Saturday - 2018 Sep 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194373
Published : 2/7/2018 15:20

تل ابیب سے بیت المقدس سفارتیں منتقل کروانے کے لئے نتنیاہو بے چین

اس رپورٹ کے تناظر میں سب سے پہلے نتنیاہو کی نظر ہلستان پر ہیں وہ چاہتے ہیں کہ جس طرح امریکہ اور گوآتمالا وغیرہ نے تل ابیب سے اپنے سفارت خانوں کو بیت المقدس منتقل کیا ہے وہ بھی بیت القدس شہر کو اسرائیل کا رسمی دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے وہاں منتقل ہوجائیں۔

ولایت پورٹل: رپورٹ کے مطابق غاصب صہیونی وزیر اعظم بنیامین نتنیاہو اس کوشش میں مصروف ہے کہ وہ ان ممالک کو اس بات پر تیار کرے جن کی سفارتیں تل ابیب میں ہیں تاکہ وہ اس مہینہ کے آخر تک بیت المقدس منتقل کرسکیں۔
اس رپورٹ کے تناظر میں سب سے پہلے نتنیاہو کی نظر ہلستان پر ہیں وہ چاہتے ہیں کہ جس طرح امریکہ اور گوآتمالا وغیرہ نے تل ابیب سے اپنے سفارت خانوں کو بیت المقدس منتقل کیا ہے وہ بھی بیت القدس شہر کو اسرائیل کا رسمی دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے وہاں منتقل ہوجائیں۔
یاد رہے کہ پچھلے سال امریکہ کے خبط الحواس صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی سفارتخانہ کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کی جی حضوری میں کچھ دیگر بے نام و نشان ممالک نے بھی اپنے سفارتخانے یہ سوچ کر کہ: بدنام نہ ہونگے تو کیا نام نہ ہوگا۔ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کردیئے تھے۔
ٹرمپ کے اس فیصلہ کی دنیا بھر میں مذمت کی گئی تھی اور پوری دنیا خاص طور پر مسلم ممالک میں امریکہ کے خلاف شدید احتجاج کئے گئے اور یوروپی یونین سمیت تمام اسلامی ممالک نے اس پر کڑی نکتہ چینی کی تھی۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Sep 22