Tuesday - 2018 Dec 11
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194359
Published : 30/6/2018 17:34

شہید آیت اللّٰہ ڈاکٹر بہشتی کی زندگی اور خدمات پر ایک نظر

اسلامی انقلاب کی کامیابی اور بقاء و استحکام میں شہید بہشتی کے کارناموں کو اگر ایک جملے میں بیان کرنا چاہیں تو ہم کہہ سکتے ہیں: "حضرت امام خُمینی رضوان اللّٰہ علیہ کے رفقائے کار کے درمیان شہید بہشتی نے اسلامی انقلاب کی بنیادی ترین خدمات انجام دی ہیں‘‘۔

ولایت پورٹل: شہید ڈاکٹر بہشتی کو اُن کی بے پناہ صلاحیتوں اور ناقابل فراموش خدمات کے سبب ایران کے مجاہد علماء اور فقہاء کے درمیان ایک ممتاز مقام حاصل ہے شہید آیت اللّٰہ بہشتی بیک وقت مجتہد،فقیہ،فلسفی،مکتب شناس، سیاستدان، سخن دان و سخن راں، صاحب قلم، مصنف و محقق، منتظم و مدبر، دنیا کی کئی زندہ زبانوں پر مسلط عربی، فارسی، انگریزی اور جرمنی کے قادر الکلام خطیب اور مقرر اور ایک ایسی جامع و کامل شخصیت کے حامل مؤمن و مخلص انسان تھے کہ جن پر تاریخ اسلام و انقلاب جتنا بھی افتخار کرے کم ہے۔
ایک ایسی احسن و اکمل ذات کہ جس کے لئے رہبرِ کبیر انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی(رح) نے بجا طور پر  فرمایا ہے:"شہید بہشتی اپنی جگہ تنہا ایک امت تھے"۔
تعلیم کے مختلف ادور
شہید محمد حُسین بہشتی، سن 1928ء میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم اصفہان میں حاصل کی اور اسلامی علوم میں اپنی بے پناہ دلچسپی کے سبب ہائیر سکنڈری کے بعد حوزۂ علمیہ اصفہان میں داخلہ لے لیا اور سن 1946ء تک اسی حوزہ میں سطوح عالیہ کے دروس تمام کئے اور پھر شہید مطہری کی مانند اپنے چند دوستوں کے ساتھ حوزۂ علمیہ قم تشریف لائے۔
اور جیسا کہ خود کہتے ہیں: میں نے قم آ کر مدرسۂ حُجتیہ میں قیام کیا اور سن 1947ء تک مکاسب اور کفایہ کی تکمیل میں مصروف رہا اس کے بعد آیت اللّٰہ داماد اور آیت اللّٰہ العظمی بروجردی اور امام خُمینی(رح) کے درس خارج میں بھی شریک ہوا البتہ اسی کے ساتھ ہی دل میں خیال آیا کہ یونیورسٹی کی تعلیم بھی حاصل کروں چنانچہ سن 1951ء میں اسلامی معارف میں (Theology faculty) ۔(شعبہ دینیات)سے بی اے  اور پھر ایم اے کے بعد سن 1959ء میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی حاصل کی۔
شہید بہشتی نے اپنے مباحثین میں شہید مطہری، موسیٰ شبیری زنجانی، موسیٰ صدر، آیت اللّٰہ مکارم شیرازی، ڈاکٹر مفتح، آذری قمی، آیت اللّٰہ مشکینی اور ربانی شیرازی کا ذکر کیا ہے انہوں نے 1954ء میں "دبیرستان دین و دانش کے نام سے قم میں ایک ہائیر سکنڈری اسکول کی بنیاد رکھی اور حوزۂ علمیۂ قم کے طلبہ کے درمیان مروجہ علوم و زبان سیکھنے کا شوق پیدا کیا اور گرانقدر ثقافتی خدمات انجام دیں۔
مدرسہ حقانی کی بنیاد رکھنا
1963ء میں آپ نے قم میں ہی چند احباب کے ساتھ مل کر ایک بڑے اور وسیع مدرسۂ حقانی کی بنیاد رکھی اور حوزۂ علمیہ کے فاضل طلبہ کا ایک گروہ، اسلامی حکومت کے موضوع پر تحقیقات کے لئے تشکیل دیا۔ یہی وہ زمانہ ہے جب شاہی حکومت کی خفیہ ایجنسی "ساواک" نے آپ کو قم چھوڑ دینے پر مجبور کیا اور آپ کو تہران منتقل ہونا پڑا لیکن آپ نے اپنا رابطہ حوزۂ علمیہ سے قطع نہیں کیا۔
