Monday - 2018 Nov 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194616
Published : 23/7/2018 18:45

غربت کے خاتمہ کے لئے لبنان میں امام موسٰی صدر کی کاوشیں

پروفیسر سید کاظم صدر کے بقول: جب امام موسٰی صدر لبنان گئے صرف ایک خیراتی ادارہ موجود تھا جس کی تمام کارکردگی تعطل کا شکار تھیں چنانچہ آپ نے اس ادارے کو از سر نو فعال کیا اور اس کے لئے جدید انتظامیہ تشکیل دی ۔ اس زمانہ میں لبان کے شیعوں میں گدائی کرنا اور بھیک مانگنا رائج ہوچکا تھا لہذا آپ نے اس بری عادت سے لوگوں کو نجات دلائی۔

ولایت پورٹل: تہران کے معروف علمی و اقتصادی مرکز شہید بہشتی یونیورسٹی میں’’فکر و عمل‘‘ نامی 50 واں اجلاس  منعقد ہوا جس کا عنوان لبنان میں شیعوں کے اقتصادی حالات اور امام موسٰی صدر کی کاوشیں گفتگو و تحقیق کا موضوع قرار پائیں ۔اس اہم اجلاس میں یونیورسٹی کے معروف پروفیسر اور ماہر اقتصاد خود امام موسیٰ صدر کے بھتیجے سید کاظم صدر مہمان خصوصی کے حیثیت سے تشریف لائے  جنہوں نے لبنان کے پسماندہ اور غربت افلاس زدہ شیعہ علاقوں میں امام موسٰی صدر کی کاوشوں کی تفصیل اور اقدامات کے متعدد گوشے پیش کئے جس کا خلاصہ ذیل میں رقم کیا جاتا ہے۔
لبنان کے شیعوں میں انسانی سرمایہ کے استحکام پر توجہ
پروفیسر سید کاظم صدر نے امام موسٰی صدر کے اقتصادی منصوبہ جات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا :میں سب سے پہلے آپ لوگوں(حاضرین) سے یہ معلوم کرنا چاہوں گا کہ اگر کوئی شخص ایشیاء کے کسی ایسے ملک میں ۔ کہ جہاں شیعہ آباد ہوں اور ان میں اکثر ابتری اور فقیر میں گذر بسر کررہے ہوں ۔کسی اقتصادی منصوبے کو جامہ عمل پہنانا چاہے تو وہ کیا کرسکتا ہے ۔اگر ہم اس سوال کا صحیح جواب پالیں گے تو ہمیں امام موسٰی صدر کی شخصیت کا اندازہ ہوگا کہ انہوں نے کتنا بڑا کام کیا ہے۔
پرفیسر سید کاظم صدر نے خود ہی اپنے اٹھائے ہوئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا:جب امام موسٰی صدر لبنان گئے وہ خالی ہاتھ تھے لیکن ایسے اہم اقدامات انجام دیئے اور انسانی سرمایہ کی وقعت اور ان کی تربیت کے لئے ایسے مراکز کا قیام عمل میں لائے جن سے نہ صرف لبنان کی شیعہ قوم بلکہ ہر لبنانی مستفید ہوا ،آپ نے لوگوں کے درمیان تعاون،اعتماد،پر امن زندگی کا وہ تصور پیش کیا اور اس کو عملی جامہ پہنایا جس کی مثال لبنان کی سابق تاریخ میں نہیں ملتی۔
پروفیسر سید کاظم صدر نے بیان کیا کہ: انسانی سرمایہ کو کسی مقصد تک پہونچانے اور کسی معاشرے کے حوالہ کرنے کے لئے تعلیم ایک ناگزیر امر ہے لہذا انہوں نے اپنے کام کا آغاز مدارس اور علمی مراکز کہ جو لبنان میں بہت پہلے سے موجود تھے لیکن خستہ حالت میں تھے انہیں ایک نظام دیا اور ساتھ ہی آپ نے غریب ونادار لوگوں کے لئے ایسے خیراتی ادارے قائم کئے جو ان پر توجہ کرسکیں،بلکہ آپ نے تعمیری و فلاحی کاموں کے لئے بھی  بہت سے سسٹم بنائے چونکہ اسرائیلی حملات کے بعد لبنان کا جنوبی حصہ پوری طرح تباہ ہوچکا تھا اسے بنانے اور تعمیر کرنے کی ضرورت تھی اور ساتھ ہی ایک ایسا ادارہ قائم کیا جس کی وساطت سے لبنان کے شیعہ حکومت سے ملنی والی اپنی تمام سہولتوں کی بازیابی کے لئے کوشش کرسکیں۔
پروفیسر سید کاظم صدر نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ امام موسٰی صدر نے کس طرح لبنان میں ایک دفاعی سسٹم ایجاد کیا کہا:جب امام موسٰی صدر لبنان گئے اس وقت لبنان میں ایک طرف تو خانہ جنگی تھی اور دوسری طرف اسرائیل کی طرف سے ہر روز دھمکیاں دی جارہی تھیں اور جنوبی لبنان کے شیعہ بے دریغ کچلے جارہے تھے لہذا انہوں نے ایک مضبوط دفاعی سسٹم کے وجود کی داغ بیل ڈالی جو ایک اہم قدم تھا اور اس کے سبب لبنان میں شیعوں کو آگے بڑھنے کے بہتر مواقع ہاتھ آئے۔
لبان میں گدائی سے مقابلہ
پروفیسر سید کاظم صدر کے بقول: جب امام موسٰی صدر لبنان گئے صرف ایک خیراتی ادارہ موجود تھا جس کی تمام کارکردگی تعطل کا شکار تھیں چنانچہ آپ نے اس ادارے کو از سر نو فعال کیا اور اس کے لئے جدید انتظامیہ تشکیل دی ۔ اس زمانہ میں لبان کے شیعوں میں گدائی کرنا اور بھیک مانگنا رائج ہوچکا تھا لہذا آپ نے اس بری عادت سے لوگوں کو نجات دلائی۔
اپنی تقریر کے آخر میں امام موسٰی صدر کے بھتیجے سید کاظم صدر  لبنان میں اس عظیم مجاہد و قائد کے اقتصادی منصوبہ جات کی طرف اشارہ کیا اور کہا:آپ نے ضرورتمندوں کے لئے کام پیدا کئے اور برو احسان نامی خیراتی ادارے کی جانب سے انہیں کچھ مراعات مہیا کرائیں،آپ کا یہ اقدام لوگوں میں بہت مقبول ہوا، اسی طرح آپ نے یتیموں کی کفالت سے متعلق اقدامات کئے اور یتیم بچوں کی پہچان کی گئی اور ایک دار الایتام کا قیام عمل میں لایا گیا،بچوں کے لئے علمی مراکز، خواتین کے لئے نرسنگ سیکھنے کے سینٹرز،مدرسہ المھدی، جبل عامل کا ٹیکنیکل کالج وغیرہ یہ وہ سب اقدامات تھے جنہیں لبنان میں شیعوں کے ان اقتصادی منصوبہ جات میں دیکھا اور گنا جاتا ہے جن کی داغ بیل خود امام موسٰی صدر نے اپنے بابرکت ہاتھوں سے ڈالی تھی۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Nov 19