Tuesday - 2018 Nov 13
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194634
Published : 24/7/2018 17:39

ابن تیمیہ کا مقدس مقامات کی زیارت کو سفر حج سے تشبیہ دے کر شیعوں پر الزام

شیعوں کی نظر میں حج صرف خانہ خدا، بیت اللہ الحرام کا حج ہے جو مکہ معظمہ میں ہوتا ہے اور اس کے علاوہ کسی چیز کو حج کے برابر اور حج کی جگہ نہیں مانتے اور یہ ان مسلم چیزوں میں سے ہے کہ اگر کوئی شخص ذرہ برابر بھی فقہ شیعہ سے باخبر ہو ، تو اس پر یہ بات مخفی نہیں ہوگی اور دوسرے مقامات کو خانہ کعبہ کی جگہ قرار دینا اور وہاں حج کی طرح اعمال بجالانا ان لوگوں کے ذریعہ ایجاد ہوا ہے جو شیعوں کے مخالف اور شیعوں کے دشمن شمار ہوتے ہیں۔

ولایت پورٹل:ابن تیمیہ کاکہنا ہے: مقدس مقامات کی طرف سفر کرنا حج کی مانند ہے ، ہر وہ امت جن کے یہاں حج کا تصور پایا جاتا ہے جیسے عرب کے مشرکین لات وعزّیٰ ومنات اور دوسرے بتوں کی طرف حج کے لئے جایا کرتے تھے، لہٰذا اس طرح کے روضوں کی طرف سفر کرنا گویا حج کرنے کی طرح ہے جس طرح مشرکین اپنے خداؤں کے پاس حج کے لئے جاتے تھے۔(۱)
بدعتی لوگ انبیاء اور صالحین کی قبور کی طرف بعنوان حج جاتے ہیں ، ان کی زیارت کرنا شرعی جواز نہیں رکھتا، جس سے ان کا مقصد صاحب قبر کے لئے دعا کرنا ہو، بلکہ اس زیارت سے ان کا مقصد صاحب قبر کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہوتاہے کہ وہ حضرات خدا کے نزدیک عظیم مرتبہ اور بلند مقام رکھتے ہیں اور ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ صاحب قبر کو نصرت اور مدد کے لئے پکاریں، یا ان کی قبروں کے پاس خدا کو پکاریں، یا صاحب قبر سے اپنی حاجتیں طلب کریں۔(۲)
جو لوگ قبور کی زیارت کے لئے جاتے ہیں (یا ابن تیمیہ کے بقول :  قبروں پر حج کے لئے جاتے ہیں) تو ان کا قصد بھی مشرکین کے قصد کی طرح (عبادت مخلوق، یعنی بتوں کی پوجا) ہوتا ہے اور وہ بتوں سے وہی طلب کرتے ہیں جو اہل توحید (مسلمان) خدا سے طلب کرتے ہیں۔
شیعوں کا مقامات مقدسہ کی زیارت پر جانا اور ابن تیمیہ کی الزام تراشی
شیعوں کے بارے میں ابن تیمیہ کا کہنا ہے: کفار و مشرکین جو اپنے مقدس مقامات پر جانے کے لئے سفر کرتے ہیں، اور یہی ان کا حج ہے اور قبر کے نزدیک اسی طرح خضوع و تضرع کرتے ہیں جس طرح سے مسلمان خدا کے لئے کرتے ہیں، اہل بدعت اور مسلمانوں کے گمراہ لوگ بھی اسی طرح کرتے ہیں، چنانچہ ان گمراہ لوگوں میں  رافضی بھی اسی طرح کرتے ہیں کہ اپنے اماموں اور بزرگوں کی قبور پر حج کے لئے جاتے ہیں، بعض لوگ ان سفروں کے لئے اعلان کرتے ہیں اور کہتے ہیں آئیے حج اکبر کے لئے چلتے ہیں، اور اس سفر کے لئے علمِ حج ساتھ لیتے ہیں اور ایک منادی کرنے والا حج کے لئے دعوت دیتا ہے اور اسی طرح کا علم اٹھاتے ہیں جس طرح مسلمان حج کے لئے ایک خاص علم اٹھاتے ہیں، یہ فرقہ مخلوق خدا کی قبور کو حج اکبر اور حج خانہ خدا کو حج اصغر کہتا ہے۔(۳)
