Wed - 2018 july 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194371
Published : 1/7/2018 18:7

سعودی عرب کی فوج کے مستعفٰی جنرل کمانڈر کا آل سعود کے بارے میں سنسنی خیز انکشاف،پڑھ کر رہ جائیں گے دنگ

سعودی عرب کے اس سابق جنرل نے یہ بھی وضاحت کی کہ سعودی عرب کی تمام پالیسیاں اپنی خاندانی آمریت کو بچانے کے محور اور مرکز کے ارد گرد گردش کرتی ہیں اور اس کے لئے وہ کسی بھی حد تک گرسکتے ہیں چاہے انہیں فلسطین ،عراق،شام اور یمن جیسی عظیم قوم کی قربانی کیوں نہ دینا پڑے۔
ولایت پورٹل: رپورٹ کے مطابق یمن جنگ میں سعودی اتحاد کی جان اور سب سے تجربہ کار جنرل میجر دخیل بن ناصر القحطانی نے آل سعود کی حکومت کی سازشوں سے پردہ اٹھاتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمن میں عنقریب واقع ہونے والے انسانی المیہ کو رکوانے کی بھرپور کوشش کریں۔
سعودی عرب کے سابق جنرل القحطانی نے یمن کے خلاف جنگ سے استعفٰی دیدیا ہے کہ جو ظہران کے علاقہ میں ملک عبد العزیز ائیر بیس کے کمانڈر تھے۔
القحطانی نے آل سعود کی سازشوں کا پردہ فاش کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراق میں شیعہ سنی فرقہ وارانہ تشدد میں ناکام ہوجانے کے بعد اب آل سعود عراق میں ایک نئی خانہ جنگی کی تلاش میں ہیں۔
سعودی عرب کے اس سابق جنرل نے یہ بھی وضاحت کی کہ سعودی عرب کی تمام پالیسیاں اپنی خاندانی آمریت کو بچانے کے محور  اور مرکز کے ارد گرد گردش کرتی ہیں اور اس کے لئے وہ کسی بھی حد تک گرسکتے ہیں چاہے انہیں فلسطین ،عراق،شام اور یمن جیسی عظیم قوم کی قربانی کیوں نہ دینا پڑے۔
سعودی عرب کے اس سابق جنرل نے آل سعود اور امریکہ کے درمیان ہونے والے ایک دیرینہ معاہدہ کا پردہ فاش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب اور امریکہ میں ہمیشہ سے یہ معاہدہ طئے ہوا ہے کہ امریکہ آل سعود کی حکومت کو برقرار رکھنے میں اس کی مدد کرے گا بدلے میں مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے موجود منافع ریاض حکومت کی اولین ترجیحات میں سے ہونگے۔
سعودی عرب کے سابق جنرل نے کہا ہے کہ سعودی عرب خطہ میں کبھی سیاست اور جمہوریت کا خواہاں نہیں ہے چونکہ اسے معلوم ہے کہ اگر خطہ کے ممالک میں حکومتوں کا جمہوری نظام کامیاب رہا تو انہیں خاندانی آمریت سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے اسی لئے وہ لبنان شام ،یمن اور دیگر ممالک میں جمہوریت کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے میں لگا ہوا ہے۔
اس کے علاوہ بھی اس سعودی جنرل نے  سعودی عرب کے بہت سے خفیہ اسرار سے پردہ اٹھایا جن میں شام ،و عراق میں دہشتگردوں کی حمایت کے ساتھ ساتھ بیت المقدس کو غاصب اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامین نتنیاہو کو بطور تحفہ دے دینا بھی شامل ہے۔

 



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 july 18