Thursday - 2018 Dec 13
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194590
Published : 21/7/2018 15:9

ہندوستان میں بڑھتا ہوا عدم برداشت کا طوفان، اور ہجومی تشدد کی وارداتیں

عدالت کا موقف واضح ہے کہ شہری امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری ریاستی انتظامیہ پر ہے ۔اور کسی بھی شخص کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں۔ خوف و ہراس، پھیلانے لاقانونیت اور تشدد کا ماحول برپا کرنے والوں کیخلاف ریاستی حکومتوں کو ایکشن لینا چاہیے ۔اس عدالتی حکم کے باجود صورت حال اتنی خطرناک ہے کہ ذرایع کے مطابق گزشتہ برسوں گئو رکشااور بچہ چورکے الزام میں بھیڑنے کئی افراد کو زدوکوب کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا۔

سید نجیب الحسن زیدی
ولایت پورٹل: جب پانی کی سطح بڑھتی ہے تو شروع میں لوگ اس پر غور نہیں کرتے اور یہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ سطح بہت بڑھنے کے بعد آپ کی نظر اس پر پڑتی ہے اور آج یہی ہورہا ہے" یہ الفاظ  ہندوستان کے سابق نائب  صدر جمہوریہ جناب حامد انصاری  کی جانب سے کئے گئے اس اظہار خیال سے متعلق ہیں جو انہوں نے نئی کتاب’’ڈیر آئی کوسچن‘‘کی رسم اجرا سے پہلے  ہندوستان میں بڑھتی مذہبی منافرت کے سلسلہ سے بیان کئے تھے ، آج اگر دیکھا جائے تو پانی کی سطح اوپر ہی نہیں ہو اٹھی ہے بلکہ ہر با ضمیر و آزاد اندیش انسان ایک بھیانک طوفان کو اپنے سامنے تیزی کے ساتھ بڑھتا دیکھ رہا ہے ، بہیمیت کا طوفان ، درندگی کا طوفان ، حیوانیت کا طوفان ،انتہا پسندی کا طوفان ، تشددکا طوفان ،قتل و غارت گری کا طوفان ، مذہبی جنون کا طوفان ،جہالت کا طوفان ، بربریت کا طوفان ،ہندوستان میں روز بروز بڑھتی عدم روادادی ،اور ہجومی تشدد کے بڑھتے واقعات اپنے آپ میں ایک  ایسے بڑھتے طوفان کی نشاندہی کر رہے ہیں جسکی جلد ہی روک تھام نہ کی گئی تو ہزاروں سالہ عظیم  تمدن اس طوفان کی نذر ہو جائے گا ۔
ہندوستان میں جس طرح کہیں گائے کے گوشت کو بہانا بنا کر بے گناہوں کا قتل ہو رہا ہے تو کہیں بچہ چوری کا الزام لگا کر بھیڑ کے ذریعہ لوگوں کی جان جا رہی ہے اسکے پیچھے صاف طور پر کچھ بھگوا عناصر کا رنگ نظر آتا ہے  جو کبھی ان تشدد آمیز کاروائیوں کی نہ صرف یہ کہ مذمت نہیں کرتے بلکہ کہیں ہجومی وارداتوں میں ملوث ملزمین کے گلوں میں مالائیں ڈالتے نظر آتے ہیں تو کہیں ان کی حمایت میں بولتے نظر آتے ہیں جسکی وجہ سے یہ شدت پسند افراد دندناتے گھوم رہے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے جبکہ حکومت میں بیٹھے بعض نابکاروں کی شہہ پر ہی انکا جنون اتنا بڑھ گیا ہے کہ جہاں دل چاہتا ہے وہاں گھس کر مار پیٹ کرتے ہیں جسکو چاہتے ہیں قتل کر دیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں  کہ" بھیڑ بے قابو ہو گئی تھی ہم کیا کر سکتے ہیں"؟ جبکہ بالکل واضح ہے لاٹھی اور ڈنڈوں سے لیس کوئی بھیڑ پل بھر میں جمع نہیں ہو جاتی اس کے لئے پہلے سے تمہیدات فراہم کرنا ہوتے ہیں ، اشتعال انگیز تقریریں ہوتی ہیں ، نفرت کے بیچ بوئے جاتے ہیں لوگوں کو اکسایا جاتا ہے اپنے کام کو مذہبی رنگ دیا جاتا ہے اسے تقدس کی رنگ میں رنگا جاتا ہے تب جا کر یہ مذہبی  دیوانے قانون ہاتھ میں لیتے ہیں اور کسی کا قتل ہوتا ہے۔
جہاں ہجومی تشدد اور قتل غارت گری پر اتاولی بھیڑ کی ایک چین نظر آتی ہے، ایک تسلسل دکھتا ہے اس طرح کے واقعات کا وہیں اگر عدالت عظمی کے فیصلے کو دیکھا جائے تو واضح طور پر اس کا فیصلہ ہے کہ " کسی بھی بھیڑ کو من مانی کی اجازت نہیں دی جا سکتی " چنانچہ عدالت نے اس سلسلہ سے قانون بنانے تک کی بات کہی ہے ۔ عدالت کا موقف واضح ہے کہ شہری امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری ریاستی انتظامیہ پر ہے ۔اور کسی بھی شخص کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں۔ خوف و ہراس، پھیلانے  لاقانونیت اور تشدد کا ماحول برپا کرنے والوں کیخلاف ریاستی حکومتوں کو ایکشن لینا چاہیے ۔