نصاب تعلیم کا قائم کرنا
1964ء میں مدارس میں دینی تعلیمات کے لئے ایک مکمل نصاب تعلیم مرتب کیا جس کے بارے میں حوزہ اور یونیورسٹی کے ایک مسلم الثبوت استاد اور پروفیسر آقائے حقانی کا کہنا ہے کہ: "یہ نصاب نہایت ہی جامع اور بڑی خوبیوں کا حامل تھا جس کے مطابق ایک طالب علم پندرہ 15 سال میں اجتہاد کی منزلیں طے کر سکتا تھا، اور اجتہاد کے مراحل میں ایک امتحان کے علاوہ ایک تحقیقی مقالہ بھی لکھنا پڑتا اور ان کی روشنی میں مسائل کے استنباط کی صلاحیت دیکھتے ہوئے اجتہاد کی سند ارکان مدرسہ کی طرف سے دی جاتی۔یہ نصاب پہلی مرتبہ مدرسۂ حقانی میں جاری کیا گیا اور شہید بہشتی کے مرتب کردہ اصولوں کی بنیاد پر طلبہ کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا گیا۔
در اصل شہید بہشتی چاہتے تھے کہ حوزہ علمیہ اپنی قدیم روایتی حد بندیوں سے باہر نکلے اور عصری تقاضوں  کے مطابق اپنی تبلیغی ذمہ داریوں کو انجام دے سکے اور حوزۂ علمیۂ قم نہ صرف ایران اور مخصوص اسلامی ملکوں کے لئے بلکہ پوری دنیا کے مسائل کا جواب دے سکے اور بین الاقوامی برادری کی سطح پر ایک موثر کردار ادا کر سکے۔
جرمنی میں تبلیغی مہم
سن 1965ء میں آیت اللّٰہ العظمی بروجردی علیہ الرحمہ کی فرمائش پر پانچ برسوں کے لئے شہید بہشتی کو اسلامی تبلیغی مہم کے لئے جرمنی کے شہر ہمبرگ کا سفر کرنا پڑا آپ نے وہاں یونیورسٹیوں کے طلبہ کے درمیان اسلامی انجمنیں قائم کرکے فارسی زبان کی ترویج کے ضمن میں ہی صحیح اسلامی افکار و نظریات سے مغربی دنیا کو آشنا بنانے کے لئے یونیورسٹیوں اور کلیساؤں میں جا کر خود ان کی جرمن زبان میں تقریریں کیں جو بے حد مؤثر ثابت ہوئیں۔
واپسی اور تفسیر قرآن
1970ء میں تہران واپس آئے اور تفسیر قرآن کا درس دینا شروع کیا اور ڈاکٹر جواد باہنر اور ڈاکٹر عقودی کے ساتھ مل کر ایران کے مدرسوں میں رائج کتابوں کی تدوین، اصلاح میں مشغول ہوگئے۔ اس طرح اپنی مسلسل فکری اور ثقافتی انقلابی جد و جہد کے بعد 1978ء میں علی الاعلان سیاسی میدان میں اُتر پڑے اور شہید مطہری، شہید مفتح، حجۃُ الاسلام ملکی اور آیت اللّٰہ امامی کاشانی کے ساتھ مل کر ایک مُلک گیر سیاسی جماعت "روحانیت مبارز تہران" کی سنگ بنیاد رکھی جس میں دوسری اہم انقلابی شخصیتیں رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللّٰہ العظمی خامنہ ای، آیتُ اللّٰہ مشکینی، آیت اللّٰہ ربانی املشی، آیت اللّٰہ طبسی اور شہید ہاشمی نژاد وغیرہ بھی شامل ہو گئے۔اور پھر امام خمینی (رح) کے حکم سے باقاعدہ طور پر ایک انقلابی کونسل تشکیل پائی جس میں آیت اللّٰہ بہشتی سرفہرست تھے۔
چنانچہ اسلامی انقلاب کی کامیابی اور بقاء و استحکام میں شہید بہشتی کے کارناموں کو اگر ایک جملے میں بیان کرنا چاہیں تو ہم کہہ سکتے ہیں: "حضرت امام خُمینی رضوان اللّٰہ علیہ کے رفقائے کار کے درمیان شہید بہشتی نے اسلامی انقلاب کی بنیادی ترین خدمات انجام دی ہیں‘‘۔
