Wed - 2018 july 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194364
Published : 30/6/2018 19:17

امام جعفر صادق(ع) کے یوم شہادت پر خاص:

امام صادق(ع) کا مدرسہ فکر اور اس کی تعلیمات

مدینہ جیسے مقدس شہر اور اس کے پاکیزہ گھرانے میں امام صادق(ع) نے زندگی کے ابتدائی دن گذارے، نبوت کے گھر میں پیدا ہوئے۔ ایمان کی چار دیواری میں پلے بڑھے اور مرکز وحی کے پیغام کو نشر کرنے کے ذمہ دار بن گئے۔ آپ کا مدرسہ مستقل، ثابت قدم اور ہر دورِ حکومت سے مقابل رہا۔ تہذیب نفس، بلندی عقل اور معراج کمال کے تمام ذخیرے آپ کے یہاں مہیا تھے۔
ولایت پورٹل: قارئین کرام! مدینہ وہ مقدس شہر جہاں صحابہ و تابعین اور بڑے بڑے عظماء امت آباد تھے، فقہ کے بڑے بڑے حلقے قائم تھے۔ چاروں طرف سے طالبان علوم آرہے تھے اور حافظانِ حدیث، فقیہ عصر بن کر نکل رہے تھے۔ یہ رسول(ص) کا دارالہجرۃ، شریعت کا وطن، نور کا مرکز اور اسلامی حکومت کا دارالخلافہ تھا۔ یہیں وہ اہلبیت(ع) آباد تھے جنھیں آیت تطہیر نے مرکز طہارت قرار دیا تھا۔ جو سعید بن مسیب کی زبان میں ’’علم کے حامل، ہدایت کے پرچم اور اسلام کے حکمراں تھے‘‘۔اور مسلم بن ہلال عبدی کی زبان میں ’’نور خلافت کا مرکز اور گفتارِ نبوت کا مظہر تھے‘‘۔
اسی مقدس شہر اور پاکیزہ گھرانے میں امام صادق(ع) نے زندگی کے ابتدائی دن گذارے، نبوت کے گھر میں پیدا ہوئے۔ ایمان کی چار دیواری میں پلے بڑھے اور مرکز وحی کے پیغام کو نشر کرنے کے ذمہ دار بن گئے۔ آپ کا مدرسہ مستقل، ثابت قدم اور ہر دورِ حکومت سے مقابل رہا۔ تہذیب نفس، بلندی عقل اور معراج کمال کے تمام ذخیرے آپ کے یہاں مہیا تھے۔ اس مدرسہ کا مقصد لوگوں کی فکر و نظر کی بلندی اور ان کی اصول اسلام سے واقفیت تھی۔ احکام دین کا رواج اور اجتماعی مشکلات کا حل اس کا خاص ہدف تھا۔مدینہ کی بہار کا زمانہ وہی تھا جب یہ مدرسہ عروج کی منزلیں طے کررہا تھا، چار طرف سے  وفد آرہے تھے اور علوم رسالت کی بھیک سے اپنی جھولیاں بھر رہے تھے۔ سیاسی حالات قدرے خوشگوار تھے اور لوگ مشکلات کو حل کرانے کے لئے ہجوم کئے ہوئے تھے۔ امت نے اس مدرسہ سے اتنا حاصل کیا جس کا چرچا شہر شہر اور ملک ملک ہوگیا۔(۱)
مالک بن انس جو سیاسی اقتدار پانے سے پہلے اس مدرسہ کے باقاعدہ طالب علم تھے، ان کا بیان ہے:’’ امام صادق(ع) اکثر تبسم فرمایا کرتے تھے لیکن جب آپ کے سامنے رسول اکرم(ص) کا ذکر آجاتا تھا تو چہرۂ مبارک زرد ہوجاتا تھا‘‘۔
حدیث بیان کرنے کے لئے طہارت فرمایا کرتے تھے۔میں نے ان کو یا تو نماز کی حالت میں دیکھا ہے یا خاموش پایا ہے یا پھر تلاوت قرآن کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ بے معنی کلام آپ(ع) کی ذات سے بعید تھا۔ آپ(ع) ان علماء میں سے تھے جن کے دل میں خوف خدا ہوتا ہے۔(۲)