ابن تیمیہ ایک دوسری جگہ پر ان موارد کا ذکر کرتا ہے جن میں بعض افراد کچھ مقدس مقامات کے سفر کو سفر حج کی طرح مانتے ہیں، لیکن وہاں یہ ذکر نہیں کرتا کہ یہ لوگ کس مذہب کے پیرو ہیں اور کس فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں، منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ وہ لوگ اس مقام پر جاتے ہیں جہاں پر کوئی ولی اللہ اس زمین پر نازل ہوا ہے وہاں پر حج کے لئے جاتے ہیں اور حج کی طرح احرام باندھتے ہیں اور لبیک کہتے ہیں ،جیسا کہ مصر کے بعض شیوخ مسجد یوسف میں حج کے لئے جاتے ہیں اور احرام کا لباس پہنتے ہیں اوریہی شیخ زیارت پیغمبر اکرم(ص) کے لئے بعنوان حج جاتا ہے اور وہاں سے مکہ معظمہ بھی نہیں جاتا کہ اعمال حج بجالائے اور مصر واپس پلٹ جاتا ہے۔(۴)
ابن تیمیہ کے الزامات کی حقیقت اور ان کا رد
بارہا یہ بات کہی جاچکی ہے کہ شیعوں کی نظر میں حج صرف خانہ خدا، بیت اللہ الحرام کا حج ہے جو مکہ معظمہ میں ہوتا ہے اور اس کے علاوہ کسی چیز کو حج کے برابر اور حج کی جگہ نہیں مانتے اور یہ ان مسلم چیزوں میں سے ہے کہ اگر کوئی شخص ذرہ برابر بھی فقہ شیعہ سے باخبر ہو ، تو اس پر یہ بات مخفی نہیں ہوگی اور دوسرے مقامات کو خانہ کعبہ کی جگہ قرار دینا اور وہاں حج کی طرح اعمال بجالانا ان لوگوں کے ذریعہ ایجاد ہوا ہے جو شیعوں کے مخالف اور شیعوں کے دشمن شمار ہوتے ہیں۔ ان میں سے تیسری صدی کے مشہور ومعروف مورخ یعقوبی کے مطابق عبد الملک بن مروان ہے کہ،جب عبد اللہ ابن زبیر کے ساتھ اس کی جنگ ہوتی ہے تو وہ شام کے لوگوں کو حج سے منع کردیتا ہے کیونکہ عبد اللہ ابن زبیر شامی حجاج سے اپنے لئے بیعت لے رہے تھے ، یہ سن کر لوگوں نے چلانا شروع کیا اور عبد الملک سے کہا کہ ہم لوگوں پر حج واجب ہے اور تو ہمیں حج سے روکتا ہے؟ تو اس وقت عبد الملک نے جواب دیا کہ یہ ابن شہاب زہری ہے جو آپ حضرات کے سامنے رسول اللہ کی حدیث سناتے ہیں:’’ لاٰ تُشَدُّ الرِّحَالُ اِلاّٰ اِلیٰ ثَلاٰثَۃِ مَسَاجِدَ: اَلْمَسْجِدُ الْحَرَامُ وَمَسْجِدِیْ وَمَسْجِدُ بَیْتُ الْمُقَدَّسْ (مسجد اقصیٰ)‘‘۔ان تین مسجدوں کے علاوہ کسی دوسری مسجد کے لئے رخت سفر نہیں باندھا جاسکتا: مسجد الحرام، مسجد النبی، مسجد اقصیٰ، لہٰذا مسجد اقصیٰ مسجد الحرام کی جگہ واقع ہوگی اور یہ صخرہ (بڑا اور سخت پتھر) جس پر پیغمبر اکرم(ص) نے معراج کے وقت اپنے پیر رکھے تھے خانہ کعبہ کی جگہ ہے۔
