۔ ضروری نہیں کہ یہ طرز فکر ہمیشہ تحقیر آمیز رہا ہو تاہم ہمیشہ غلط ضرور تھا۔





آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 21