حافظ نیشاپوری کی روایت ہے کہ آپ اکثر حدیث بیان کیا کرتے تھے ، لطف مجلس اور افادۂ اجتماع آپ کے یہاں تھا۔ رسول اکرم(ص) کا ذکر آجاتا تھا تو چہرہ کا رنگ بدل جاتا تھا۔ حج کے موقع پر احرام باندھنے کے بعد وہ ہیبت طاری ہوتی تھی کہ آواز گلوگیر ہوجاتی تھی اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ سواری پر ٹھہر نہ سکیں گے۔(۳)
انھیں علمی اجتماعات میں امام صادق(ع) کی تعلیمات نشر ہوتی تھیں۔ آپ کا کام اسلامی نفوس میں فضیلت کی تخم ریزی اور خیر و برکت کی آبیاری تھا۔ آپ کی گفتگو زندگی کے ہر شعبہ پر حاوی ہوتی تھی۔ نفوس کی تطہیر، اصلاح و ہدایت کے خطوط کا تعین، آپ(ع)کا خصوصی مقصد تھا۔ آپ نے ایک طرف امت کے دل میں خوف خدا اور اس کے احکام کی پابندی کا ذوق پیدا کرایا تو دوسری طرف انھیں عمل پر آمادہ کیا۔ تجارت کی تعبیر عزت سے کی جیسا کہ معلی بنی خنیس کا بیان ہے کہ ایک دن مجھے بازار جانے میں دیر ہوگئی تو حضرت نے فرمایا کہ اپنی عزت کی طرف جاؤ۔ ایک دوسرے شخص سے فرمایا کہ تم آج صبح اپنی عزت کی طرف نہیں گئے۔ اس نے کہا کہ میں ایک جنازہ میں چلا گیا تھا۔ فرمایا بہرحال اپنی عزت کو فراموش نہ کرنا۔ معاذ نے اپنی تجارت ترک کردی تو آپ نے فرمایا کہ دیکھو تجارت مت چھوڑو اس سے عقل جاتی رہتی ہے۔ اپنے عیال کے رزق میں وسعت دو تاکہ وہ تمہاری شکایت نہ کریں۔
ایک دن آپ نے ایک صحابی کے بارے میں دریافت کیا کہ وہ حج کے لئے کیوں  نہیں گیا؟ لوگوں نے عرض کی کہ اس نے تجارت چھوڑ دی ہے ، اب سرمایہ کم ہوگیا ہے۔ یہ سننا تھا کہ آپ سنبھل کر بیٹھ گئے ۔ فرمایا تجارت کو مت چھوڑو ورنہ بیکار ہوجاؤگے،تجارت کرو کہ اسی میں برکت ہے۔
معاذ کہتے ہیں کہ میں نے امام صادق(ع) سے عرض کی کہ حضور میں بازار چھوڑنا چاہتا ہوں۔فرمایا کہ اس کے نتیجہ میں تمہاری رائے کا وزن کم ہوجائے گا اور تم سے کسی بات میں مدد نہ لی جائے گی۔
اس قسم کے بے شمار ارشادات ہیں جن میں امت کو تجارت اور کاروبار پر آمادہ کیا گیا ہے تاکہ کسی کے دست نگر بن کر ذلیل نہ ہوں۔ اپنا وقار باقی رکھیں اور اپنے اہل و عیال کے رزق کا انتظام کرتے رہیں اور اپنے سے پست طبقہ کی امداد بھی کرسکیں لیکن چونکہ مال کی محبت سے خطرات بھی لاحق تھے اس لئے اس نکتہ کی طرف بھی متوجہ فرمایا:’’دیکھو طلب معیشت کو بیکار آدمی سے زیادہ اور دنیا کے حریص آدمی سے کم ہونا چاہیے۔ اپنے نفس کو حرص سے محنت کی منزل میں لے آؤ اور ضعف و سستی سے بلند و بالابناؤ۔ اتنا حاصل کرو جتنا ایک مؤمن کے لئے ضروری ہوتا ہے‘‘۔
آپ کے پیش نظر یہ بھی تھا کہ خرچ میں زیادتی انسان کی اقتصادی زندگی کو تباہ کرسکتی ہے اس لئے اس نکتہ کو بھی سمجھا دیا:’’فضول خرچی سے فقیری پیدا ہوتی ہے اور میانہ روی سے مالداری وجود میں آتی ہے‘‘۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔صواعق محرقہ،ص۱۲۰
۲۔التوسل و الوسیلۃ ابن تیمیہ،ص۵۲،ط۲
۳۔الروضہ حافظ نیشاپوری




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 july 18