اس کے بعد اس نے حکم دیا کہ اس پتھر پر ریشمی پردہ لگایا جائے (خانہ کعبہ کے پردہ کی طرح) اور وہاں کے لئے خادم اور نگہبان (محافظ) معین کردیئے گئے اور جس طرح خانہ کعبہ کا طواف کیا جاتا ہے اسی طرح اس پتھر کا بھی طواف ہونے لگا اور جب تک بنی امیہ کا دور رہا یہ رسم برقرار رہی۔(۵)
اور جیسا کہ معلوم ہے کہ عبد الملک بن مروان کی یہ یادگار بنی امیہ کے ختم ہونے کے بعد بھی صدیوں رائج رہی، چنانچہ ناصر خسرو پانچوی صدی کا مشہور ومعروف سیّاح شہر بیت المقدس کی اس طرح توصیف کرتا ہے: بیت المقدس کو اہل شام اور اس کے اطراف والے قدس کہتے ہیں اور اس علاقہ کے لوگ اگر حج کے لئے نہیں جاسکتے تو اُسی موقع پر قدس میں حاضر ہوتے ہیں اور وہاں توقف کرتے ہیں اور عید کے روز قربانی کرتے ہیں، یہی ان کا وطیرہ ہے، ہر سال ماہ ذی الحجہ میں وہاں تقریباً بیس ہزار لوگ جمع ہوتے ہیں اپنے بچوں کو لے جاتے ہیں اور ان کے ختنے کرتے ہیں۔(۶)
ان ہی لوگوں میں متوکل عباسی بھی ہے (یہ وہی متوکل ہے جس نے روضہ امام حسین(ع) پر پانی چھوڑا تاکہ قبر کے تمام آثار ختم ہوجائیں) اس نے شہر سامرہ (عراق) میں خانہ کعبہ بنوایا اور لوگوں کو حکم دیا کہ اس کا طواف کریں اور وہیں دو مقامات کا ’’ منیٰ‘‘ و’’عرفات‘‘ نام رکھا اس کا مقصد یہ تھا کہ فوج کے بڑے بڑے افسر حج  پر جانے کے لئے اس سے جدا نہ ہوں۔(۷)
یہ تھے دو نمونے، اگر ان کے علاوہ کوئی ایسا مورد پایا جائے تو وہ بھی انھیں کی طرح ہے اور کبھی کوئی ایسا واقعہ رونما نہیں ہوا جس میں کسی شیعہ مذہب کے ماننے والے نے اس طرح کا کوئی کارنامہ انجام دیا ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔الرد علی الاخنائی،ص۵۷
۲۔الرد علی الاخنائی،ص۵۹
۳۔الجواب الباہر فی زوار المقابر،ص۳۷ ،۳۸
۴۔کتاب الرد علی الاخنائی،ص ۱۵۹،صاحب فتح المجید ص ۴۹۹ پر رقمطراز ہیں: بعض لوگ جو قبور کا حج کرتے ہیں اپنے حج کو کامل کرنے کے لئے تقصیر  کرتے ہیں اور اپنا سر منڈواتے ہیں ، لیکن موصوف نے بھی یہ نہیں بیان کیا کہ یہ کون لوگ ہیں کس فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور کہاں کے رہنے والے ہیں۔
۵۔تاریخ یعقوبی،ج۲،ص ۲۶۱
۶۔سفرنامہ ناصر خسرو،ص۲۴
۷۔احسن التقاسیم،ص۱۲۲




























آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Nov 13