Thursday - 2018 Nov 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194476
Published : 10/7/2018 19:13

ایک ڈاکٹر کی آپ بیتی؛آپ کیا کرتے ہیں؟

میں تو اپنی زندگی میں بہت مغرور تھا لیکن اس شخص نے مجھے سردی میں ہی پسینے چھڑوا دیئے۔ میں نے اس سے کہا: کیا میں بھی کوئی نیک کام کرسکتا ہوں؟! اس نے کہا کیوں نہیں یہ بتائیں کہ آپ کیا کرتے ہیں؟میں نے کہا: میں ایک ڈاکٹر ہوں۔جواب دیا: ہر شب جمعہ، اپنے کلینک پر مریضوں کو مفت میں دیکھیئے! نہیں جانتے کتنا ثواب کا کام ہوگا!

ولایت پورٹل: قارئین کرام! یہ ایک سچی داستان اور آپ بیتی ہے جو خود ایک ڈاکٹر نے اپنی یاد داشت میں تحریر کی تھی آئیے اسے پڑھتے ہیں:
میں فلاں ابن فلاں،چائلڈ اسپیشلسٹ ہوں،کئی سال پہلے کی بات ہے میں ایک بینک میں اپنا چیک بھونوانے گیا جب باہر آیا دیکھا بینک کے کنارے ایک چٹائی پر کچھ ضروری چیزیں،جیسے گھڑی،سیل،کاپی،پینسل وغیرہ فروخت کرنے والا اپنی چٹائی بچھائے یہ سب چیزیں بینچ رہا ہے  غرض اس کی چٹائی پر۲ ریال کے سکے بھی بہت سے دکھائی دے رہے تھے
یہ اس وقت کی بات ہے  جب ایران میں سڑکوں پر لگے تمام ٹیلفون بوتھ ۲ ریال کے سکہ سے چلتے تھے۔چنانچہ میں اس شخص کے پاس گیا اور ۱ تومان اسے دیتے ہوئے کہا کہ مجھے ۲ ریال کے سکے دیدو۔
اس شخص نے بڑی خوشروئی سے مجھے ۲ سکے اور میرے پیسہ لوٹاتے ہوئے کہا کہ :یہ (صلواتی)مفت ہیں۔(قارئین کرام! ایران میں جب کوئی سامان مفت میں دیا جاتا ہے تو اسے صلواتی کہتے ہیں یعنی محمد و آل محمد(ص) پر ایک مرتبہ صلوات پڑھو اور لے جائیں)۔
میں نے اس سے کہا: کیا مطلب؟
اس نے کہا اپنی صحت و سلامتی کے ایک مرتبہ صلوات پڑھ لینا اور پھر میز پر رکھے ایک بورڈ کی طرف پڑھنے کا اشارہ کیا
جس پر لکھا ہوا تھا:یہاں ۲ ریال کے سکے صلواتی ملتے ہیں۔
مجھے بڑا تعجب ہوا لیکن اس اثناء میں کچھ اور لوگ آئے اور اس نے ان سب کو ۲ ریال کے سکے اٹھا کر مفت میں دیدئے۔
مجھے بڑی حیرت تھی آخر کار مجھ سے رہا نہ گیا میں پوچھ ہی بیٹھا: جناب یہ بتائیے آپ کی کتنی درآمد ہے جو آپ سب کو ۲ ریال کے سکے مفت اور صلواتی دے رہے ہیں۔
اس بندہ خدا نے بڑی سادگی کے ساتھ کہا: ۲۰۰ تومان! اور میں ہر روز ۵۰ تومان کے سکے کروا کے، راہ خدا میں اس طرح کے لوگوں کے لئے رکھ دیتا ہوں تاکہ کسی ضرورت مند کے کام آجاؤں۔
اس سے یہ سن کر میرے جسم میں جیسے کرنٹ لگ گیا ہو چونکہ میں تو ایک عمر سے پیسہ جمع کرنے کے لئے تگ و دو کررہا تھا لیکن یہ ایک چھوٹا سا سامان بیچنے والا کتنا خوش نصیب ہے کہ اپنے ایک چوتھائی مال کو ہر دن اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔
جبکہ میری حالت یہ تھی اور میں بڑی جرات سے یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ میں نے ایک قدم بھی اللہ کی راہ میں نہیں اٹھایا اور آج تک ایک مریض بھی مفت میں اللہ کے لئے نہیں دیکھا۔
مجھے بڑا احساس ہوا اور میں نے اس جذبہ کی قدر دانی  کی غرض سے جیب سے ۱۰ تومان نکال کر اس کی طرف بڑھا دیئے۔اس جوان نے ایک ہلکی سی مسکراہٹ سے میرے پیسہ واپس کرتے ہوئے کہا: میں نے اللہ کی رضا کے لئے دیئے تاکہ کوئی اللہ کا بندہ خوش ہوجائے۔
اس مرتبہ میں نے ۱۰۰ تومان کا نوٹ ہی اس کی طرف بڑھا دیا لیکن اس  نے اپنی وہی پہلی بات کہہ کر مجھے مزید شرمندہ کردیا۔
جبکہ میں تو اپنی زندگی میں بہت مغرور تھا لیکن اس شخص نے مجھے سردی میں ہی پسینے چھڑوا دیئے۔
میں نے اس سے کہا: کیا میں بھی کوئی نیک کام کرسکتا ہوں؟! اس نے کہا کیوں نہیں یہ بتائیں کہ آپ کیا کرتے ہیں؟
میں نے کہا: میں ایک ڈاکٹر ہوں۔
جواب دیا: ہر شب جمعہ، اپنے کلینک پر مریضوں کو مفت میں دیکھیئے! نہیں جانتے کتنا ثواب کا کام ہوگا!
خیر میں نے اس کی پیشانی کا بوسہ لیا جبکہ میری آنکھوں سے اشک جاری تھے،بڑی مشکل سے اپنے کو کار تک پہونچایا اور گھر لوٹا۔
میں اس شخص سے ملاقات کرکے بلکل تبدیل ہوچکا تھا۔یہ کہاں اور میں کہاں؟
میں نے اس کے بعد اپنے کلینک پر ایک بورڈ لگوا لیا جس پر لکھا تھا:یہاں شب جمعہ کو مفت میں مریض دیکھے جاتے ہیں۔
میرے متعلق سن کر میرے دوستوں اور رشتہ داروں نے مجھے طعنے بھی دیئے۔
لیکن اس ایک عام سے بندہ خدا کی  وہ آواز ہمشہ میرے کانوں میں رس گھولتی رہتی  ہے جب اس نے مجھ سے دریافت کیا تھا: آپ کیا کرتے ہیں؟
اور میں بتا نہیں سکتا کہ مجھے اس دن سے کتنا سکون ملتا ہے؟
خیر جاتے جاتے میں آپ سے یہ تو معلوم کرلوں: آپ کیا کرتے ہیں؟ اور آپ کس طرح کوئی نیکی کرسکتے ہیں؟

 



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Nov 22