Tuesday - 2018 Sep 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194396
Published : 3/7/2018 18:58

30 برس گذرنے کے بعد بھی مسافر بردار طیارے پر حملہ کو نہیں بھول پائی ایرانی قوم

رپورٹ کے مطابق 3 جولائی سن 1988 کی بات ہے کہ جب تہران کے مہرآباد ائیرپورٹ سے ایران ائیر کا ایک مسافر بردار طیارہ دبئی کے لئے 290 مسافروں کو لئے خلیج فارس کے فراز سے گذر ہی رہا تھا کہ امریکی میزائل کے ذریعہ نشانہ بنایا گیا تھا جس میں پورا جہاز جل راکھ ہوگیا تھا۔

ولایت پورٹل: رپورٹ کے مطابق 3 جولائی سن 1988 کی بات ہے کہ جب تہران کے مہرآباد ائیرپورٹ سے ایران ائیر کا ایک مسافر بردار طیارہ دبئی کے لئے 290 مسافروں کو لئے خلیج فارس کے فراز سے گذر ہی رہا تھا کہ امریکی میزائل کے ذریعہ نشانہ بنایا گیا تھا جس میں پورا جہاز جل راکھ ہوگیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق یہ ایرانی قوم کے حق میں پہلی امریکی خیانت تھی جس کا نہ ٹوٹنے والا سلسلہ آج تک جاری ہے چونکہ ہر بین الاقوامی موڈ پر امریکہ نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ہر پروگرام کی کھل کر مخالفت کی ہے اور ہر سال کمر توڑ پابندیاں ایران پر لگا کر امریکہ اس خطہ میں ملنے والی اپنی شکست کا ایران کو ذمہ دار ٹہراتا ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق اگرچہ یہ حادثہ ہوئے 30 برس کا زمانہ گذر چکا ہے لیکن جن لوگوں کے عزیز اس طیارے میں جل کر راکھ ہوئے تھے انہیں آج بھی ان کی یاد ستاتی ہے۔اور ستم بالائے ستم یہ ہوا کہ جس کمانڈر نے اس طیارے کو نشانہ بنایا تھا امریکی حکومت نے اسے ایوارڈ سے بھی نوازا تھا اب اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ امریکہ انسانیت کا دوست نہیں بلکہ دشمن ہے۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Sep 18