شہید بہشتی کی شخصیت کی جامعیت اور اسلامی علوم و فنون پر کامل تسلط کے ساتھ ہی عصرِ حاضر کے تمام سیاسی و نظریاتی مکاتب سے گہری واقفیت نیز مختلف اسلامی اور یورپی زبانوں میں تقریر و تحریر کی صلاحیت نے آپ کو دوستوں حتیٰ بزرگوں کے درمیان بھی ممتاز کردیا تھا۔ کسی بھی سیاسی فکری محفل و مجلس میں آپ کی موجودگی لوگوں کو ہر ایک سے بے نیاز کر دیتی تھی، جس وقت اسلامی جمہوریہ ایران کے آئین کی تشکیل کے لئے "مجلس خبرگان" کے جلسوں میں شہید بہشتی اپنی زبان کھولتے تھے تو اِسلام و قرآن کے تمام مخالفین و معاندین کی زبانیں گنگ رہ جاتی تھیں اور ان کو اپنی کمیوں کے سبب سبکی کا احساس ہوتا تھا۔
یہی وجہ ہے دو طرح کے لوگ آپ کے وجود سے گبھراتے اور مخالفت و کینہ توزی سے لبریز تھے، ایک تو منافقین اور مشرق و مغرب سے وابستہ عناصر کا وہ گروہ تھا جو اسلامی انقلاب کی بنیادوں کا ہی مخالف تھا اور دوسرا حکومت و اقتدار کا بھوکا تنگ  نظر  علماء  اور مفاد پرست دانشوروں کا وہ طبقہ تھا جو اپنے سیاسی مقاصد کی راہ میں  شہید بہشتی کو  روڑا سمجھتا تھا اور سختی سے احساس کمتری کا شکار تھا۔
چنانچہ انقلاب کی کامیابی کے ابتدائی ایام کی تاریخ  کا اگر گہری نظروں سے مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت پوری طرح واضح ہو جائے گی کہ اسلامی انقلاب کے مخالف تمام گروہ، منافقین ہوں یا مشرقی سوشلسٹ اور مغربی لبرل عناصر،ہر ایک کی دشمنی اور تہمتوں کا پہلا نشانہ شہید بہشتی کی ذات تھی۔
مخالفین اور شہادت
مخالفین کو معلوم تھا بہشتی تن تنہا ایک معاشرہ، ایک ملت اور ایک امت ہیں لہٰذا پہلے انہوں نے ان کی شخصیت کو قتل اور بدنام کرنے کی کوشش کی لیکن آیت اللّٰہ بہشتی کو ان کی درایت ، محکم گفتگو ، خلوص، خُدا پر توکل اور نفس پر اعتماد نے دشمنوں کے مقابل پر میدان میں کامیابی عطا کی اور دشمنوں کے سامنے آپ کو قتل کر دینے کے سوا اور کوئی چارہ باقی نہ رہا، دشمنان اسلام کی طرف سے جبکہ طرح طرح کی سازشوں کی یلغار تھی وہ دوسرا گروہ کہ جن کی نظر میں شہید بہشتی کا وجود کانٹے کی طرح چبھ رہا تھا اور انہیں سیاسی میدان میں تنہا کر دینے کے درپے تھا، دشمنوں کی ہاں میں ہاں ملانے لگا اور خطرناک انداز میں ان لوگوں نے اس مردِ مُجاہد کے خلاف عوام کو فریب دینے والے پروپیگنڈے شروع کر دئے۔
انقلاب کے بعد ابتدائی تین برسوں میں شہید بہشتی کو جن حالات سے مقابلہ کرنا پڑا ہے اس کی ترجمانی شہید کو، امام خُمینی کی طرف سے دیا گیا "مظلوم" کا خطاب کرتا ہے جو آیت اللّٰہ بہشتی کی شہادت کے بعد امام خُمینی نے دیا تھا۔