Wed - 2018 Nov 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194358
Published : 30/6/2018 16:55

امام حسین(ع) فوجی یونیورسٹی کی سالانہ تقریب میں اسلامی جمہوریہ ایران کے کمانڈر ان چیف کی شرکت

رہبر انقلاب نے فرمایا: اگر اسلامی مملکت کے تمام عوام،جوان اور اسی طرح سیاسی ، اقتصادی،حفاظتی اور لشکری شعبہ جات کے عہدیدار اس صبر و تقوٰی پر کاربند ہوجائیں تو اللہ کے فضل سے ملک کو کوئی نقصان نہیں پہونچا سکتا۔

ولایت پورٹل: رپورٹ کے مطابق آج صبح اسلامی جمہوریہ ایران کے کمانڈر ان چیف آیت اللہ العظمٰی سید علی خامنہ ای(مدظلہ العالی)تہران کی مشہور لشکری یونیورسٹی امام حسین(ع) ڈیفینس یونیورسٹی کے سالانہ پروگرام میں مہمان خصوصی تھے۔
یونیورسٹی کے احاطہ میں سب سے پہلے کمانڈر ان چیف نے گمنام شہداء کے مزارات پر فاتحہ خوانی کر دفاع مقدس کے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور اس کے بعد یونیورسٹی کے وسیع میدان میں حاضر موجود فوجی ٹوکڑیوں کو غور سے دیکھا۔
اسی طرح رہبر انقلاب اور اسلامی جمہوریہ ایران کے کمانڈر ان چیف نے تقریب میں موجود دفاع مقدس کے کچھ مجروحین اور شہداء کے اہل خانہ سے بھی ملاقات کی۔
اس کے بعد یونیورسٹی کے اسٹوڈینٹس نے ترانہ پڑھ کر اپنے محبوب کمانڈر کا استقبال کیا اور پھر حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کا خطاب ہوا۔
اسلامی انقلاب کے قائد نے اس تقریب کو خطاب کرتے ہوئے دشمن کی اس اہم سازش کی طرف اشارہ کیا جس میں اس کا منشا یہ ہے کہ اسلامی نظام اور عوام کے درمیان رخنہ ڈال دیاجائے لہذا آپ نے اسلامی حکومت کے تمام حکام اور ذمہ داروں سے ہوشیاری،مقاومت،تدبیر اور قومی یکجہتی کا مطالبہ کرتے ہوئے  اشرافی گری سے دور رہنے کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: اگر قومی طاقت کے ذرائع مضبوط ہوں اور دشمن کے مقابل سستی اور تسلیم کا اظہار نہ کیا جائے تو اس نظام کا برا سوچنے والے کبھی اپنے مقاصد تک نہیں پہونچ سکتے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے کمانڈر ان چیف نے اپنے خطاب میں قرآن مجید کی کچھ آیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دشمن کی سازش کو ناکام بنانے کے لئے صبر و تقویٰ کو ڈھال قرار دینے کے بارے میں فرمایا: اسلامی انقلاب کی جڑیں مضبوط اور اس کا مستقبل روشن ہے اور اس کے بلند اہداف تک پہونچنے کے لئے تقویٰ اور استقامت سب سے زیادہ ضروری ہیں۔
آپ نے اپنے خطاب میں لفظ’’ تقوٰی‘‘ کی وضاحت فرماتے ہوئے کہاکہ: تقویٰ کے معنٰی دشمن کے مقابلہ میں اپنے حفاظت کرنا ہے اور اس لئے ضروری ہے کہ آپ دشمن کی ہر مکاری سے ہوشیار رہتے ہوئے اس پر اعتماد نہ کریں نیز تدبیر و عقلانیت کا سہارا لیتے ہوئے سستی اور کاہلی سے پرہیز کریں۔
رہبر انقلاب نے فرمایا: اگر اسلامی مملکت کے تمام عوام،جوان اور اسی طرح سیاسی ، اقتصادی،حفاظتی اور لشکری شعبہ جات کے عہدیدار اس صبر و تقوٰی پر کاربند ہوجائیں تو اللہ کے فضل سے ملک کو کوئی نقصان نہیں پہونچا سکتا۔


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 21