Thursday - 2018 Nov 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194472
Published : 10/7/2018 17:37

اسلام کی مخالفت اور امریکہ کی حمایت سے دستبردار ہوں آل سعود؛طالبان کی نصیحت

اس اجلاس کے انعقاد پر سوال اٹھاتے ہوئے طالبان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا افغانستان میں جاری جنگ کو کسی صورت بھی خانہ جنگی سے تعبیر کرنا غلط ہے بلکہ یہ ایک قوم کی اپنی عزت رفتہ کو بچانے کے لئے جد و جہد ہے۔

ولایت کے پورٹل: رپورٹ کے مطابق مشہور زمانہ کالعدم تکفیری ٹولہ طالبان نے سعودی عرب کے وہابی مفتیوں کے عالمی اجلاس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ افغانستان کی غیور قوم کو دہشتگرد کہے لہذا سعودی حکمرانوں اور علماء کو چاہیئے کہ وہ اسلام کی صریحی مخالفت اور امریکہ کی حمایت سے کنارہ کش ہوجائیں
اطلاعات کے مطابق آج سعودی عرب کے دار الحکومت ریاض میں اسلامی علماء کا ایک اہم اجلاس منعقد کیا جارہے ہے جس میں افغانستان میں ہورہی جنگ پر خصوصی بات چیت کی جائے گی۔
اس اجلاس کے انعقاد پر سوال اٹھاتے ہوئے طالبان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا افغانستان میں جاری جنگ کو کسی صورت  بھی خانہ جنگی سے تعبیر کرنا غلط ہے بلکہ یہ ایک قوم کی اپنی عزت رفتہ کو بچانے کے لئے جد و جہد ہے۔
 طالبان نے اپنے بیان میں یہ بھی واضح کیا کہ ہماری جنگ افغان حکومت کے خلاف نہیں ہے بلکہ اگر حکومت سے ہمارا اختلاف ہے تو صرف اس وجہ سے کہ وہ امریکی بساط کا مہرہ بن چکی ہے اور آج اس کی مثال ویسے ہی جیسے سوویت یونین کے عروج کے وقت سابقہ افغان حکومتیں ان کا کلمہ پڑھتی تھیں۔
اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ طالبان کوئی دہشتگرد گروہ نہیں ہے بلکہ وہ اپنے ملک کی آزادی کی لڑائی لڑنے والے مجاہدین ہیں اور ان کا قبضہ فی الحال 70 فیصد افغانستان پر ہے اور اسی وجہ ہے ہم اسلامی ممالک سے بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں۔
یاد رہے کہ سعودی عرب ہی ایک ایسا ملک ہے جس نے امریکہ اور ضیاء الحق سے ملکر طالبانی فوج بنائی تھی تاکہ افغانستان سے سوویت یونین کے اقتدار کو ختم کیا جاسکے وہ اقتدار تو ختم ہوگیا لیکن اب امریکی شکل میں نیا سامراج افغانستان پر حکومت کررہا ہے۔





آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Nov 22