Sunday - 2018 july 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194378
Published : 2/7/2018 17:30

کیا نماز صرف مسلمانوں پر واجب ہے؟

قرآن مجید میں متعدد انبیاء کی عبادت و بندگی کے تذکرے موجود ہیں اور جس طرح ہم مسلمان نماز ادا کرتے ہیں دنیا کی متعدد اقوام میں عبادتیں موجود ہیں پس یہ کوئی صرف مسلمانوں سے مخصوص حکم نہیں ہے دوسرے نماز ہمیں بوجھ نہیں لگنا چاہیئے بلکہ جب ہم نماز کے لئے کھڑے ہوں تو ہمیں اپنی خوش قسمتی پر ناز کرنا چاہیئے کہ اس اللہ نے ہمیں اس لائق بنایا ہے کہ ہم اس کے حضور کھڑے ہیں۔
ولایت پورٹل: قارئین کرام! امالی شیخ صدوق(رح) ص 641پر رسول اکرم (ص) سے ایک معروف حدیث نقل ہوئی ہے ارشاد ہوتا ہے:’’ الصلاة عمود الدِّين ... فَان قُبِلَت قُبِلَ ما سواها و ان رُدَّت رُدَّ ما سواها‘‘۔ نماز دین کا ستون ہے اگر کسی کی نماز قبول درگاہ حق ہوگئی اس کے تمام نیک اعمال قبول ہوجائیں گے اور اگر نماز ہی قبول نہ ہوئی تو کوئی نیک عمل قبول نہ ہوگا۔
ہمارے معاشرے میں بھی الحمد للہ نماز کے تئیں لوگ بہت اہتمام کرتے ہیں لیکن شیطانی وسوسہ کا کیا کیا جائے کہ کبھی کبھی اچھے خاصے جوان ہم سے یہ سوال کرتے ہیں کہ: جناب ذکر خدا اور یاد خدا کے لئے ضروری تو نہیں ہے کہ انسان صبح شام مسجد کے چکر لگائے ؟ اور دوسرے یہ کہ ایک زمانہ وہ تھا کہ جب لوگوں کے پاس ایسا کوئی کام نہیں تھا لیکن آج اتنی مصروف زندگی میں سے نماز کے لئے وقت نکالنا بہت مشکل ہے؟
تو قارئین کرام! آج ہم آپ کی خدمت میں نماز کی ابتدائے تخلیق سے مختصر تاریخ دہراتے ہیں۔نیز اس تحریر میں یہ بتایا جائے گا کہ نماز کا حکم صرف مسلمانوں سے مخصوص نہیں ہے بلکہ ہمیشہ سے نماز ایک فریضہ کے طور پر رہی ہے یہ الگ بات ہے کہ زمانے اور شریعتوں کے اعتبار سے اس کی مقدار اور کیفیت میں تبدیلی آتی رہی۔
یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ تمام ہادیان برحق نے اپنی اپنی اقوام کو جس چیز کی طرف دعوت دی ہے وہ خدا کی عبادت ہے چنانچہ قرآن مجید پیغمبروں کی زبانی نقل کرتا ہے کہ وہ اپنی امتوں سے کہتے تھے:’’ اعبدوا الله‘‘ اللہ کی عبادت کرو!۔(مائدہ:۷۲، ۱۱۷۔ اعراف:۵۹ ، ۶۵ ،۷۳، ۸۵۔ ہود: ۵۰ ، ۶۱، ۸۴ )۔پس ان آیات میں غور کرنے سے پتہ چلتا ہے عبادت کا تصور ہر امت و شریعت میں موجود تھا لیکن اس کی شکل اور کیفیت الگ تھی۔
اور صرف یہ امتوں پر ہی نافذ قانون نہیں تھا بلکہ امتوں سے پہلے خود انبیاء اپنی تمام تر تبلیغی مہم اور اجتماعی امور کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ عبادت کرتے تھے چنانچہ جناب موسٰی علیہ السلام کو خطاب کرتے ہوئے اللہ ارشاد فرماتا ہے:’’ إنّنى أنا اللَّه لآ إلـهَ إلاّ أنا فاعبدنى و أقم الصّلوة لذكرى‘‘۔ میں اللہ ہوں،میرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے میری عبادت کرو اور میری یاد میں نماز قائم کرو۔
اسی طرح جناب عیسیٰ علیہ السلام اپنے بارے میں فرماتے ہیں:’’ و جعلنِى مبارَكًا أينَ ما كُنتُ و أوصَنى بالصّلوة و الزَّكوة مادُمتُ حيًّا‘‘۔ اللہ نے مجھے بابرکت بنایا ہے میں جہاں بھی رہوں،اور مجھے اللہ نے نماز و زکات کی وصیت کی ہے جب تک زندہ ہوں۔
غرض اس کے علاوہ بھی قرآن مجید میں متعدد انبیاء کی عبادت و بندگی کے تذکرے موجود ہیں اور جس طرح ہم مسلمان نماز ادا کرتے ہیں دنیا کی متعدد اقوام میں عبادتیں موجود ہیں پس یہ کوئی صرف مسلمانوں سے مخصوص حکم نہیں ہے دوسرے نماز ہمیں بوجھ نہیں لگنا چاہیئے بلکہ جب ہم نماز کے لئے کھڑے ہوں تو ہمیں اپنی خوش قسمتی پر ناز کرنا چاہیئے کہ اس اللہ نے ہمیں اس لائق بنایا ہے کہ ہم اس کے حضور کھڑے ہیں۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 july 22