اس عدالتی حکم کے باجود صورت حال اتنی خطرناک ہے کہ ذرایع کے مطابق گزشتہ  برسوں گئو رکشااور بچہ چورکے الزام  میں بھیڑنے کئی افراد کو زدوکوب کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق۲۰۱۲سے ۲۰۱۸کے دوران صرف گئو رکشا کے نام پر ۸۵واقعات ہوئے جن میں۳۳افراد کو بھیڑنے حملہ کرکے قتل کردیا  یہ اعداد و شمار کیا ایک بڑے طوفان کا پیش خیمہ نہیں ہیں جو مسلسل ہماری سماجی یگانگت کی تاراجی کی طرف بڑھ رہا ہے ؟ اور عجیب بات تو یہ ہے کہ اب گائے کے ساتھ ساتھ بچہ چوری کا معاملہ بھی اسی نہج پر ہے ، کہ بچہ چوری کے بہانے بے قابو بھیڑ جسے چاہتی ہے موت کے گھاٹ اتار دیتی ہے ، کتنا دردناک واقعہ اسی ہفتہ پیش آیا جب کرناٹک کے بیدر میں بچہ چوری کا الزام لگا کر ایک سافٹ ویئر انجینئر کا پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا گیا ۔کیا یہ قابل غور نہیں کہ پہلے تو گئو رکشا کے نام پر مسلمانوں اور دلتوں کو نشانہ بنایا گیا اور اب بچہ چوری کی افواہ پھیلا کر پیٹ پیٹ کر قتل کرنے کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
محض  ریاست مہاراشٹرا میں گزشتہ دو مہینوں  میں افواہ کی وجہ سے بھیڑ کے ذریعہ پیٹ پیٹ کر مار دینے کے ۱۴معاملوں میں ۱۰ لوگوں کی جان جا چکی ہے اور تو اور اب تو مرغی کے چوری کے الزام میں بھی قتل کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے چنانچہ کسی جگہ جب یہ خبر پڑھی تو دم بخود رہ گیا کہ ریاست کیرالا میں ایک مزدور کو مرغی چوری کرنے کے پاداش میں مشتعل بھیڑ نے اتنا پیٹا کہ وہ اسپتال پہنچ کر بھی زخموں کی تاب نہ لا سکا اور چل بسا  یہ سارے واقعات مسلسل ہو رہے ہیں اور مسلسل ان سے نپٹنے میں حکومت ناکام ہے ،  ہندوں کے مذہبی رہما و سماجی کارکن سوامی اگنیویش پر بھی ذرائع کے مطابق کچھ شدت پسندوں نے حملہ کیا ہے اور انہیں بری طرح زود کوب کیا گیا ہے  ایک ۸۰ سالہ بوڑھے انسان کو جسے دنیا میں امن و خیر سگالی کے قیام کی سلسلہ سے کوشش کرنے والے فعال و متحرک فرد کے طور پر پہچانا جاتا ہے ،جوخود ہندووں کے ممتاز مذہبی رہنما ہونے کے ساتھ ایک سماجی کارکن بھی ہیں ، کتنا افسوسناک ہے کہ ایک ایسے ضعیف العمر شخص کو بھی محض اس لئے نشانہ بنایا جاتا ہے کہ نظریاتی طور پر یہ فرد ہندو فرقہ پرست عناصر پر مسلسل تنقید کرتا رہا ہے ،اور انکے نظریات و افکار کو ہندو دھرم کے خلاف  سمجھتا ہے ، جبکہ اس حملے کا شکار ہونے کے بعد خود ان کے اپنے الفاط یہ تھے : "میں امن پرست انسان ہوں اور امن ہی کے سلسلہ سے کوششوں کے طور پر پہچانا جاتا ہوں مجھے نہیں معلوم ہے کہ ان لوگوں نے مجھے نشانہ کیوں بنایا ہے "؟ اس واقعہ کو ہوئے ابھی دو ہی دن ہوئے ہیں اورعین ممکن ہے یہ تحریر لکھے جانے تک اس قسم کے اور بھی واقعات رونما ہو چکے ہوں ، ایسے میں ہم سب کہ ذمہ داری ہے کہ سوچیں کہ اس قتل و غارت گری کے طوفان کو کس طرح روکا جائے اس کے لئے جسکا بھی دروازہ کھٹکھٹانا پڑے کھٹکھٹایا جائے  لوگوں کے اندر بیداری لائی جائے  اس لئے کہ اگر عدالت کی جگہ کسی بھی جرم کا فیصلہ بھیڑ کرنے لگے تو ملک کے نظم و نسق کا کیا ہوگا اسکا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا ، تعجب کی بات ہےان  حساس مسائل میں جنکا تعلق عمومی نظم و انصرام سے ہے حکومت خاموش تماشائی بنی نظر پڑتی ہے اور جس سختی کے ساتھ اسے نبٹنا چاہیے ان عناصر سے نہیں نبٹ رہی ہے جو ملک کی سالمیت کے لئے ایک ایسا خطرہ بن رہے ہیں جسکو ہم جدید مذہبی سفاکیت کا نام دے سکتے ہیں کیا  مقام فکر نہیں کہ حکومت کی جانب سے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا جا رہا ہے اور جیسے جیسے الیکشن نزدیک آ رہے ہیں ویسے ویسے  اور بھی مذہبی منافرت کا زہر گھولا جا رہا ہے ایک طرف حکومت ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی محض کاغذی کاروائیوں  میں لگی ہے  جبکہ طوفان خوف و دہشت مسلسل بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے ، وہ دن دور نہیں جب  یگانگت و باہمی رواداری و بقاء بقاہمی کی مثال دئے جانے والے ملک کا تعارف ہجومی تشدد کے طوفانوں سے کیا جائےگا۔




 
 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Dec 13