Wed - 2018 july 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194410
Published : 4/7/2018 15:44

سعودی دہشت کا رنگ:

اپنے گھر میں نماز جماعت منعقد کرانے کے جرم میں ایک شیعہ کو 6 مہینہ کی جیل اور 50 کوڑے

اطلاعات کے مطابق بو صالح کو پولیس نے گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جہاں اسے 6 مہینہ کی جیل اور 50 کوڑے بطور سزا کھانا پڑیں گے جس کا صرف جرم یہ ہے کہ اس نے مذہب شیعہ کے مطابق اپنے گھر میں لوگوں کو نماز جماعت ادا کروائی۔
ولایت پورٹل: رپورٹ کے مطابق پیر کے روز سعودی عرب کی پولیس نے صوبہ الخبر کے رہنے والے ایک شیعہ مؤمن’’زہیر بو صالح‘‘ کو صرف اس وجہ سے گرفتار کر لیا ہے کہ اس نے اپنے گھر کو نمازیوں کے کھول لئے دیا تھا تاکہ وہ وہاں نماز باجماعت ادا کرسکیں۔
اطلاعات کے مطابق بو صالح کو پولیس نے گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جہاں اسے 6 مہینہ کی جیل اور 50 کوڑے بطور سزا کھانا پڑیں گے  جس کا صرف جرم یہ ہے کہ اس نے مذہب شیعہ کے مطابق اپنے گھر میں لوگوں کو نماز جماعت ادا کروائی۔
سعودی پولیس کا دعویٰ یہ ہے کہ اس شخص نے اپنے گھر میں شیعہ مذہب کے مطابق نماز جماعت منعقد کرکے سعودی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔
یاد رہے کہ سعودی عرب کے مشرقی علاقہ میں بہت سے شیعہ بیت الصلاۃ اور مساجد میں کئی برس سے حکومت کی طرف سے تالے ڈال دیئے گئے ہیں ایسے میں اس خدا کے بندے نے ذکر خدا برپا کرنے اور قرآن پر عمل کرنے کے لئے اپنے گھر کو لوگوں کے نماز جماعت پڑھنے کے لئے دیدیا لیکن سعودی حکومت کو گویا اس ملک میں رہ رہے شیعہ اقلیتوں کے حقوق کو پامال کرنے کی مکمل آزادی ہے ،ایسے میں نہ عالمی برادری کو کچھ دکھائی دیتا اور نہ ہی اقوام متحدہ کی انسانی کونسل کو کچھ نظر آتا ہے۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 july 18