Tuesday - 2018 Nov 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194615
Published : 23/7/2018 18:18

ہم کس طرح اپنے وقت کے امام سے رابطہ رکھیں؟

اسی قانون کی بنیاد پر انسان کو حضرت سے ملاقات کرنے پر اصرار کرنے سے بہتر ہے کہ وہ کام انجام دیں جن سے حضرت راضی رہیں۔اور ہماری ساری کاوشیں حضرت سے معنوی رابطہ برقرار رکھنے پر مرکوز ہوں۔اور اس کام میں خود حضرت(عج) سے مدد طلب کریں۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام!  حضرت امام زمانہ(عج) سے ملاقات کرنا ایک شرف ہے اور ایک شیعہ کی سب سے بڑی آرزو یہی ہوتی ہے کہ کسی صورت مجھے اس چہرہ پر جمال کا دیدار ہوجائے۔لیکن حضرت سے ملاقات اور آپ سے رابطہ کو صرف اسی ظاہری ملاقات میں خلاصہ نہیں کیا جاسکتا۔پس حضرت سے ملاقات کے یہ دو طریقے ہوسکتے ہیں:
۱۔حضرت سے ظاہری رابطہ اور آپ کے حضور آپ کی زیارت سے مشرف ہونا۔اس طرح کہ انسان کی آنکھیں آپ کے جمال پُر نور سے منور ہوں۔
۲۔امام زمانہ(عج) کے ساتھ معنوی رابطہ،اس طرح کہ چشم دل ہمیشہ آپ کے نشان قدم کی جانب مرکوز رہے۔
حضرت صاحب العصر(عج)  کی ملاقات کے بارے میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ آپ کے حضور زیارت کا شرف بہت سی بزرگ ہستیوں کو مل چکا ہے۔ لیکن غیبت کبرٰی کے زمانہ میں قانون اصلی تو یہی ہے کہ آپ(عج) لوگوں کی نظروں سے غائب رہیں لہذا ہمارے دل میں ملاقات کی تمنا سے آپ کی ملاقات میسر نہیں ہوسکتی بلکہ اس امر کا تعلق خود سرکار ولی عصر(عج) کی رضا پر منحصر ہے کہ آپ بھی کسی سے ملاقات کرنے میں مصلحت سمجھیں۔
لہذا اسی قانون کی بنیاد پر انسان کو حضرت سے ملاقات کرنے پر اصرار کرنے سے بہتر ہے کہ وہ کام انجام دیں جن سے حضرت راضی رہیں۔اور ہماری ساری کاوشیں حضرت سے معنوی رابطہ برقرار رکھنے پر مرکوز ہوں۔اور اس کام میں خود حضرت(عج) سے مدد طلب کریں، چنانچہ قرآن مجید سورہ آل عمران کی 200 ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے:’’ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اصْبِرُواْ وَصَابِرُواْ وَرَابِطُواْ وَاتَّقُواْ اللّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ‘‘۔اے ایمان والو صبر کرو.صبر کی تعلیم دو.جہاد کے لئے تیاری کرو اور اللہ سے ڈرو شاید تم فلاح یافتہ اور کامیاب ہوجاؤ۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام اس آئیہ کریمہ کی تفسیر کے بارے میں فرماتے ہیں کہ:یعنی تم صبر کرو، فرائض کے انجام دینے پر،یعنی الہی احکام کی بجا آوری کے لئے استقامت و ثبات قدم کا مظاہرہ کرو،اور دشمن کے مقابل پایدری کا ثبوت دے کر اپنے اس امام سے رابطہ مستحکم کرو جس کا تم لوگ انتظار کررہے ہو۔(تفسير قمي، ج1، ص129)
ظاہر سی بات ہے کہ امام وقت سے مسلسل رابطہ کے سبب ہی ممکن ہے کہ انسان حجت خدا سے کئے گئے عہد و پیمان پر باقی رہے اور ہمیشہ اپنے امام  کے بتائے ہوئے اصول پر چل کر خود کو عقیدتی و عملی انحراف سے بچا پائے۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Nov 20