بہرحال، شہید بہشتی نے تمام مخالفتوں کے باوجود اسلامی انقلاب کی وہ قیمتی خدمات انجام دی ہیں کہ جنہیں اسلامی انقلاب کی تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر اوائل انقلاب ہی میں شہید بہشتی نے "آئین" کی تشکیل کا اہتمام نہ کیا ہوتا تو خُدا ہی بہتر جانتا ہے کہ آج اسلامی جمہوریہ ایران کا "آئین" کیا اور کیسا ہوتا? ایک ایسا "آئین" وجود میں لانا کہ جس کو عالمی سطح پر مروجہ اصولوں کے برخلاف، پوری طرح مغرب کی تقلید سے آزاد رکھا جا سکے اور صرف و صرف اسلامی اصول و تعلیمات پر اس طرح استوار ہو کہ ذرہ برابر بھی شرع اسلامی سے مغائرت نہ رکھتا ہو، بڑا ہی مشکل اور پیچیدہ کام تھا ، خصوصا "اسلامی فقہاء اور مجتہدین جامع الشرائط کی کونسل" مجلس خبرگان  میں اس کی منظوری اور ہر ایک کو اپنے محکم بیان اور استدلال سے قانع کر دینا شہید بہشتی کی علمی اور فقہی منزلت کو واضح کرنے کے لئے کافی ہے۔
اگرچہ اسلامی جمہوریہ ایران کا آئین راہ اسلام و قران میں شہید ہونے والے دسیوں ہزار افراد کے خون کا عطیہ ہے لیکن مجلس خبرگان کی کوششوں نیز اس کے ناظم کی حیثیت سے شہید مظلوم آیت اللّٰہ بہشتی کے تدبر اور دور اندیشیوں کا ہی نتیجہ ہے۔ آئین کی منظوری میں آیت اللّٰہ بہشتی کا فیصلہ کن کردار ، دشمنوں کی مخالفت بڑھ جانے کا سبب بنا ، بنی صدر اور بازرگان کی عبوری حکومت نے اسی لئے مجلس خبرگان کو منحل کرنے کی بھی کوشش کی مگر ناکامی سے دوچار ہونا پڑا۔ انقلاب کے بعد، امام خُمینی رضوان اللّٰہ علیہ نے ایک اور اہم ذمہ داری شہید بہشتی کو یہ سپرد کی کہ انہیں "عدلیہ" کا سربراہ  "دیوان عالی"  قرار دے دیا اور شہید نے اپنی بے پناہ صلاحیتوں سے عدلیہ کو عزت و وقار عطا کر دیا وہ کسی بھی عنوان سے آئین کی خلاف ورزی، چاہے وہ ملک کی کوئی بھی شخصیت کیوں نہ ہو ، ہرگز قبول نہیں کرتے تھے،شہید نے جس مقام اور جس حیثیت سے بھی انقلاب کی خدمت کی ہے پوری فرض شناسی کے ساتھ کام انجام دیا وہ کہا کرتے تھے کہ:"ہم خدمت کے دلدادہ ہیں اقتدار کے پیاسے نہیں ہیں‘‘۔
آیت اللہ بہشتی اپنے بہتر ساتھیوں سمیت اس دہشتگردانہ واقعہ میں شہید ہوگئے۔ دشمن اپنی دانست میں گویا اپنے مذموم مقصد میں کامیاب ہوگیا تھا کیونکہ اس کا یہ ماننا تھا کہ اسلامی انقلاب کے سرگرم شخصیات کو دہشتگردی کا نشانہ بنا کر وہ اسلامی جمہوریہ ایران سے اسلامی انقلاب کا صفایا کردے گا لیکن یہ اس کی بھول تھی اور انقلاب اسلامی مزید پائیدار ہوتا چلا گیا۔
27 جون 1981 کو رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای پر نماز جمعہ کے دوران قاتلانہ حملہ کے اگلے ہی دن یعنی 28 جون کو نماز مغرب کے بعد حزب جمہوری اسلامی کے مرکزی دفتر میں ایک اعلیٰ پائے کا اجلاس طلب کیا گیا جس میں ملک کو درپیش مختلف مسائل پر گفتگو کی جانی تھی۔
اجلاس میں جب اس وقت کے چیف جسٹس آیت اللہ بہشتی کا خطاب شروع ہی ہوا تھا کہ اچانک ایک زور دار دھماکہ ہوا اور عمارت چند ہی لمحوں میں خاک کے ڈھیر میں تبدیل ہوکر رہ گئی۔
بانی انقلاب اسلامی نے اس اندوہناک واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ملت ایران نے اس سانحے میں کربلا کے شہیدوں کی تعداد کے برابرا بہتر شہید دیئے، بہشتی دشمنان اسلام کی آنکھوں کا کانٹا بنے ہوئے تھے۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Dec 11