Sunday - 2018 july 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194390
Published : 3/7/2018 16:32

فکر قرآنی:

آدم علیہ السلام کونسی جنت میں تھے؟

جنت بنیادی طور پر جائے تکلیف و عمل نہیں تھی، بلکہ آدم علیہ السلام کے زمین پر آنے کے لئے ایک آزمایش اور تیاری کا زمانہ تھا اور یہ نہی(یعنی شجرہ ممنوعہ کے پاس جانس اور اس کا پھل کھانا) صرف آزمایش کا پہلو رکھتی تھی۔
ولایت پورٹل: قارئین کرام! ہم نے گذشتہ مضمون میں یہ عرض کیا تھا کہ جب آدم علیہ السلام نے ترک اولٰی کا ارتکاب کیا تو اللہ نے سکون و چین کے مرکز جنت سے آپ کو ایک معین و مقرر مدت تک کے لئے زمین میں بھیج دیا کہ پھر جہاں آنے کے بعد اولاد آدم خوب پروان چڑھی اور آج تک یہ زمین آپ کی اولاد کی سکونت کی جگہ ہے لیکن بعض ذہنوں میں یہ سوال ضرور ابھرتا ہے کہ آخر وہ کیسی جنت تھی جس سے آدم(ع) کو نکالا گیا تھا؟ اور ترک اولٰی کیا گناہ ہے جس کے سبب آدم کو (نعوذ باللہ) سزا کے طور پر زمین میں بھیجا گیا؟ اور کیا کوئی معصوم پیغمبر گناہ کرسکتا ہے؟
برائے مہربانی اس سے پہلی کڑی کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے!
حضرت آدم(ع) کا بہشت سے اخراج
قارئین کرام! ہمیں پہلے سوال کے جواب میں اس نکتے کی طرف متوجہ رہنا چاہیئے کہ اگرچہ بعض نے کہا ہے کہ یہ وہی جنت تھی جو نیک اور پاک لوگوں کی وعدہ گاہ ہے لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ وہ بہشت نہ تھی بلکہ زمین کے سرسبز علاقوں میں نعمات سے مالا مال ایک روح پرور مقام تھا کیونکہ:
اول تو وہ بہشت جس کا وعدہ قیامت کے ساتھ ہے وہ ہمیشگی اور جاودانی نعمت ہے جس کی نشاندہی بہت سی آیات میں کی گئی ہے اور اس سے باہر نکلنا ممکن نہیں۔
دوسرے یہ کہ غلیظ اور بے ایمان ابلیس کے لئے اس بہشت میں جانے کی کوئی راہ نہ تھی وہاں نہ وسوسہ شیطانی ہے اور نہ خدا کی نافرمانی۔
تیسرے یہ کہ اہل بیت(ع) سے منقول روایات میں یہ موضوع بڑی صراحت کے ساتھ نقل ہوا ہے۔
ایک راوی کہتا ہے: میں نے اما جعفر صادق علیہ السلام سے آدم کی بہشت کے متعلق سوال کیا تو امام نے جواب میں فرمایاا:’’ دنیا کے باغوں میں سے ایک باغ تھا جس پر آفتاب و ماہتاب کی روشنی پڑتی تھی اگر آخرت کی جنتوں میں سے ہوتی تو کسی بھی صورت اس سے باہر نہ نکالے جاتے‘‘۔
یہاں سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ آدم کے ہبوط و نزول سے مراد نزول مقام ہے ، نہ کہ نزول مکان، یعنی اپنے اس بلند مقام اور سر سبز جنت سے نیچے آئے۔
بعض لوگوں کے نزدیک یہ احتمال بھی ہے کہ یہ جنت کسی آسمانی کرہ میں تھی اگرچہ وہ ابدی جنت نہ تھی بعض اسلامی روایات میں بھی اس طرف اشارہ ہے کہ یہ جنت آسمان میں تھی لیکن ممکن ہے لفظ’’ سماء‘‘ یعنی آسمان ان روایات میں مقام بلند کی طرف اشارہ ہو۔
