Wed - 2018 july 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194436
Published : 7/7/2018 15:52

ایران کے خلاف ٹرمپ کی ظالمانہ پالیسی کے نفاذ کو عملی بنانے کے لئے امریکی وفد ریاض پہونچا

موصولہ اطلاعات کے مطابق امریکہ کے اس اعلٰی سطحی وفد کی میزبانی کے فرائض سعودی عرب کا مغرور شہزادہ اور ولیعہد بن سلمان دے رہا ہے ۔یہ اجلاس جدہ میں منعقد ہوگا جس میں بین الاقوامی بازار میں ایران کے تیل فروخت کرنے پر پابندی لگانے کا تمام لائحہ عمل طئے ہوگا۔
ولایت پورٹل: رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف خارجہ پالیسی کے چار چوب معین کرنے اور اس درمیان سعودی عرب کے کردار کی وضاحت کرنے کے لئے آج  امریکہ کا ایک اعلٰی سطحی وفد ریاض پہونچ چکا ہے ۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق امریکہ کے اس اعلٰی سطحی وفد کی میزبانی کے فرائض سعودی عرب کا مغرور شہزادہ اور ولیعہد بن سلمان دے رہا ہے ۔یہ اجلاس جدہ میں منعقد ہوگا جس میں بین الاقوامی بازار میں ایران کے تیل فروخت کرنے پر پابندی لگانے کا تمام لائحہ عمل طئے ہوگا۔
یاد رہے کہ سابق امریکی صدر اوبامہ کے دور سے ایران اور دنیا کے 5 بڑے ممالک کے درمیان جوہری توانائی کو لیکر ایک مدت تک مذاکرات چلتے رہے جس کے بعد یہ طئے پایا کہ ایران اپنا ایٹمی پروگرام اقوام متحدہ کی نگرانی میں ایک معین مقدار میں آگے بڑھائے گا جس کے نتیجہ میں اس پر لگی تمام بین الاقوامی پابندیاں ہٹ جائیں گی۔لیکن امریکہ میں ٹرمپ کے آتے ہی یہ معاہدہ یہودی لابی کے بے جا تعصب کا شکار ہوگیا اور امریکہ نے اپنا دامن جھاڑتے ہوئے اس معاہدہ سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور اس کے بعد ٹرمپ کی پالیسی یہ ہے کہ کسی صورت بین الاقوامی بازار میں ایران کا تیل فروخت نہ ہونے دیا جائے اسی وجہ سے یہ اجلاس جدہ میں رکھا گیا ہے چونکہ اگر بین الاقوامی منڈی میں ایران کا تیل نہیں آتا تو اس کا سارا بوجھ خطہ میں امریکہ کے اتحادی ممالک پر پڑے گا یہ الگ بات ہے کہ ایران نے ٹرمپ کی ہرزہ سرائی کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر امریکہ نے ایرانی قوم کے اقتصاد پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی تو اسے انجام کے بارے میں پہلے سوچ لینا چاہیئے۔





آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 july 18