Wed - 2018 july 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194441
Published : 7/7/2018 18:32

کیا مجھے ہمیشہ فاتح بننا چاہیئے؟ ایک تربیتی پہلو

ہم گھر کے پر سکون ماحول میں بچوں کی تربیت کرسکتے ہیں تاکہ وہ زندگی میں اٹھنے والے سخت طوفانوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہیں چونکہ اگر کسی میں صرف جیتنے کا شوق تو پروان چڑھتا رہے لیکن ناکام ہوجانے کا خیال نکل جائے ایسے لوگ زندگی میں آنے والی مشکلوں کے سامنے سپر انداختہ ہوجاتے ہیں اور کبھی کبھی تو ایسا دیکھنے میں آتا ہے کہ بہت سے لوگ زندگی میں ملنے والی ایک ناکامی کی تاب نہ لاکر زندگی سے رُخ ہی موڑ لیتے ہیں۔
ولایت پورٹل: قارئین کرام! شاید آپ نے کئی مرتبہ ایسے بچوں کو دیکھا ہوگا کہ جیسے ہی وہ کسی کھیل میں ہار جاتے ہیں تو لڑنا چھگڑنا شروع کردیتے ہیں اور اکثر بے قابو ہوجاتے ہیں ،بہت سے والدین اپنے بچوں کی اس عادت سے رنجیدہ ہوتے ہیں اور اس جواب کی تلاش میں رہتے ہیں کہ کیوں ان کا بچہ ہارتے وقت لڑائی جھگڑا شروع کردیتا ہے؟
قارئین! یہ ایک مشکل ہے اور اس کا حل بھی والدین کے پاس ہے یعنی درحقیقت یہ ایک تربیت کا ظریف نکتہ ہے جس  کی طرف بہت سے والدین کی توجہ نہیں ہوتی۔
یہ صرف آپ ہی کا بچہ نہیں ہے بلکہ دنیا میں ایسے بہت سے بچے ہیں جنہیں ہارنا اچھا نہیں لگتا لیکن پھر بھی بچے کی اس عادت کو تبدیل کیا جاسکتا ہے لیکن اس عادت سے چھٹکارے کے لئے آپ کو بہت محنت کی ضرورت ہے چونکہ یہ فطری بات ہے کہ کامیابی اور فاتح بننے کی لذت کچھ الگ ہی ہے لہذا ہارنے اور ناکامی کی تلخی کے تئیں بچے سے یہ انتظار کرنا کہ وہ حالات کو سمجھنے میں لگائے ایک فضول توقع ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ زندگی ایک ایسی چیز ہے جس میں بہت سے نشیب و فراز ہوتے ہیں اور ہمیں اپنی زندگی میں کامیابیوں کے ساتھ شکست اور ناکامی کی تلخی سے بھی آشنا ہونا چاہیئے۔
چونکہ ہم سب سے زندگی میں کچھ چیزیں میسر آتی ہیں تو کچھ چیزوں کا ساتھ چھوٹ جاتا ہے لہذا اپنے بچوں کو یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ اگر ہم سے کوئی چیز چھوٹ جائے تو ہمیں زندگی کے ہر چیلنچ کا مقابلہ کرنا ہے۔
لہذا اس تربیت کے لئے آپ ان طریقوں سے استفادہ کرسکتے ہیں:
۱۔اگر آپ کھیلتے وقت اپنے بچے کو یہ اجازت دیں کہ اگر تم کھیل میں کامیاب بھی نہیں ہوئے تو ہم تمہیں پیار کرتے ہیں اور تمہیں اہمیت دیتے ہیں لہذا اسے اپنے ساتھ جب کھلائیں تو کبھی خود ہار جائیں،کبھی جیت جائیں اور کبھی برابر رہ جائیں۔
۲۔آپ کا بچہ بھی دوسرے بچوں کی طرح یہ چاہتا ہے کہ ہمیشہ جیتتا رہے اگرچہ آپ نے اسے جیتنے کی تاکید نہ کی ہو،لہذا جب وہ کسی کھیل وغیرہ میں نہ جیت سکے تو آپ غمگینی کی حالت سے اسے باہر لائیں اور کہیں:’’ہم جانتے ہیں کہ تم کامیاب نہ ہونے پر خفا ہو‘‘ کھیل کے اچھے پہلوؤں کی طرف اس کی توجہ مبذول کریں اور اسے یہ اطمینان دلائیں کہ یہ تو ایک کھیل ہے آج دوسرا جیتا ہے تو کل تمہارا نمبر ہے۔
غرض!ہم گھر کے پر سکون ماحول میں بچوں کی تربیت کرسکتے ہیں تاکہ وہ زندگی میں اٹھنے والے سخت طوفانوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہیں چونکہ اگر کسی میں صرف جیتنے کا شوق تو پروان چڑھتا رہے لیکن ناکام  ہوجانے کا خیال نکل جائے ایسے لوگ زندگی میں آنے والی مشکلوں کے سامنے سپر انداختہ ہوجاتے ہیں اور کبھی کبھی تو ایسا دیکھنے میں آتا ہے کہ بہت سے لوگ زندگی میں ملنے والی ایک ناکامی کی تاب نہ لاکر زندگی سے رُخ ہی موڑ لیتے ہیں۔





آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 july 18