تاہم بے شمار شواہد نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ جنت آخرت والی جنت نہ تھی کیونکہ وہ تو انسان کی سیر تکامل کی آخری منزل ہے اور یہ اس کے سفر کی ابتداء تھی اور اس کے اعمال اور پروگرام کی ابتداء تھی اور وہ جنت اس کے اعمال پروگرام کا نتیجہ ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کا گناہ کیا تھا کہ جو انہیں جنت سے نکال دیا گیا؟ واضح سی بات ہے کہ آدم علیہ السلام اس مقام کے علاوہ جو خدا نے قرآن مجید میں ان کے لئے بیان کیا ہے معرفت و تقویٰ کے لحاظ سے بھی بلند مقام پر فائز تھے وہ زمین میں خدا کے نمائندے تھے وہ فرشتوں کے معلم تھے وہ عظیم ملائکہ الہی کے مسجود تھے اور یہ مسلم ہے کہ آدم ان امتیازات و خصوصیات کے ہوتے ہوئے گناہ نہیں کرسکتے تھے علاوہ از ایں ہمیں معلوم ہے کہ وہ پیغمبر تھے اور ہر پیغمبر معصوم ہوتا ہے لہذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آدم سے جو کچھ سرزد ہوا وہ کیا تھا؟ اس سوال کے جواب میں 3 تفاسیر موجود ہیں:
۱۔آدم علیہ السلام سے جو کچھ سرزد ہوا وہ ترک اولٰی تھا دوسرے لفظوں میں ان کی حیثیت اور نسبت سے وہ گناہ تھا لیکن گناہ مطلق نہ تھا، گناہ مطلق وہ گناہ ہوتا ہے جو کسی سے سرزد ہو اور اس کے لئے سزا معین ہو ( مثلاً شرک، کفر، ظلم،اور تجاوز وغیرہ) اور نسبت کے اعتبار سے گناہ کا مفہوم یہ ہے کہ بعض اوقات بعض مباح اعمال بلکہ مستحب بھی بڑے لوگوں کے مقام و مرتبہ کے لحاظ سے مناسب نہیں ہوتے بلکہ انہیں چاہیئے کہ وہ ان اعمال سے گریز کریں اور اہم کام بجا لائیں ورنہ کہا جائے گا کہ انہوں نے ترک اولٰی کیا ہے مثلاً ہم جو نماز پڑھتے ہیں  اس کا کچھ حصہ حضور قلب کے ساتھ ہوتا ہے اور کچھ بغیر حضور قلب کے ، یہ امر ہمارے مقام کے لئے تو مناسب ہے لیکن حضرت رسول اسلام(ص) اور حضرت علی(ع) کے شایان شان نہیں ہے بلکہ ان کی ساری نماز خدا کے حضور میں ہونا چاہیئے اور اگر ایسا نہ ہو تو کسی فعل حرام کا ارتکاب تو نہیں تاہم ترک اولٰی ضرور ہے۔
۲۔خدا کی نہی یہاں’’ نہی ارشادی‘‘ ہے جیسا کہ ڈاکٹر کہتا ہے ،فلاں غذا نہ کھاؤ ورنہ بیمار پڑجاؤگے خدا نے بھی آدم سے فرمایاکہ اگر درخت ممنوعہ سے کچھ کھا لیا تو بہشت سے باہر جانا پڑے گا اور رنج و تکلیف میں مبتلا ہونا پڑے گا ،لہذا آدم علیہ السلام نے حکم خدا کی مخالفت نہیں کی بلکہ’’ نہی ارشادی ‘‘ کی مخالفت کی ہے۔
۳۔جنت بنیادی طور پر جائے تکلیف و عمل نہیں تھی، بلکہ آدم علیہ السلام کے زمین پر آنے کے لئے ایک آزمایش اور تیاری کا زمانہ تھا اور یہ نہی(یعنی شجرہ ممنوعہ کے پاس جانس اور اس کا پھل کھانا) صرف آزمایش کا پہلو رکھتی تھی۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 july 22