Wed - 2018 july 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194395
Published : 3/7/2018 17:39

جب تک ایران کے اقتصاد میں روڈا نہیں بنے گا ہم ایٹمی معاہدہ کے پابند رہیں گے:روحانی

ایران کے صدر ڈاکٹر روحانی نے اپنے سوئیسی ہم منصب آلن برسہ کے ساتھ پریس کانفرنس میں اطہار کیا کہ جب تک ایٹمی معاہدہ پر عمل کرنا ایران کے اقتصاد کے راستے میں روڈا نہیں بنے گا ہم اس معاہدہ کے پابند ہیں اس شرط کے ساتھ کہ دیگر یورپین برادری ہمیں تعاون کی یقین دہانی کرائے۔
ولایت پورٹل: رپورٹ کے مطابق ایران کے صدر ڈاکٹر روحانی نے اپنے سوئیسی ہم منصب آلن برسہ کے ساتھ پریس کانفرنس میں اطہار کیا کہ جب تک ایٹمی معاہدہ پر عمل کرنا ایران کے اقتصاد کے راستے میں روڈا نہیں بنے گا ہم اس معاہدہ کے پابند ہیں اس شرط کے ساتھ کہ دیگر یورپین برادری ہمیں تعاون کی یقین دہانی کرائے۔
ایرانی صدر نے سوئیسی صدر کے ساتھ بات چیت کو اہم بتاتے ہوئے کہا کہ دونوں ملک بہت سے علمی،ثقافتی اور ٹیکنالوجی امور کا تبادلہ کرنے پر آمادہ ہیں اور ہم ان تعلقات کو مزید بہتر اور وسیع کرنا چاہتے ہیں۔
ڈاکٹر روحانی نے پناہ گزین اور انسانی حقوق کے مسئلہ پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا جانتی ہے آج بھی ایران میں 30 لاکھ سے زائد مہاجر و پناہ گزیں موجود ہیں کہ جن کے بچوں کو اعلٰی تعلیمی اداروں میں بغیر فیس کے تعلیم دی جاتی ہے اور جس طرح ایک عام ایرانی شہری کو سہولیات میسر ہیں ہمارے ملک میں مہاجرین کے ساتھ کسی امتیازی سلوک روا رکھے ان تمام سہولیات کو مہاجرین کے لئے بھی فراہم کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر روحانی نے ٹرمپ کی مہاجر مخالف پالیسی پر تنقید کرتےہوئے کہا کہ بہت سے لوگ اپنی مڈرن ڈکٹیٹر شپ میں مہارت کو مہاجرین بچوں کو ان کے والدین سے جدا کر عمل میں لاتے ہیں۔ یہ ایک غیر انسانی اقدام ہے جس کی ہمارے یہاں کوئی گنجائش نہیں ہے۔
ایرانی صدر نے امریکہ کی ایران مخالف پالیسی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ایران کے تیل پر پابندی اور اس کے خلاف فضا ہموار کرنا امریکہ کو مہنگا پڑ سکتا ہے ۔
یاد رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر سوئیس اور اتریش کے دو دوزہ سرکاری دورے پر ہیں جہاں انہوں نے پہلے دن سوئیس میں اپنے ہم منصب آلن برسہ سے ملاقات کر کئی اہم معاہدوں پر دستخط کئے ہیں۔





آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 july 18