Tuesday - 2018 Dec 11
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194376
Published : 2/7/2018 16:53

فکر قرآنی:

حضرت آدم(ع) کا بہشت سے اخراج

یہ صحیح ہے کہ آدم نبی تھے اور گناہ سے معصوم تھے لیکن جیسا آگے ہم بیان کریں گے کہ جب کسی پیغمبر سے ترک اولی سرزد ہوجاتا ہے تو خداوند عالم اس سے اس طرح سخت گیری کرتا ہے جیسے کسی عام انسان سے گناہ سرزد ہونے پر سختی کرتا ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! ہم نے گذشتہ کالم میں یہ عرض کیا تھا کہ شیطانی وسوسہ کے سبب حضرت آدم و حوا(ع) شجرہ ممنوعہ کے قریب چلے گئے اور اس کا پھل کھالیا نیز شجر ممنوعہ کی تفسیر بھی بیان کی تھی چنانچہ آج کی گفتگو اسی تناظر میں گذشتہ بحث کی اگلی کڑی ہے کہ جب آدم(ع) شجر ممنوعہ کے قریب گئے اور اس کا پھل کھایا  تو اب ان کے ساتھ کیا ہوا؟ آئیے اس کالم کو پڑھنے سے پہلے گذشتہ کڑی پر ایک نظر ڈالتے ہیں:
شجرہ ممنوعہ کونسا درخت تھا؟
قرآن مجید داستان حضرت آدم علیہ السلام کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتا ہے کہ: آخرکار شیطان نے ان دونوں (آدم و حوا(ع) کو پھسلا دیا اور جس بہشت میں وہ رہتے تھے اس سے باہر نکال دیا۔(۱)
اس بہشت سے جو اطمئنان و آسائش کا مرکز تھی اور رنج و غم سے دور تھی شیطان کے دھوکے میں آکر نکالے گئے جیسا کہ قرآن مجید کہتا ہے:’’اور ہم نے انہیں حکم دیا کہ زمین پر اترو جہاں تم ایک دوسرے کے دشمن ہوجاؤگے(یعنی ایک طرف آدم و حوا(ع) اور دوسری طرف شیطان)۔
مزید فرمایا گیا :’’تمہارے لئے ایک مدت معین تک زمین میں قرار گاہ ہے جہاں تم نفع اندوز ہوسکتے ہو‘‘۔(۲)
یہ وہ مقام تھا کہ آدم متوجہ ہوئے کہ انہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے اور بہشت کے آرام دہ اور نعمتوں سے مالا مال ماحول سے شیطانی وسوسہ کے سامنے سرجھکانے کے نتیجہ میں باہر نکالے جارہے ہیں اور اب زحمت و مشقت کے ماحول میں جاکر رہیں گے یہ صحیح ہے کہ آدم نبی تھے اور گناہ سے معصوم تھے لیکن جیسا آگے ہم بیان کریں گے کہ جب کسی پیغمبر سے ترک اولی سرزد ہوجاتا ہے تو خداوند عالم اس سے اس طرح سخت گیری کرتا ہے جیسے کسی عام انسان سے گناہ سرزد ہونے پر سختی کرتا ہے۔
..............................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔سورہ اعراف:۲۰ اور ۲۱۔
۲۔سورہ بقرہ:۳۶۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Dec 11